مدھیہ پردیش کے نرسنگ پور ضلع کے گوٹے گاؤں علاقے میں تیسری جماعت کی 8 سالہ مسلم بچی کو اس کے پڑوسی نے مبینہ طور پر والد کے بلانے کا بہانہ بنا کر اسکول سے باہر نکالا، جنگل میں لے جا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور گلا گھونٹ کر قتل کر دیا۔ پولیس نے اس معاملے میں انیل یادو عرف انّو (28) کو گرفتار کیا ہے۔
بچی معمول کے مطابق اسکول میں پڑھ رہی تھی۔ دوپہر کے وقت ملزم اسکول پہنچا اور مبینہ طور پر بچی سے کہا کہ اس کے پاپا اسے بلا رہے ہیں اور وہ اسے گھر لے جانے آیا ہے۔ بچی اس کی بات پر یقین کرکے اس کے ساتھ اسکول سے باہر نکل گئی۔
ملزم اسے ایک سنسان جنگلاتی علاقے میں لے گیا، جہاں اس نے بچی کے ساتھ زیادتی کی۔ بچی نے مزاحمت کرتے ہوئے شور مچایا تو ملزم نے مبینہ طور پر اس کا گلا گھونٹ دیا، جس سے اس کی موت ہوگئی۔
بچی کے گھر نہ پہنچنے پر اہل خانہ اور مقامی لوگوں نے اس کی تلاش شروع کی۔ بعد میں پولیس نے تلاش کے دوران جنگل سے اس کی لاش برآمد کی۔
اس واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ مسلم برادری کے لوگوں نے بھی احتجاج کرتے ہوئے بچی کے لیے انصاف اور ملزم کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
میڈیا ان سب معامل پر بالکل خاموش ہے،کیونکہ یہاں پر متاثرہ ایک مسلم بچی ہے اگر یہی معاملہ الٹا ہوتا تو ابھی تک ملک پر قیامت آجاتی ، ہر طرف لوگ کینڈل مارچ نکال رہے ہوتے اور انصاف کی گہار لگا رہے ہوتے ۔
Support Independent Media
Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.
Support Millat Times