نئی دہلی(ایجنسیاں)
سپریم کورٹ نے بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری معاملے میں گجرات حکومت سے آج پھر پوچھا کہ کیا اس نے اس معاملے میں قصوروار قرار دئے گئے پولیس اہلکاروں کے خلاف ضابطہ کی کوئی کارروائی کی ہے یا نہیں؟ عدالت نے ریاستی حکومت کو چھ ہفتہ کے اندر یہ جانکاری دستیاب کرانے کی ہدایت دی ہے۔
دراصل سابقہ سماعت میں ہی عدالت نے ریاستی حکومت سے اس سلسلے میں جانکاری طلب کی تھی لیکن آج سماعت کے دوران اس نے(ریاستی حکومت نے) مزید وقت دینے کی درخواست کی۔ عدالت نے ریاستی حکومت کی درخواست تسلیم کرتے ہوئے چھ ہفتہ کا وقت دیا۔ اب اس معاملے کی سماعت جنوری 2018کے پہلے ہفتے میں ہوگی۔بلقیس بانو نے عرضی دائر کرکے کہا تھا کہ فسادات کے دوران ڈیوٹی پرلاپرواہی برتنے والے قصور وار پولیس اہلکاروں کو دوبارہ ملازمت بحال نہ کی جائے۔
احمد آباد سے 250 کلومیٹر دور آباد رادھیاپر گاو¿ں میں مارچ 2002 کو 19 سالہ بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی آبروریزی ہوئی تھی، اتنا ہی نہیں بلکہ اس وقت وہ پانچ ماہ کی حاملہ بھی تھیں۔ ان کے خاندان کے 14 افراد کا بھی بے رحمی سے قتل کر دیا گیا تھا جس میں دو نوزائیدہ بچے بھی شامل تھے۔
واضح رہے کہ تین مارچ 2002 کو گجرات فسادات کے دوران بلقیس کے ساتھ داہود کے نزدیک دیوگڑھ باریا گاوں میں فسادیوں نے اجتماعی عصمت دری کی تھی۔اس کے بعد بلقیس اور ان کے خاندان کے افراد پر مشتعل ہجوم نے حملہ کردیا تھا جس سے ان کے خاندان کے کئی افراد کی موت ہوگئی تھی۔





