اروناچل پردیش کی سرحدی صورتِ حال پر اویسی کا مودی حکومت سے جواب طلب، چین کے مبینہ خیموں پر تشویش

اروناچل پردیش کی سرحدی صورتِ حال پر اویسی کا مودی حکومت سے جواب طلب، چین کے مبینہ خیموں پر تشویش
mt-staff

mt-staff

12 August 2026 (Publish: 08:05 AM IST)

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اور رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے اروناچل پردیش کی سرحد پر جاری صورتِ حال کے بارے میں مرکزی حکومت سے واضح جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔اویسی نے کہا کہ حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ سرحد پر آخر کیا ہو رہا ہے۔ کیوں کہ حکومت کی جانب سے اب تک جو معلومات فراہم کی گئی ہیں وہ ناکافی ہیں اور اصل صورتِ حال کو چھپانے کے مترادف ہیں۔اویسی نے کہا کہ اگر چینی فوجی بھارتی علاقے میں داخل ہوئے ہیں، بھارتی فوج کی ان علاقوں میں گشت روک دی گئی ہے جہاں وہ پہلے باقاعدگی سے جاتی تھی اور چینی فوجیوں نے وہاں خیمے لگا دیے ہیں تو عوام کو سچ بتانا چاہیے۔اویسی نے ڈوکلام اور لداخ کی سابقہ صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ایسا معاملہ دوبارہ پیش آئے۔

اویسی نے ڈوکلام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں چین نے مستقل اڈہ اور متبادل سڑکیں تعمیر کر لی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت ان حالات سے آخر کب سبق سیکھے گی؟نہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اس سابقہ بیان پر بھی سوال اٹھایا کہ لداخ میں کوئی بھارتی علاقے میں داخل نہیں ہوا تھا، جبکہ ان کے مطابق بھارتی فوج اب بھی کئی علاقوں میں گشت نہیں کر سکتی۔

اویسی نے چین کے صدر شی جن پنگ کو اگلے ماہ نئی دہلی مدعو کیے جانے پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے پوچھا کہ جب سرحد پر چینی فوجی بھارتی علاقے میں خیمے لگا رہے ہوں اور بھارتی فوج کی گشت میں رکاوٹ پیدا کی جا رہی ہو تو کیا چین سے نمٹنے کی یہی حکومتی پالیسی ہے؟ یا پھر دوطرفہ تعلقات کو ’’معمول‘‘ پر لانے کے لیے بیجنگ کی تمام شرائط قبول کر لی گئی ہیں؟

Support Independent Media

Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.

Support Millat Times

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top