میرٹھ نٹھاری سانحہ کی اصلی کہانی آئی سامنے : بچیوں سے سی سی ٹی وی کے سامنے درندگی کرتا تھا ریٹائرڈ افسر

میرٹھ (آئی این ایس انڈیا)
نوئیڈامیں نٹھاری کی کوٹھی کا دروازہ کھلا تھا تو 21 لڑکیوں کی چیخ سنائی دیں۔وہیں مظفرپورشیلٹرہوم سے 48 لڑکیوں کی سسکیاں باہر آئیں اور اب میرٹھ کی ایک کوٹھی نے اپنے اندر سے ٹھیک نٹھاری اورمظفرپور کی طرح ہی ایک عجیب سچ اگلا ہے۔سچ کوٹھی کے مالک ایک ریٹائرڈ سرکاری افسر کا۔اس افسر کا جس نے کوٹھی کے ہر کونے میں کیمرے لگا رکھے تھے اور جو انہیں کیمروں کے درمیان معصوم لڑکیوں کو کوٹھی میں بلاتا اور پھر ان کے ساتھ اپنی ہوس مٹا۔میرٹھ کے اس درندے کی کہانی جس نے بھی سنی بس حیران رہ گیا۔جمعہ کی دوپہر منہ رومال سے ڈھک کر جیسے ہی یہ شخص عدالت سے باہر نکلتا ہے،باہر کھڑی عوام اس پر ٹوٹ پڑتی ہے،کوئی تھپڑ برسانے لگا،کوئی لات مار رہا تھا،کوئی گھونسا چلانے لگا اور جو اس تک نہیں پہنچ پائے وہ بھی پیچھے سے اس شخص پر لعنت بھیجنے لگتے ہیں۔ٹی وی کیمرے اسے چاروں طرف سے گھیرے ہوئے تھے۔حالات ایسے بن گئے کہ پولیس کو اس شخص کو بچانے کے لئے عدالت سے بھاگنا پڑا۔عدالت میں آگے آگے پولیس اس شخص کو لے کر دوڑ رہی تھی۔پیچھے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ وکیل تک اسے پیٹنے کے لئے بھاگ گیا رہے تھے۔اب سوال یہ تھا کہ آخر اس شخص نے ایسا کیا کیا کہ کورٹ میں موجود تمام لوگ اسے مار ڈالنے پر آمادہ تھے تو جواب ہے کہ اس شخص نے وہی گناہ کیا،جو نوئیڈا کے نٹھاری میں سریندر کوہلی اور موندر سنگھ پنڈھیر نے کیا۔بہار کے مظفرپور شیلٹرہوم کے اندر برجیش ٹھاکر نے کیا۔وہی میرٹھ کے جاگرتی وہار کے اس شخص نے کیا،الزام جھوٹے ہو سکتے ہیں،مگر فوٹو جھوٹ نہیں بولتی ہیں اور تصاویر بتا رہی ہیں کہ سرکاری نوکری سے ریٹائر قریب 70 سال کا ملزم ومل چند انسان کی شکل میں وحشی ہے۔اپنی ہوس بجھانے کے لئے اس نے معصوم نابالغ لڑکیوں کے ساتھ ساتھ بالغ لڑکیوں کی بھی مجبوری سے کھیلا اور انہیں اپنی ہوس کا شکار بنایا۔وہ تمام فوٹو میرٹھ میں ملزم ومل چند کے جاگرتی وہار والی کوٹھی میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے سے ریکارڈ کی گئی ہیں۔ایل آئی سی سے ریٹائرڈ ومل چند نے اپنے پورے گھر میں قریب نصف درجن سے زیادہ کیمرے لگا رکھے تھے،یہ کیمرے بیڈروم سے لے کر کچن تک،مین گیٹ سے لے کر لابی تک اور باتھ روم تک میں لگے ہوئے تھے۔ذرائع کے مطابق یہ کیمرے ملزم نے اس لیے لگوا رکھے تھے،تاکہ اگر بچیاں اس کی بات ماننے سے انکار کر دیں یا اس کو بے نقاب کرنے کی کوشش کریں تو ان تصاویر کے ذریعہ انہیں بلیک میل کرسکے۔