حیدرآباد سے امریکی سینیٹ تک نبیلہ سید کا سفر: حجاب، اسلاموفوبیا اور کم عمری پر اعتراضات کے باوجود بڑی کامیابی

حیدرآباد سے امریکی سینیٹ تک نبیلہ سید کا سفر: حجاب، اسلاموفوبیا اور کم عمری پر اعتراضات کے باوجود بڑی کامیابی
mt-staff

mt-staff

05 November 2026 (Publish: 10:04 AM IST)

آزاد صحافت اور تازہ خبروں کے لیے ملت ٹائمز ایپ سے جڑیں۔

ایپ انسٹال ہے تو کھلے گی، ورنہ Google Play کھلے گا۔
ایپ کھولیں / ڈاؤن لوڈ کریں

ہندوستان کے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کی بیٹی نبیلہ سید نے امریکی سیاست میں اپنی جگہ بناتے ہوئے محض 27 برس کی عمر میں ریاست الینوائے کی سینیٹ کا انتخاب جیت لیا ہے۔ حجاب پہننے والی مسلم خاتون نبیلہ کا یہ سفر کئی اعتبار سے غیر معمولی ہے۔ ان کے والدین بہتر مستقبل کی تلاش میں ہندوستان سے امریکہ گئے تھے، جہاں نبیلہ کی پرورش ہوئی۔ انہوں نے 23 برس کی عمر میں پہلی بار انتخاب جیت کر ریاستی ایوانِ نمائندگان میں قدم رکھا اور اب چار برس کے اندر ریاستی سینیٹ تک پہنچ گئی ہیں۔

3 نومبر 2026 کو امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار نبیلہ سید نے الینوائے کے 26ویں انتخابی حلقے سے ریپبلکن امیدوار ڈاربی ہلز کو شکست دی۔ اس سے پہلے وہ 2022 اور 2024 میں ریاستی ایوانِ نمائندگان کی رکن منتخب ہوچکی تھیں۔ مسلسل تیسری انتخابی کامیابی نے انہیں ریاست کی سیاست میں ایک نمایاں مقام دلا دیا ہے۔

حیدرآباد سے امریکہ تک کا سفر

نبیلہ سید کے والدین 1980 کی دہائی میں ہندوستان سے امریکہ منتقل ہوئے تھے۔ ان کے والد سید معز الدین کا تعلق حیدرآباد کے علاقے ٹولی چوکی سے ہے۔ امریکہ پہنچ کر انہوں نے محنت سے اپنے خاندان کے لیے نئی زندگی کی بنیاد رکھی اور بعد میں اپنی اہلیہ کو بھی امریکہ بلالیا۔ نبیلہ کی پیدائش اور پرورش الینوائے ہی میں ہوئی۔

انہوں نے پلاٹائن ہائی اسکول سے تعلیم حاصل کی اور بعد میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے سے سیاسیات اور کاروباری نظم و نسق کی تعلیم مکمل کی۔ سیاست میں ان کی دلچسپی 2016 میں ڈونالڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد بڑھی۔ نبیلہ کے مطابق، اس دور میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی بیان بازی اور معاشرے میں بڑھتی تقسیم نے انہیں سیاست میں آنے کے لیے آمادہ کیا۔ انہیں محسوس ہوا کہ اگر نوجوان اور اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگ سیاسی عمل میں حصہ نہیں لیں گے تو ان کے مسائل اور خدشات ایوانوں تک کیسے پہنچیں گے۔

23 برس کی عمر میں پہلی انتخابی کامیابی

2022 میں نبیلہ نے الینوائے کے 51ویں انتخابی حلقے سے ریاستی ایوانِ نمائندگان کا انتخاب لڑا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 23 برس تھی۔ ریپبلکن امیدوار کرس بوس کے مقابلے میں انہوں نے گھر گھر جاکر ووٹروں سے رابطہ کیا اور مقامی مسائل کو اپنی انتخابی مہم کا مرکز بنایا۔ اس محنت کا نتیجہ کامیابی کی صورت میں نکلا اور وہ ریاستی اسمبلی کی کم عمر ترین خواتین قانون سازوں میں شامل ہوگئیں۔

ان کی کامیابی اس لحاظ سے بھی اہم تھی کہ وہ حجاب پہننے والی ہندوستانی نژاد مسلم خاتون ہیں اور ایسے حلقے سے منتخب ہوئیں جہاں ریپبلکن پارٹی کو مضبوط سمجھا جاتا تھا۔ 2024 میں انہوں نے دوبارہ انتخاب جیت کر اپنی نشست برقرار رکھی۔ اس طرح 2026 کے سینیٹ انتخاب سے پہلے وہ ریاستی قانون سازی کا چار سالہ تجربہ حاصل کرچکی تھیں۔

مسلم شناخت اور اسلاموفوبیا کے تلخ تجربات

نبیلہ سید نے اپنی سیاسی زندگی کے ساتھ ساتھ مسلم شناخت کی بنیاد پر پیش آنے والے تعصبانہ رویوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق، نوجوانی میں انہیں بعض مواقع پر دہشت گرد کہا گیا، جب کہ واشنگٹن میں انٹرن شپ کے دوران ایک شخص نے ان پر تھوکنے کی کوشش کی۔ ان واقعات نے انہیں امریکی معاشرے میں مسلمانوں کے خلاف پائے جانے والے تعصب کا براہِ راست تجربہ کرایا۔

