انتخابات سے قبل دیا گیا علماء کا بیان فتوی نہیں، سیاسی بیان بازی:پروفیسر اخترالواسع

6
نئی دہلی ، (ملت ٹائمز، ایجنسیاں)
انتخابات سے قبل کسی سیاسی پارٹی کے حق میں دیا گیا کسی مذہبی عالم کا بیان علماء کرام کی نظر میں فتوی نہ ہوکر محض سیاسی بیان بازی ہوتا ہے اور ان کے مطابق ،مذہبی معاملات میں اسے جاری کرنے کا حق صرف مفتی کو ہے۔علماء کرام کے مطابق ،فتوی اسلامی امور پر دی جانے والی رائے ہوتی ہے اور یہ صرف وہی شخص دے سکتا ہے جس نے فتوی دینے کی تعلیم حاصل کی ہو، فتوی دینے کی تعلیم حاصل کرنے والے شخص کو مفتی کہتے ہیں۔غیر اسلامی امور پر فتوی نہیں دیا جا سکتا ہے۔؟مشہور اسلامی اسکالر اور جودھپور کی مولانا آزاد یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اختر الاسلام الواسع نے میڈیا سے کہاکہ فتوی ایک رائے ہے جس کی پابندی لازمی نہیں ہے، فتوی دینے کا حق سب کو نہیں ہے، چاہے وہ عالم دین ہی کیوں نہ ہوں، اس کے لیے خاص قسم کی ٹریننگ ہوتی ہے جس کو مکمل کرنے کے بعد کوئی مفتی بنتا ہے اور وہ فتوی جاری کر سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ مفتی کسی بات پر کسی رائے کا اس وقت اظہار کرتا ہے جب اس سے اسلام سے متعلق کوئی سوال پوچھاگیا ہو، پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ کوئی بھی امام یاعالم دین مذہب کے معاملے پر کوئی رائے دے رہے ہیں ،تو اس کی ہمیشہ مذہب کی صحیح ترجمانی نہیں ماننی چاہیے ۔پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ مفتی کی ٹریننگ مدارس میں ہوتی ہے،وہاں نصاب مکمل کرنے کے بعد اگر کوئی عالم اور فاضل بنتا ہے تو کوئی قرآن کی تشریح کرنے والا۔انہوں نے کہا کہ اسلامی قانون کے طریقہ کار کی وضاحت کرنے والا ہی مفتی کہلاتا ہے اور فتوی دینے کا حق اسی کو ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی عالم دین کی بات کو فتوے کے طور پر پیش کرنا سراسر غلط ہے۔انہوں نے کہا کہ فتوے کی پابندی ضروری نہیں ہے اور یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اسے مانے یا نہ مانے۔دہلی کی فتح پوری مسجد کے شاہی امام مولانا مفتی مکرم نے کہاکہ اگر آپ کسی معاملے پر شریعت یا اسلامی قوانین پر کوئی معلومات چاہتے ہیں ،تو آپ مفتی کے پاس جاتے ہیں اور جب مفتی صاحب آپ کو وہ معلومات دے دیتے ہیں تو اسے فتوی کہتے ہیں۔
SHARE