بنگلور23 نومبر(ملت ٹائمز محمد فرقان )
علماءکو جیلوں میں لے جاکر پھر امت میں بھیجنا یہ بھی اللہ کے شفقت میں سے ایک شفقت ہے۔ جو حالات پیش آئے وہ مقدر کا فیصلہ تھا جسے کوئی نہیں ٹال سکتا، اللہ کی اسمیں کوئی مصلحت ہوتی ہے۔ ان باتوں کا اظہار خیال زبیدہ مسجد میں منعقد آیت کریمہ اور ختم قرآن کی محفل میں عوام کو خطاب کرتے ہوئے شاہ ملت مولانا سید انظرشاہ صاحب قاسمی نے جیل میں گزارے اپنے پونے دو سال کی مختصر روداد بیان کرتے ہوئے کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ جس طرح قبر کی حالات کو مردہ جانتا ہے اسی طرح جیل کے بارے میں کتنا بھی معلومات حاصل کرلیں لیکن جیل کے حالات کو قیدی ہی جانتا ہے۔ شاہ ملت نے فرمایا کہ میں اللہ کی قسم کھا کر یہ کہتا ہوں کہ آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر جیل سے بڑکر کوئی آزمائش یا امتحان کی جگہ نہیں ۔
مولانا انظر شاہ قاسمی نے حدیث شریف کا حوالہ دیکر کہا کہ جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال سے پناہ مانگی ہے وہیں جیل سے بھی پناہ مانگی ہے۔ مولانا نے سامعین سے کہا کہ آپ کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ کہ اللہ نے آپ کو جیل کے فتنے سے بچایا ہے۔ ورنہ آپ ان قیدی مظلوم بھائی کے گھر والوں سے پوچھئے کہ ان پر کیا گزر رہی ہے۔مولانا قاسمی نے کہا کی دہلی کے چڑیا گھر میں جو جانور ہیں انکا بھی سردی اور گرمی کے دنوں میں خیال رکھا جاتا ہے لیکن یہ ظالم قوم جیل میں بے قصور مظلوموں کا خیال نہیں کرتی ۔ اسکے ساتھ اور مزید کہا کہ جیل کی زندگی سے موت لاکھوں درجے بہتر ہے۔مولانا شاہ نے کہا کی اگر اسلام میں خودکشی جائز ہوتی تو آپکو یہ خبر کبھی نہ ملتی کہ کوئی جیل سے رہا ہوا ہے بلکہ آپ کو یہ خبر ملتی کہ جیلوں سے صرف لاشیں ہی نکلی ہے۔
شاہ ملت نے فرمایا کہ جیل میں جو کھانا دیا جاتا ہے بس اتنا سمجھئے کہ آدمی موت سے بچھ جاتا ہے۔ کورٹ میں جو ملنے آتا ہیں انکو ہم گلے تک نہیں لگاسکتے۔ ہمیں شکر منانا چاہیے کہ اللہ نے ہمیں آزادی کی نعمت دی بیوی بچے ماں-باپ کی نعمت دی، سوکھی روٹی ہی صحیح لیکن آزادی کی زندگی دی۔مولانا انظر شاہ قاسمی نے کہا کہ دنیا میں بہت سارے تنظیمیں ہیں جو انسانیت کی خدمات کرتی ہے لیکن جیل میں بند امت کا وہ مظلوم ترین طبقہ جنکے درد کی آواز چار دیواروں سے ٹکرا کر واپس چلے جاتی ہے انکی فکرے کرنے والے آج نہ کے برابر ہوچکے ہیں۔ وہی فکریں اور مظلوموں کی آواز کو لیکر مجھے اللہ نے آپکی خدمت میں بھیجا ہے۔
مولانا نے کہاکہ میں جیل کوئی گناہ کرکے نہیں گیا تھا بس حق بولنا، امت کو بیدار کرنا یہی میرا جرم تھا۔ مولانا نے کہا کہ ہم اکثر بیانات میں کہا کرتے تھے کہ میڈیا جھوٹی ہے لیکن جب ہمیں گرفتار کیا گیا تو ہمارے اپنوں نے ہمارے ساتھ نہیں دیا، ہمارے نمبرات فون سے نکال دیا، ہمارا نام تک لینے سے ڈرنے لگے۔اور مزید فرمایا کہ کورٹ تو پانچ-دس سال باد فیصلہ سناتی ہے لیکن ان لوگوں نے گرفتاری کے وقت ہی مجرم ماں لیا۔ مولانا انظرشاہ قاسمی نے کہا کی جیل کو مانگنا تو نہیں چاہیے لیکن جب حق کے راستہ میں آجائے تو اللہ ہی مدد کرتے ہے اور اسکے ساتھ مولانانے کہا کہ میں نے جیل میں اللہ کی مدد اور نصرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
مولانا انظر شاہ قاسمی نے کہا کہ یہ حق کے راستے کا ایک اسٹیشن ہے۔گرفتاری کے ڈر سے یہ نہ کریں کہ حق بولنا چھوڑ دیں۔دنیا کی نسبت سے اگر جیل ہوئی تو وہ عذاب ہے لیکن حق کے راستے میں دین، نبی، قرآن کی نسبتوں سے حضرت یوسف علیہ السلام کی سنت کو زندہ کرنے کیلئے اگر جیل ہوئی تو اللہ کی مدد اور نصرت اسکے ساتھ ہوتی ہے اور اسکی عزت اور بڑھ جاتی ہے۔ مولانا نے کہا کہ جیسے آئی اے ایس اور آئی پی ایس بنے والوں کو منتخب کیا جاتا ہے اسی طرح جو امت کیلئے جتنا بڑا کام کرتا ہے اللہ اسے اسی درجہ کا امتحان اور آزمائش لیتا ہے، اور یہ ہر کسی کو نصیب نہیں اور اسے مانگنا بھی نہیں چاہیے اگر آجائے تو یہ اللہ سے قریب ہونے کا ذریعہ ہے۔مولانا نے فرمایا کہ جو چیزیں باہر رہکر ہم سیکھ نہیں سکتے وہ چیزیں اللہ نے جیل کی درسگاہ میں سکھائی۔ قابل ذکر ہے کہ شاہ ملت کے بیان کے دوران متعدد مرتبہ اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوئیں.





