نئی دہلی(ملت ٹائمزایجنسیاں)
جنوبی ہندوستانی سنیما کے مقبول اداکار کمل ہاسن کی جانب سے ’ہندو دہشت گردی ‘کا متنازعہ مسئلہ اٹھائے جانے کے بعد اب ایکٹر پرکاش راج نے بھی ایسا ہی تبصرہ کیا ہے۔بالواسطہ طور پر بی جے پی اور ہندو تنظیموں پر وار کرتے ہوئے پرکاش راج نے ٹویٹ کیاکہ اگر فرقے، ثقافت اور اخلاقیات کے نام پر کسی کو ڈرانا دہشت پیدا کرنا نہیں ہے تو پھر دہشت کے لئے کیا ہے۔اس ٹویٹ کے بعد پرکاش راج تنازعہ میں گھر سکتے ہیں۔اس سے پہلے سیاست میں آنے کی تیاری کر رہے کمل ہاسن نے ایک تامل میگزین کے لئے لکھے مضمون میں کہا تھا کہ رائٹ ونگ نے اب مسل پاور کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ رائٹ ونگ تشدد میں ملوث ہے اور ہندو کیمپوں میں دہشت گردی گھس چکی ہے۔پرکاش راج نے کہاکہ اگر میرے ملک کی سڑکوں پر نوجوان جوڑوں کے ساتھ اخلاقیات کے نام پر بدسلوکی کرنا دہشت کرنا نہیں ہے۔گﺅکشی کے معمولی شک پر قانون ہاتھ میں لیتے ہوئے لوگوں کو پیٹ کر مارڈالنا دہشت کرنا نہیں ہے۔اگر کسی کو ٹرولنگ کرنا، گالیاں دینا اور ذرا سی اختلاف پر خاموش رہنے کی دھمکی دینا دہشت کرنا نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟
غور طلب ہے کہ کمل ہاسن کی جانب سے’ہندو دہشت گردی‘کو لے کر متنازعہ تبصرہ کے جواب میں بی جے پی لیڈر سبرمین سوامی نے کہا تھا کہ انہوں نے ایسے وقت پر یہ معاملہ اٹھایا ہے، جب کیرالہ میں مسلم انتہا پسند تنظیم راڈار پر ہیں۔یہی نہیں ونے کٹیار نے ہاسن پر ہندو سماج کی توہین کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے لیے انہیں معافی مانگنی چاہئے۔





