ان بے قصور قید یوں کو جانوروں سے بھی بدتر کھانا دیا جاتا ہے کئی گھنٹوں تک انڈاسیلوں میںٹھونس کر بند کیا جاتا ہے،دانتوں کی صفائی کے لئے ٹوٹھ پیسٹ و برش بھی نہیں کرنے دیا جاتا ہے
ممبئی ۔ 16 مئی 2019 (پریس ریلیز)
بھوپال سینٹرل جیل میں اسیری کی زندگی گذارنے والے در جنوں بے گناہ مسلم نو جوانوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جا رہا ہے اور اس کی فر یاد کر نے پر ظلم دو گنا بڑھا دیا جا تا ہے تمام تر ضابطوں بالائے طاق رکھتے ہوئے اتنے ظلم ڈھائے جا رہے ہیں کہ انسانیت بھی شرمسار ہو جاتی ہے۔
اس پر جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی لیگل ٹیم جلد از جلد قانونی کار وائی کر ے گی،یہ اطلاع آج یہاں اس بات کی اطلاع جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے۔
مزید تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ ان بے قصور قید یوں کو جانوروں سے بھی بدتر کھانا دیا جاتا ہے کئی گھنٹوں تک انڈاسیلوں میںٹھونس کر بند کیا جاتا ہے،دانتوں کی صفائی کے لئے ٹوٹھ پیسٹ و برش بھی نہیں کرنے دیا جاتا ہے،تلاشی کے نام پر رات میں کئی کئی بار جگا یا جا تا ہے جس سے ان کا سو نا حرام ہو جاتا ہے،قرآن کریم کی بے حر متی،اذان،نماز پر پابندی جیسے کئی معاملات شامل ہیں جس کی شکایت کی جائے تو بے رحمی سے جانوروں کی طرح پیٹا جاتا ہے ۔
جس میں جیل انتظامیہ کے افسر و سپاہی بڑھ چڑھ کر ظلم ڈھانے میںحصہ لیتے ہیں اور اسے باعث فخر بھی سمجھتے ہیں۔
مولانا ندیم صدیقی نے مزید کہا کہ محروسین کو جیلوں میں اس قدر دہشت میں رکھا گیا ہے کہ رشتہ داروں،وکیلوں،اور ججس کے سامنے شکایت کرنے سے روکا جا تا ہے بڑی مشکل سے بھو پال جیل کے قیدیوں کی جانب سے احمد آباد کورٹ کے جج کو دیئے گئے تحریری بیان کے ذریعہ یہ چیزیں منظر عام پر آئیں۔
واضح ہو کہ کچھ سال قبل بھوپال سینٹرل جیل کے آٹھ مسلم نو جوانوں کو جیل سے باہر لے جاکر قتل کر دیا گیا تھا،لیکن حال ہی میں جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے لیگل چیف سینر کریمنل لائر ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان بھوپال جاکر پیروی کرتے ہوئے پانچ بے گناہ مسلم نو جوانوں کو با عزت کرانے میں اہم کر دار ادا کیا تھا۔
جمعیۃ علماء کے ذمہ داران کے حکم پر ظلم کا دستاویز موصول ہو تے ہی ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان کی سر پرستی میں وکلاء کی ٹیم بھو پال کے لئے روانہ ہو چکی ہے،انشاء اللہ کا میاب ہو کر ہی لوٹے گی۔






