وندے ماترم کو قانونی طور پر لازم قرار دینا مذہبی و آئینی آزادی کے خلاف ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

مسلم پرسنل لاء بورڈ
mt-staff

mt-staff

31 July 2026 (Publish: 12:13 PM IST)

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے ترمیمی بل منظور کرکے وندے ماترم کی توہین کو قابلِ سزا جرم قرار دینے کے اقدام پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بورڈ نے اسے ملک کے آئینی، سیکولر اور جمہوری مزاج کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی مخصوص مذہبی تصور یا عقیدے کو قانون کے ذریعے تمام شہریوں پر نافذ کرنا دستورِ ہند کی بنیادی روح سے متصادم ہے۔

بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے جاری بیان میں کہا کہ وندے ماترم کو قانونی جبر کے ذریعے تمام طبقات اور مذہبی برادریوں پر لازم کرنے کی کوشش نہ صرف نامناسب ہے بلکہ آئین کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ دستور ساز اسمبلی نے تفصیلی غور و خوض کے بعد وندے ماترم کے ابتدائی دو بندوں کو ہی قومی سطح پر قبول کیا تھا، جبکہ اس کے دیگر حصوں میں موجود مذہبی مفاہیم کو ملک کے سیکولر کردار کے ساتھ ہم آہنگ نہیں سمجھا گیا تھا۔

ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ وندے ماترم کے بعض حصوں میں وطن کو دیوی کی صورت میں پیش کرتے ہوئے اس کی وندنا کا تصور موجود ہے، جو اسلامی عقیدۂ توحید سے مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلمان صرف اللہ وحدہٗ لاشریک کی عبادت کرتا ہے اور کسی بھی مخلوق کو عبادت یا الوہیت کا مقام دینا اسلامی عقیدے کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی مسلمان کو اس کے مذہبی عقیدے کے خلاف کسی ایسے گیت، نعرے یا عمل میں شرکت پر مجبور نہیں کیا جا سکتا جس میں مذہبی مفہوم شامل ہو۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان نے دستورِ ہند کی دفعہ 25 اور دفعہ 19 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی اور اظہارِ رائے کا حق دیتا ہے۔ ان آئینی ضمانتوں کا تقاضا ہے کہ کسی فرد کو اس کے ضمیر اور عقیدے کے خلاف کسی مخصوص گیت، نعرے یا علامت کو اختیار کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔

ڈاکٹر الیاس نے سپریم کورٹ کے معروف مقدمہ Bijoe Emmanuel بنام ریاستِ کیرالہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے یہ اصول تسلیم کیا تھا کہ اگر کسی شخص کا مذہبی عقیدہ اسے کسی مخصوص عمل میں شرکت سے روکتا ہو تو محض عدمِ شرکت کی بنیاد پر اسے سزا نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی میں بعض حالات میں خاموش رہنے کا حق بھی شامل ہے اور احترام کے ساتھ عدمِ شرکت کو بے احترامی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ وطن سے محبت اور وطن کی پوجا دو الگ تصورات ہیں۔ مسلمان اپنے وطن سے محبت کو اپنا دینی اور شہری فریضہ سمجھتے ہیں، لیکن وطن کو معبود یا دیوی کا درجہ نہیں دے سکتے۔

ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ حب الوطنی کا معیار کسی مخصوص نعرے یا گیت کی ادائیگی نہیں بلکہ ملک، آئین، عوام اور ان کے حقوق کے ساتھ وفاداری ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے حساس اور تقسیم پیدا کرنے والے معاملات کے بجائے ملک کو درپیش حقیقی مسائل، جیسے بے روزگاری، مہنگائی، غربت، تعلیم، صحت، معاشی عدم مساوات اور سماجی ناانصافی کے حل پر توجہ دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط ہندوستان وہی ہو سکتا ہے جہاں ہر شہری کو مساوی عزت، انصاف اور آزادی حاصل ہو، اور جہاں کسی کی حب الوطنی کو اس کے مذہبی عقیدے کی بنیاد پر نہ پرکھا جائے۔

Support Independent Media

Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.

Support Millat Times

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top