خواجہ معین چشتی بھی بھگوارنگ میں تبدیل ،فیس بک پر اظہاررائے کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی ،طلبہ میں بے چینی

4

لکھنو(ملت ٹائمز)
خواجہ معین الد ین چشتی اردو عربی فارسی یونیورسیٹی لکھنو کے رجسٹرار جو موجودہ عبوری وی سی بھی ہیں جنکے ایماپر طالبعموں کو سوشل میڈیا پر اظہار رائے کی وجہ سے نوٹس جاری کی جا رہی ہے اور بعضوں کو دھمکایا بھی جارہا ہے ۔جب سے ریاست میں بی جے پی کی سرکار آئی ہے ایسا لگتا ہے کہ آزادی اظہاررائے پربراہ راست حملہ کیا جارہا ہے کیونکہ سوشل میڈیا جواکیسویںصدی کی جمہوریت کاحقیقی آئنہ اور ستون ہے اس پر بھی قدغن لگانے کی کوشش رجاری ہے اور اگر یہاں بھی آواز دبا دی جائیگی تو اندھ بھکتی کے اس دور میں جمہوریت کی بقا مشکل ہے اس سلسلے میں کئی شکایت وثبوت بھی دریافت ہو چکے ہیں۔
ایک طالبعلم نے نام نہ ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ملت ٹائمز سے بتایاکہ ایک طالب علم نے گذشتہ کچھ روزقبل ہوئی کھلی غنڈہ گردی اور مارپیٹ کی امر اجالا میں چھپی خبر کی کٹنگ فیسبک پر لوڈ کردی صرف اس وجہ سے اسکے خلاف نوٹس جاری کردی گئی جب طالبعم نے اسکا جواب دیا تو اسے خارج کر دیا گیا اور پھر دوسری نوٹس جاری کرتے ہوئے دھمکایااور ڈائیلاگ سنایا گیاکہ پانی میں رہ کر مگرمچھ سے بیر۔ اس کے علاوہ مزے کی بات یہ ہے کہ موجودہ رجسٹرارعبوری وی سی کا چارج سنبھال رہے ہیں ۔ جس کی میعاد صرف تین ماہ کی تھی جو 4 جون 2017 سے تھی جو تقریبا اب تک مکمل ہو چکی ہے لیکن ریاست اور مرکزمیں بی جے پی کی حکومت ہونے۔کی وجہ سے تین تین عہدہ پر قابض ہے یہ ریاست کی واحد یونیورسٹی ہے جس میں موجودہ رجسٹرارکے ساتھ ساتھ وی سی اور ایکزام کنٹرولر بھی ہے اور اسی سے یونیورسٹی میں ہورہی بد عنوانی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور اس پر مستزاد یہ ہے کے پراکٹر نیرج شکلا کی بھی غندہ گردی جاری وساری ہے کیون کہ تمام تر نوٹسیں پراکٹر آفس سے ہی جاری کی گئی ہے اور بسا اوقات پراکٹر چھوٹے چھوٹے معاملات پر بھی ہاتھ اٹھانے سے نہیں چوکتے ہیں ان تمام وجہوں کی وجہ سے بچے آزاد فضا میں سانس لینے سے قاصر ہے
اور یونیورسٹی کا معنی بے مطلب ثابت ہوچکا ہے۔