مودی نے کہا1988 میں ہم نے ڈیجیٹل کیمرہ اور ای میل کا استعمال کیا تھا ۔دنیا بھر میں ہندوستان کے وزیر اعظم کا لوگ اڑارہے ہیں مذاق

نئی دہلی(آئی این ایس انڈیا)
سی پی ایم نے پیر کو وزیر اعظم نریندر مودی کے اس دعوے کو لے کر ان پر نشانہ لگایا کہ وہ 1988 میں ڈیجیٹل کیمرے اور ای میل استعمال کرنے والے بھارت کے ابتدائی لوگوں میں شامل تھے۔پارٹی نے کہاہے کہ اگر معاملہ وزیر اعظم کے عہدے سے منسلک نہیں ہوتا تو اس پر اچھا ایم او ٹی بن سکتاتھا۔ہفتہ کو ایک نجی نیوز چینل کو انٹرویو میں مودی نے دعویٰ کیاتھاکہ انہوں نے پہلی بار1988 میں ڈیجیٹل کیمرے اور ای میل کااستعمال کیاتھا۔مودی کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا میں خوب مذاق شیئرکیے گئے۔اپوزیشن پارٹیوں نے اس بیان کولے کر مودی پر حملہ بھی بولاہے۔سی پی ایم کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری نے ٹویٹ کیاہے کہ بھرم پھیلانے والی باتوں، جھوٹے دعووں اور سفید جھوٹھوں کی طویل فہرست میں یہ سب سے تازہ ہے۔اگرمعاملہ وزیر اعظم کے عہدے سے منسلک ہونے کی وجہ سے اتنا سنگین نہیں ہوتا تو اس پر کافی اچھا ایم اوٹی بن سکتا تھا۔مودی نے انٹرویومیں کہاتھاکہ میں نے پہلی بار 1987-88 میں ڈیجیٹل کیمرے کا استعمال کیا اور اس وقت بہت کم لوگوں کے پاس ای میل ہوتاتھا۔لال کرشن اڈوانی کی ایک ریلی تھی اورمیں نے اپنے کیمرے سے ان کی تصویرلی۔پھر میں نے تصویر دہلی بھیج دی اور وہ اگلے دن ڈیجیٹل طور پر شائع ہوئی۔ اس پر انہیںبڑاتعجب ہواتھا۔اسی انٹرویو میں وزیر اعظم نے کہاتھاکہ خراب موسم کی وجہ سے دفاع کے ماہرین بالاکوٹ فضائی حملے کو ٹالنا چاہتے تھے، لیکن انہوں نے ان کی تشویش ختم کرتے ہوئے اپنی مشورہ دیا کہ وہ حملہ کر دیں۔پلوامہ حملے کے جواب میں بھارتی فضائیہ کی جانب سے پاکستان کے بالاکوٹ میں کیے گئے فضائی حملے کے بارے میں مودی نے کہاتھاکہ فضائی حملے کے دن موسم اچھا نہیں تھا۔ماہرین کے ذہن میں یہ بات سما گئی تھی کہ حملے کا دن تبدیل کیاجاناچاہیے۔ لیکن میں نے مشورہ دیاکہ بادلوں کی وجہ سے ہمارے طیاروں کورڈارکی پکڑ میں آنے سے بچنے میں مددملے گی۔اتوار کو الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط میں یچوری نے الزام لگایاہے کہ بالاکوٹ حملے کو لے کر دیا گیا مودی کا بیان اس کے رہنما خطوط کی خلاف ورزی ہے۔الیکشن کمیشن نے موجودہ لوک سبھاانتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ سے پہلے ہدایات جاری کرکے کہاتھا کہ سیاسی پارٹیوں کو انتخابی مہم میں فوجی فورسزکے نام پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