مالیگاو¿ں(ملت ٹائمز)
مشہورنیوز چینل آج تک کے اینکر روہت سردانا نے اپنی خباثتِ باطنی و اسلام دشمنی میں بدترین تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت فاطمہ اور حضرت مریم رضی اللہ عنہن کی شان میں توہین آمیز ریمارک دیا۔ عمومی فحش کلامی کے طرز پر اسلام کی ان مقدس و آئیڈیل خواتین مطہرہ کی شان میں اظہار خیال یقینی طور پر اسلام دشمنی بھی ہے اور انسانی احترام سے کھلواڑ بھی جسے کوئی سنجیدہ انسان ہرگز برداشت نہیں کر سکتا۔ جمہوری ملک میں اس طرح کی دل آزاری کے باوجود حکومت کی ایسے افراد پر کارروائی سے چشم پوشی افسوس ناک ہے۔ اس طرح گستاخی و توہین کی جرا¿ت بڑھتی جا رہی ہے اور متشدد سوچ کو بڑھاوا مل رہا ہے۔ ایسا بیان نوری مشن نے جاری کیا اور کہا کہ ایسی توہین کی جرا¿ت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نوری مشن نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ حکومت نے اس سے قبل بھی آشو پریہارجیسی گستاخ خاتون پر بھی کوئی کارروائی نہیں کی جس کے خلاف ملک کے کئی شہروں میں ایف آئی آر درج ہے۔نوری مشن نے خود مالیگاو¿ں میں ایف آئی آر درج کروائی تھی جس پر ہنوز خاموشی ہے۔ ایسے ہی سونو نگم نے اذان کے خلاف ریمارک دیا تھا اسے بھی یوں ہی آزاد چھوڑا گیا۔ جمہوری اقدار کی پامالی سے بے ادبی و توہین کی ذہنیت کو شہ مل رہی ہے۔ نوری مشن نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ اسلام کی پاکیزہ خواتین حضرت سیدہ عائشہ، حضرت سیدہ فاطمہ، حضرت مریم کی شفاف زندگیاں برائیوں کے خلاف پاکیزگی کا استعارہ ہیں۔ ان کی توہین انسانیت پر حملہ ہے اس لیے آج تک اینکر سردانہ کو گرفتار کیا جائے اور ملکی قوانین کی سخت دفعات عائد کر کے مستقبل میں ایسی حرکت کا ارتکاب نہ ہو سکے اس کی راہ ہموار کی جائے۔ایسا بیان نوری مشن مالیگاو¿ں نے جاری کیا۔





