دیوبند(ملت ٹائمزسمیر چودھری)
کچھ ٹی وی چینلوں کے مباحثوں کے دوران حضرت عائشہ صدیقہؓاور حضرت فاطمہ زہرہؓ کی شان اقدس میںگستانہ کلمات کہے جانے پر دارالعلوم دیوبند نے سخت رد عمل کااظہا رکرتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ اظہار رائے کی حدیں متعین کی جائیں اور کسی بھی مذہبی طبقہ کے اکابر کے خلاف گالی گفتار یا بدکلامی کو قانونی جرم قرا ردیا جائے ۔آج یہاں جاری ایک بیان میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہاکہ آج ایک اخبار کے ذریعہ معلوم ہواکہ چند ٹی وی چینلوں پر دوران مباحثہ حضرت عائشہؓاور حضرت فاطمہ زہرہؓ کی شان میں ہتک آمیز الفاظ ا ستعمال کئے ، بلاشبہ یہ عمل تمام مسلمانان عالم کے لئے شدید دل آزادی کا سبب ہے۔ مہتمم دارالعلوم نے کہاکہ مسلمانوںکے ساتھ ساتھ دیگر برادران وطن کوبھی اس حقیقت کا علم ہونا چاہئے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرامؓ کو چاند ستاروں سے تشبیہ دی ہے،اہل بیت اور جملہ صحابہ کرامؓ ہمارے دین کی اساس و بنیاد ہیں،ان میں کسی ایک کی بھی شان میں گستاخی گناہ عظیم ہے اور سب و شتم توکفرتک لے جاسکتاہے۔انہوں نے کہاکہ مسلمان کسی بھی حالت میں صحابہ کرام اور اہل بیت کی کی توہین و ہتک برداشت نہیں کرسکتے،معمولی ایمانی حرارت رکھنے والا بھی صحابہ کرام ؓکی شان میں ادنیٰ درجہ کی گستاخی براداشت نہیں کرسکتا،عظمت صحابہ کا لحاظ رکھنا جزءایمان ہے۔اسلئے ہم ان تمام چینلوں اور افراد کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جنہوںنے حضرت عائشہ صدیقہؓاور حضرت فاطمہ زہرہؓکی شان میںنازیبا کلمات کہے اور ہتک عزت کی،ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مسلمانوں کے جذبات اور احساسات کااحترام کرتے ہوئے ایسے چینلوںاور افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہاکہ حکومت کو چاہئے کہ وہ اظہار رائے کی حدیں متعین کرے اور کسی بھی مذہبی طبقہ کے اکابر کے خلاف گالی گفتار یا بدکلامی کو قانونی جرم قرا ردیا جائے ۔





