نریندر مودی دلیپ کمار اور امیتابھ بچن سے بڑے اداکار ہیں ۔ مشہور صحافی نرملندو نے سپنوں کا سوداگر لکھ کر مودی حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی دنیا کے سامنے پیش کی

مذہب کے نام پر کوئی بھی سیاسی تحریک کامیابی نہیں ہوسکتی :ڈاکٹر محمد منظور عالم
مولانا نعمانی کی کتاب”ساورکر ۔فکر وتحریک ایک مطالعہ “ اور نرملندو کی کتاب ” سپنوں کا سوادگر “ اجراء
نئی دہلی(ملت ٹائمز)
مذہب کے نام پر کوئی بھی سیاسی تحریک کامیابی نہیں ہوپاتی ہے ،جمہوریت میں دوام اور استقرار ہوتاہے ۔کسی بھی ملک کی ترقی،اس کی بقا اور عوامی فلاح وبہبود میں جمہوری نظام کا سب سے نمایاں کردار ہوتاہے ۔ان خیالات کا اظہار آ ج آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے پریس کلب آف انڈیا میں رسم اجراءکی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ پریس کلب میں آج مولانا عبد الحمید نعمانی کی کتاب ” ساورکر ۔فکر وتحریک ایک مطالعہ “ اور مشہور صحافی نرملندو کی کتاب” سپنوں کا سوادگر “ کا اجراءعمل میں آیا جسے انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز اور جینوین پبلکیشن اینڈمیڈیا پرائیوٹ لمٹیڈ نے شائع نے کیا ہے ۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہاکہ یہ سوال بہت اہم ہے کہ آئی او ایس نے دونوں کتابوں کو آج ایک ساتھ ریلیز کیوں کیا ہے ؟ در اصل آئین کے مقدمات او رمساوات ،آزادی ،بھائی چارہ اور تحفظ کو پامال کرنے کی کوشش ہورہی ہے ۔دستور کی روح پر حملہ ہورہاہے اور ان سب کے ساتھ ساورکر کی فکر کو ترجیح دی جارہی ہے جس سے آئین بحران کے سایے میں آگیاہے جوملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے ۔پریس کلب آف انڈیا کے صدر آنند بگیت کر نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہاکہ مودی سرکار کا پانچ سالہ کام کاج جھوٹ پر مبنی ہے ، انہوں نے ہندتوا اور نفرت کی سیاست کی ہے جس کا تفصیلی جائزہ نرملندوں نے اپنی کتاب میں پیش کیا ہے ۔سپنوں کے سوادگر کے مصنف نرملندو نے اپنی کتاب کا تعارف کراتے ہوئے کہاکہ انہوں نے مودی سرکار کے پانچ سالہ دور کا جائزہ پیش کیا ہے ۔ مختلف اسکیموں کی تحقیق کی پیش کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ مودی سرکار نے پانچ سالوں میں عوام کیلئے کیا کام کیاہے ۔ان کی اسکیموں سے عوام کو کتنا فائدہ پہونچا ہے ؟۔انہوں نے مزید کہاکہ مودی دلیپ کمار اور امیتابھ بچن سے بھی زیادہ بڑے اداکار ہیں ۔ساورکر فکر وتحریک کے مصنف مولانا عبد الحمید نعمانی نے کتاب کا مختصر تعارف پیش کرتے ہوئے کہاکہ جون 2014 کے بعد جس ہندتوا کا چرچا رزوروں پر ہے اس کی بنیاد میں ماضی قریب کے بہت سے افراد کا ہاتھ ہے ،عموما یہ وہ افراد ہیں جو اپنے مختلف کسی عقیدہ وعمل کو برداشت نہیں کرپاتے ہیں یا مجبور میں انگیز کرتے ہیں وہ اپنی طرح کے یکساں رہنگ وآہنگ کے حامی ہوتے ہیں جو ہندوستان کی قدم وجدید تاریخ کے ورایت کے خلاف ہیں اور ایسے ہی لوگوں میں سے ایک ساورکر ہیں جن کے نظریات کا کتاب میں تفصیل سے جائزہ لیاگیاہے اور بتایاگیاہے کہ یہ ملک کے جمہوری نظام کیلئے سنگین خطرہ ہے ۔آ ل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے دونوں کتاب کے مصنفوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے آئی او ایس کا ذکر خیر کیا اور کہاکہ آئی او ایس نے ریسرچ او رتحقیق کے میدان میں قابل ذکر کارنامہ انجام دیاہے ۔زیر بحث دونوں کتابوں کی اشاعت بھی ایک اہم کوشش ہے جس سے موجودہ حالات کو جاننے اور عوام کو سچائی بتانے میں بہت مددملے گی ۔ پریس کلب آف انڈیا کے سابق صدر گوتم لاہری نے اپنے خطاب میں کہاکہ سپنوں کا سوداگر میں ایک باب میڈیا کیلئے بھی ہونا چاہیئے کیوں کہ اس حکومت میں میڈیا کی آزادی پر قد غن لگانے کی کوشش ہوئی ہے اور متعد د صحافیوں کا قتل بھی کیاگیا ہے ۔اس کے ساتھ انہوں نے اس بات کا بھی تذکرہ کیا حکومت کی اسکیموں کا زمینی سطح پر جائزہ لیا جانا چاہیئے تھاکہ سرکار نے جو اسکیم پاس کی ہے عوام اس سے فائدہ اٹھارہے ہیں یا نہیں ۔ ایک سوال کا جواب جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہاکہ ملک کے بیشتر میڈیا ہاﺅسز گذشتہ پانچ سالوں سے پی آر کا کردار ادار کررہے ہیں ۔بک ریلیز کی یہ تقریب آل انڈیا انڈیا ملی کونسل ۔ انسٹی ٹیو ٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز اور جینوین پبلیکشن اینڈمیڈیا پرائیوٹ لمٹیڈ نے مشترکہ طور پر منعقد کی تھی ۔ملت ٹائمز کے ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی نے بحسن وخوبی نظامت کا فریضہ انجام دیا ۔