ممتا بنرجی نے وزیر اعلی کے عہدہ سے استعفی کی پیشکش کی۔ بی جے پی پر سماج کو ہندو ۔مسلمان میں تقسیم کرنے کا الزام لگایا

کولکاتہ 25مئی ( آئی این ایس انڈیا )
لوک سبھا انتخابات میں مغربی بنگال میں حکمراں ترنمول کانگریس کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے، جہاں اس کے ممبران پارلیمنٹ کی تعداد 2104 کے 34 کے مقابلے اس بار گھٹ کر 22 رہ گئی ہے۔ پارٹی کے اس خراب کارکردگی کا اب تجزیہ شروع ہو گیا ہے۔بہرحال اس درمیان، ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے لوک سبھا انتخابات میں ریاست میں ملی شکست پر استعفیٰ کی پیشکش کی ہے۔کولکاتہ میں منعقد پریس کانفرنس میں ممتا بنرجی نے کہاکہ پارٹی کی میٹنگ شروع ہوتے ہی میں نے کہا کہ میں مغربی بنگال کی وزیر اعلی کے طور پر اب کام نہیں کرنا چاہتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی طاقتیں ہمارے خلاف کام کر رہی ہیں۔ ہنگامی حالت پورے ملک میں تیار کی گئی ہے۔ سماج کو ہندو -مسلم میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ ہم نے الیکشن کمیشن سے کئی بار شکایت کی، لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔انتخابی مہم کا ذکر کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ جمہوریت میں سرمائی کی قوت کام کر رہی ہے ۔ میں اب وزیر اعلی کے طور پر کام نہیں کرنا چاہتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے انتخابات میں گڑبڑیوں کو لے کر الیکشن کمیشن سے رابطہ کیا، لیکن کچھ نہیں ہو۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کئی ریاستوں میں اپوزیشن کے پاس کوئی سیٹ نہ ہو! یہاں تک کہ راجیو گاندھی نے بھی اپنا انتخاب لڑا، لیکن اس میں کوئی شک نہیں تھا؛ لیکن اب کیوں؟ ممتا نے نریندر مودی پر نشانہ لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اب پھر مودی نے پاکستان کو مدعو (حلف برداری پروگرام میں) کیا ہے؛ لیکن وہ لوگ دوسروں کو پاکستانی کیوں کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ایک وزیر اعلی کے طور پر ہراساںکیا گیا محسوس کر رہی ہوں؛ اس لیے وزیر اعلی کے طور پر اب بنے رہنا نہیں چاہتی ہوں۔