نئی دہلی(ایجنسیاں)
قومی اقلیتی کمیشن کے سابق چیرمین، لا کمیشن آف انڈیا کے سابق رکن پروفیسر طاہر محمودنے کہا ہے کہ ایک ساتھ تین طلاقیں دئے جانے کے غیر اسلامی رواج پر پابندی لگانے کیلئے اگرکوئی قانون بنایا جاتا ہے تو وہ طلاق کے قرآنی قانون سے کسی طرح متصادم نہیں ہوگا۔
وہ میڈیا کی اس خبر پر تبصرہ کررہے تھے کہ حکومت اس سلسلے میں کوئی قانون بنانے جارہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بظاہر تو یہ آنے والے الیکشن کے پیش نظر ایک انتخابی شوشہ ہی لگتا ہے لیکن اگر حکومت سنجیدہ ہے تو اس کیلئے کوئی وزارتی گروپ تشکیل دینا بے معنی ہے، اسکے بجائے منتخب ماہرین قانون کی ایک کمیٹی بنائی جانی چاہئے جومجوّزہ قانون کے خد و خال طے کرے اور مطلوبہ قانون اسکی تجاویز کے مطابق ہی بنا جائے۔
انھوں نے مزید کہا کہ متعلقہ قانون کی نوعیت کے بارے میں سماج اور میڈیا میں جو قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں وہ غیر ضروری اور گمراہ کن ہیں اور کوئی مسودہ سامنے آنے تک ان باتوں سے پرہیز کیا جانا چاہئے۔ پروفیسر طاہر محمود نے واضح کیا کہ ایک ساتھ دی گئی تین طلاقوں کو صرف ایک طلاق مانے جانے کا قانون بنانا کافی ہوگا جیسا کہ تقریباً سبھی مسلم ممالک میں ہوا ہے لیکن نئے قانون کے موثر نفاذ کیلئے اس میں اگر کوئی تعزیری دفعہ بھی شامل کی جاتی ہے وہ بھی غلط نہیں ہوگا کیونکہ اسلامی تاریخ میں اسکی نظیر موجود ہے۔





