فورم اور ہلی وقف بورڈ کو خاکہ تیار کرنے کی سونپی گئی ذمہ داری
نئی دہلی (ملت ٹائمز)
ہندوستان میں الیکشن کا معیار اب تبدیل ہوا ہے. تعلیم اور ایجوکیشن کے نام پر اب انتخابات میں بحث ہورہی ہے اور یہی ہماری کامیابی ہے. ان خیالات کا اظہار دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے ہوٹل ریور ویو میں مسلم دانشوران سے خطاب کرتے ہوئے کیا. انہوں نے مزید کہا کہ اسکول کی تعمیر اور ایجوکیشن کا فروغ ہمارا بنیادی ایجنڈا ہے اور اسی پر رات دن کام کررہے ہیں. انڈین انٹیلیکچول فورم کے کنوینر کلیم الحفیظ نے کہا کہ تعلیم کے ذریعہ ہم مسلمانوں کو کامیاب اور ترقی یافتہ بنانا چاہتے ہیں. تلنگانہ میں تعلیم کے میدان میں نمایاں کام ہوا ہے اور اب اسی طرز پر دہلی کی سرکار کو کام کرنے کا پروپوزل ہم نے پیش کیا ہے. جس پر 20 جولائی سے کام کی شروعات ہوجائے گی. اس موقع پر دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان بھی موجود تھے جنہوں نے کلیم الحفیظ سے کہا کہ ہم مکمل طور پر تیار ہیں. آپ کام کی شروعات کریں.
انڈین مسلم انٹلیکچولس فرم کے تحت ہونے والا پروگرام اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا جو 23 فروری کو ہواتھا۔جس میں وزیر اعلی نے شرکت کی تھی۔اور فورم نے ان کے سامنے تعلیمی مطالبات رکھے تھے۔آج کے ?پروگرام میں ان مطالبات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔?پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن سے ہوا۔ نظامت کے فرائض مشہور اسلامی اسکالر جناب ڈاکٹر سلمان اسعد نے انجام دیے۔فورم کے کنوینر جناب کلیم الحفیظ نے پروگرام کی غرض و غارت پر روشنی ڈالی اورتعلیمی مطالبات کی تفصیلات اور سفر سے شرکائ کو روشناس کرایا۔نائب وزیر اعلی نے سرکار کی تعلیمی پالیسی اور پچھلے چار سال میں کیے گئے تعلیمی کاموں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔شرکا کے سوالوں کے جوابات دیے۔مقامی ایم ایل اے اور دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین جناب امانت اللہ خاں نے تعلیمی مطالبات کے بارے میں بتایا کہ سرکار اس پر سنجیدہ ہے ہم نے جگہ تلاش کرنےکا کام شروع کر دیا ہے۔آپ حضرات بھی تعاون کریں۔انشائ اللہ اسی تعلیمی سیشن میں 20 اسکول شروع کردیے جائیں گے۔
پروگرام میں دہلی کے مشہور دانشوروں ،صحافیوں، علماء،ڈاکٹرس،اساتذہ،تاجراور اہل علم حضرات نے شرکت کی۔