وہ اس بات پر بھی سوال اٹھاتی رہی ہیں کہ مسلمان کمیونٹی کے لوگ خیراتی اور سماجی سرگرمیوں کے ذریعے معاشرے کی خدمت کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود پوری برادری کو منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ حجاب کے بارے میں ان کا مؤقف ہے کہ اسے پہننا یا نہ پہننا عورت کا ذاتی فیصلہ ہے اور یہ اختیار اسی کے پاس رہنا چاہیے۔

انتخابی مہم میں عمر اور مذہبی شناخت پر بحث

2026 کی انتخابی مہم میں ریپبلکن امیدوار ڈاربی ہلز نے نبیلہ کی کم عمری اور سیاسی تجربے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے انہیں اپنے حلقے کی نمائندگی کے لیے ’’انتہائی انتہا پسند‘‘ بھی قرار دیا۔ نبیلہ نے اس تنقید کے جواب میں اپنی چار سالہ قانون سازی کی کارکردگی پیش کی اور کہا کہ انہیں اپنے کام پر فخر ہے۔

مہم کے آخری دنوں میں ہلز کا ایک بیان بھی خاصا زیرِ بحث آیا، جس میں انہوں نے نبیلہ کے ساتھ انتخابی مقابلے کو ’’نیکی اور بدی کی جنگ‘‘ قرار دیا تھا۔ نبیلہ کے حجاب اور مسلم شناخت کے پس منظر میں اس بیان پر سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی۔ بعد میں ہلز نے وضاحت کی کہ ان کا اشارہ نبیلہ کے مذہب کی طرف نہیں، بلکہ ان کے بقول انتخابی مہم میں پھیلائے جانے والے جھوٹ کی طرف تھا۔

یوں انتخابی مہم میں نبیلہ کی عمر، تجربے اور سیاسی نظریات کے ساتھ ان کی مذہبی شناخت بھی بحث کا حصہ بنی رہی۔ تاہم نبیلہ نے اپنی توجہ انتخابی کارکردگی اور عوامی مسائل پر مرکوز رکھی۔

خواتین کی صحت، تعلیم اور اسلحے سے متعلق قوانین پر توجہ

نبیلہ سید کی سیاسی ترجیحات میں خواتین کی صحت، ادویات کی بڑھتی قیمتیں، سرکاری اسکولوں کے لیے وسائل اور اسلحے سے متعلق حفاظتی قوانین شامل ہیں۔ اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات کے تناظر میں وہ مؤثر حفاظتی اقدامات کی حمایت کرتی ہیں۔ 2026 کی انتخابی مہم میں مہنگائی، صحت کی سہولتوں تک رسائی اور ڈیٹا سینٹرز کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ جیسے مقامی مسائل بھی ان کے ایجنڈے کا حصہ رہے۔

ریاستی اسمبلی میں چار سال گزارنے کے بعد اب سینیٹ میں ان کے سامنے ان مسائل پر قانون سازی اور اپنے حلقے کے لوگوں کی نمائندگی کا بڑا موقع ہے۔

اجنبی شخص کے لیے جگر کا بڑا حصہ عطیہ کردیا

نبیلہ کی زندگی کا ایک ایسا واقعہ بھی ہے جس کا تعلق سیاست سے نہیں، بلکہ انسانی ہمدردی سے ہے۔ 2021 میں انہوں نے جگر کی پیوندکاری کے منتظر ایک شخص کی جان بچانے کے لیے اپنے جگر کا تقریباً 70 فیصد حصہ عطیہ کیا تھا۔

اس شخص کے اہل خانہ نے سوشل میڈیا پر عطیہ دہندہ کی تلاش کے لیے اپیل کی تھی۔ نبیلہ نے یہ اپیل دیکھی تو خود عطیہ دینے میں دلچسپی ظاہر کی۔ طبی جانچ کے بعد انہیں موزوں عطیہ دہندہ قرار دیا گیا اور انہوں نے جگر کا بڑا حصہ عطیہ کردیا۔ جس شخص کے لیے انہوں نے یہ قدم اٹھایا، اس سے ان کا پہلے کوئی قریبی تعلق نہیں تھا۔

امریکی سیاست میں نئی منزل

نبیلہ سید کا سیاسی سفر چار برس میں تین انتخابی کامیابیوں پر مشتمل ہے۔ 2022 میں 23 برس کی عمر میں ریاستی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں، 2024 میں دوبارہ کامیابی حاصل کی اور اب 27 برس کی عمر میں الینوائے کی ریاستی سینیٹ میں پہنچ گئی ہیں۔ ان کے والدین کا تعلق حیدرآباد سے ہے، لیکن نبیلہ کی پوری پرورش اور تعلیم امریکہ میں ہوئی اور وہیں انہوں نے سیاست میں اپنا مقام بنایا۔

ان کی کامیابی ہندوستانی نژاد مسلم خاندان کے لیے یقیناً خوشی کا باعث ہے، لیکن اس کی اہمیت صرف خاندانی پس منظر یا مذہبی شناخت تک محدود نہیں۔ کم عمری میں انتخابی سیاست میں قدم رکھنا، دو مرتبہ ریاستی اسمبلی کا انتخاب جیتنا اور پھر سینیٹ تک پہنچنا ان کی سیاسی جدوجہد کا حصہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ نئی ذمہ داری کے ساتھ اپنے حلقے کے مسائل، صحت، تعلیم اور عوامی فلاح کے معاملات میں کس طرح اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔

Support Independent Media

Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.

Support Millat Times

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top