اولاد حسین اسلامک اکاڈمی توپسیا میں۳۲ویں سالانہ تقریب کا جشن اہتمام کے ساتھ منا یا گیا

کولکاتا (ملت ٹائمز آصف پر ویز )
اولاد حسین اسلامک اکاڈمی سر زمین ِتو پسیاکا مشہور و معروف ادارہ ہے ۔ اسکول کے سالانہ جلسہ کے پر مسرت موقع پر آج ایک شاندارتقریب بعنوان ” آﺅ دیس سنواریں “، اسکول کے میدان میںبحسن و خوبی اختتام پذیر ہوئی ۔جس میں گارجین حضرات ،اساتذہ کرام و دیگر معزز حضرات نے شرکت فرمائی ۔ علاوہ ازیں جلسے کے مہمانِ خصوصی علاقے کے ایم ۔ایل۔ اے اورریاستی وزیر عزت مآب جنا ب جا وید احمد خاں صاحب اس پر رونق بزم میں جلوہ افروز تھے جبکہ محترمہ نو رجہاں شکیل ،صدر آل بنگال مسلم وومن ایسویشن نے جلسے کی صدارت کی ۔ جلسے کا آغاز درجہ اول کے طالب علم نے تلاوتِ کلام پا ک سے کیا ۔بعدہ درجہ ہشتم کے ایک طالب علم نے اردو تقریر بعنوان ” جد و جہد آ زادی اور مسلمان “پیش کی۔ درجہ نہم کی طا لبہ نے دورِ حاضرکے سیا سی حالات پر ایک پر مغز تقریر سامعین کے گوشگزار کیا ۔ بعد اس کے اسکول کی ہیڈ مسٹریس ڈاکٹر نیلم با نوصا حبہ نے اسکول کی تعلیمی معیار اور ضروری امور سے متعلق گارجین کو توجہ دلا ئی ۔عشا ءکی نماز کے بعد پروگرام کے دوسری نشست کا آغاز ہوا ۔ جس میں طلبا ءطا لبات کے گروپ نے بعنوان ” آخر کب “ بموضوع اعلیٰ تعلیم کے حصول میں اسکول کی کمی ، ڈرامہ پیش کیا۔ بعد ازاں طلبا ء طا لبات نے ایک تمثیلی مشاعرہ پیش کرکے سماں باندھ دیا ۔ دیگر پروگرامو ںمیں حمدیہ نظم ، نعت ، لطائف، فینسی ڈریس پروگرام وغیرہ شامل تھے ۔پھر طلباءنے کو رس کی شکل میں اسکول کا ترانہ ©©” یہ گلشن علم و دانش ہے“ترنم میں پیش کر کے اس پر مسرت بزم کو رونق بخشی ۔ نظامت کے فرائض درنہم کے طالب علم محمدپرویز حسین نے بحسن و خوبی انجام دیا۔بالفاظ دیگر طلباءو طا لبات نے اپنے مختلف النوع پروگراموں کے ذریعہ تعلیم کی اہمیت و افادیت ، قومی یکجہتی، عالمی امن و بھائی چارہ و انسانی ترقی پیش کر کے سامعین و نا ضرین کے دل جیت لےے ۔ اس کے بعد اسکول ہذا کے سیکریٹری جاوید احمد صاحب نے اسکول کی سالانہ رپورٹ پیش کی جس کے بعد سیکریٹری صاحب نے کہا توپسیا میں ایک بھی ہائر سکندری اسکول نہیں جبکہ ہمارے اسکول کے پاس توپسیا کے دیگر اسکولوں سے بہتر تمام انفرا اسٹرکچر مو جود ہیں تو ہم امید کر تے ہیں آنے والے سالو ںمیں اسے بتدریج ہائر سکنڈری اسکول کا درجہ مل جا ئے گا۔ مزید کہا کہ آبا دی کے لحا ظ سے ہو نا تو یہ چا ہییے تھا کہ یہا ں کئی ہائر سکندری اسکول ہو تے ،لیکن ایک بھی ہائر سکندری اسکول نہیں ہے یہاں کے طلباءاور بلخصوص طالبات کو نہایت تکلیف سے دوچار ہو نا پڑ تا ہے اور غریب گا رجین حضرات کے ان کی آ مد رفت اور دیگر اخراجات کا خرچ برداشت نہ کر نے کی وجہ سے یہ طلباءو طالبات اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جا تے ہیں ۔اس مو قع پر مہمانِ خصوصی عزت مآب وزیر جنا ب جا وید احمد خاں صاحب نےکہا کہ یہ ممتا بنرجی ہی کی سرکار تھی جس نے اس اسکول کو منظوری دی ۔مزید اولاد حسین اسلامک اکاڈمی کوہائر سکندری تک کا درجہ دئے جا نےکے سلسلے میں ہر ممکن مدد کا یقین دلا یا اور علا قے کے بچوںکے لئے ایک کالج قائم کئے جا نے سے متعلق ضروری امور پر بھی اپنینیک خواہشات کا اظہار کیا ۔ اس بات پر زور دیا کہ معاشرے کی اصلاح کے لئے تعلیم کو ذریعہ بنا یا جا ئے ۔ممتا بنرجی سرکار تعلیمی اور اقلیتوں کی ترقی کے لئے اپنے ابتدائی دور سے ہی کوشاں ہے مزید پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے اپنی بات مکمل کی ۔ محترمہ نو رجہاں شکیل نے تمام بچو ں کی حوصلہ افزا ئی کر تے ہو ئے آئندہ بھی اسکول کے پرو گرام میں شرکت کی یقین دہا نی کرا ئی آخر میں اسکول ہذا کے استاذمحمد ندیم اللہ نے تمام مہمانا ن اور حاضرینِ مجلس کا شکریہ ادا کیا ۔اس نشست کی نقابت ٹیچر انچارج کو ثر علی نے بحسن خو بی انجام دی ۔گلز سیکشن کی ٹیچر انچارج محترمہ نسرین آرا کی نگرانی میں پروگرام بحسن خوبی اختتام پزیر ہوا۔