بقول پولیس ملزم ومل چند نے کتنی بچیوں کی زندگی برباد کی ابھی اس کا ٹھیک ٹھیک اندازہ تو نہیں مل سکا ہے،مگر تفتیش میں جوانکشافات ہوئے ان کے مطابق اس گوٹھ نے تین نابالغ اور تین بالغ لڑکیوں کو اپنی ہوس کا شکار بنایا ہے،تاہم پولیس کو پورا یقین ہے کہ اس کے علاوہ بھی کئی اور لڑکیاں ہوسکتی ہیں،لہذا آئی ٹی ایکسپرٹ کے ذریعہ پولیس سی سی ٹی وی کے لیے کھنگالنے کا کام کر رہی ہے۔اتنا ہی نہیں چھوٹی چھوٹی بچیوں کا جسمانی استحصال کرنے سے پہلے یہ ان بچیوں کو موبائل اور لیپ ٹاپ میں گندی ویڈیو دکھایا کرتا تھا،اگر کوئی بچی مخالفت کرتی تو انہیں یہ پیسے اور کپڑے کا لالچ دیا کرتا تھا،اگر کوئی پھر بھی نہیں مانتی تھی تو یہ ان تصاویر اور ویڈیو کو عام کرنے کی دھمکی دے کر ان کا منہ بند کرا دیتا تھا،کوٹھی کے اندر یہ گھنا¶نا کھیل ایک طویل وقت سے چلا آ رہا تھا اور اس کھیل کو بے نقاب بھی نہ ہوا ہوتا،اگر گھر سی سی ٹی وی خراب نہ ہوا ہوتا اور ہارڈ ڈسک ایک میکینک نہ دیکھتا۔2 مئی سے پہلے میرٹھ کے جاگرتی وہار کی کوٹھی نمبر 162 کی علاقے میں بہت عزت تھی،گھر کا سربراہ ومل ایل آئی سی میں افسر کے عہدے سے ریٹائر ہوا تھا، بیوی بھی افسر تھیں لیکن 9 سال پہلے بیوی کی موت اور شادی کے بعد بیٹی کے باہر چلے جانے سے ومل کوٹھی میں اکیلا رہتا تھا اور یہیں سے اس کے وحشی پن کی کہانی شروع ہوتی ہے،مندروں میں بچیوں کو کھانا کھلانے،انہیں اسکول کی تیاری دینے،چاکلیٹ اور پیسے دے کر وہ غریب بچیوں کو شکار بنانے لگا۔2 مئی 2019 جمعرات کی صبح صبح جاگرتی وہار کے کوٹھی نمبر 162 سے اچانک آواز آنے لگی،قریب کے لوگوں کی بھی آنکھیں کھل گئی۔اس بڑی سی کوٹھی سے میرٹھ کی میڈیکل تھانے کی پولیس گھر کے مالک ومل چند کو پکڑ کر لے جا رہی تھی،ہر آدمی حیران تھا کہ آخر 70 سال کے ومل چند کو پولیس اس قدر کیوں بے عزت کر گھر سے لے جا رہی ہے،کیونکہ ومل چند کی نہ صرف محلے میں عزت تھی بلکہ وہ غریبوں کے مددگار کو طور پر بھی جانا جاتا تھا۔9 سال پہلے بیوی کی موت اور اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی ہونے کے بعد وہ اس کوٹھی میں اکیلا رہتا تھا،پڑوسیوں کی مانیں تو وہ بے حد مذہبی بھی تھا،اکثر مندر بھی آتا جاتا تھا،جہاں وہ غریبوں میں کھانا تقسیم کرتا،خاص طور پر غریب بچیوں کو یہ کھانا کھلانے کے علاوہ انہیں چاکلیٹ بھی دیتا تھا۔پورے جاگرتی وہار کو معلوم تھا کہ ایل آئی سی سے ریٹائرڈومل چند غریب بچیوں کو ہمیشہ کھانا، کپڑا اور پیسے تقسیم کرتا تھا،بس یہی اس شخص کی مڈس پرےڈی بھی تھی،خود کو کئی بار تو یہ سماجی کارکن بھی بتاتا تھا اور لوگوں سے ہمدردی جتاکر ان معصوم، بھولے بھالے بیٹیوں کو بہلا پھسلا کر اپنا شکار بنا لیتا،اکثر یہ بچیوں کو لالچ دے کر اپنے گھر پر بلاتا اور پھر ان کی معصومیت کا فائدہ اٹھا کر ان کے ساتھ گھنونی حرکت شروع کر دیتا۔ایک بار جو سلسلہ شروع ہوتا تو پھر مہینوں چلتا۔ذرائع کے مطابق ملزم ومل گزشتہ 2 سال سے ان گھنونی کرتوتوں کو اپنے ہی گھر میں انجام دے رہاتھا۔