دیوبند(ملت ٹائمزسمیر چودھری)
دارالعلوم دیوبند کے سابق مہتمم مولانا غلام محمد وستانوی نے تعلیم و تجارت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی وہ اپنی پوری توجہ تعلیم و تجارت پر دیں اور اپنے نونہالوںکو دینی و دنیوی دونوں تعلیمات سے روشناس کراکر صنعت و حرفت میںماہر بنائیں ،تعلیم و تجارت یہ دو ایسے مضبوط ہتھیار ہیں جن سے دنیا کو فتح کیا جاسکتاہے۔ جامعہ اشاعت العلوم اکل کنواں کے مہتمم و معروف ماہر تعلیم مولانا غلام محمدوستانوی آج یہاں دارالعلوم دیوبند کے شوریٰ کے اجلاس میں شرکت کرنے پہنچے تھے۔کچھ اخبار نویسوں سے گفتگو کے دوران انہوں نے موجودہ ملک کی صورتحال،سیاست اورگجرات کے انتخابات کے لئے حوالہ سے گفتگو نہیں کی ہے۔ ایک سوال کے جواب میںانہوںنے کہاکہ اس وقت سوشل میڈیا پر جو ویڈیو میرے حوالہ سے باز گشت کررہی ہے وہ بہت پرانی ہے،فی الوقت انہوں نے سیاست یا گجرات کے انتخابات کے حوالہ سے کسی بھی قسم کا کوئی بیان نہیںدیاہے۔سوالات کے باوجود گجرات انتخابات کے حوالہ سے انہوں نے صرف اتنا ہی کہاکہ لوگوں کو سمجھداری سے فیصلہ کرنا چاہئے۔انہوں نے تعلیم و تجارت کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جس طرح دینی تعلیم کے لئے مدارس قائم کئے گئے اسی نہج پر عصری اداروں کا قیام اس وقت ناگزیر ہے اور ان اداروں میں طلبہ کی اخلاقی تربیت کی ذمہ داری علماءکرام کے ذریعہ انجام دی جانی چاہئے تاکہ طلبہ دینی ماحول میں عصری تعلیم بھی حاصل کرسکےں۔ انہوں نے کہاکہ اگرچہ قوم کے اندر تعلیم کے تئیں بیداری ضرور آئی ہے لیکن ابھی اس میدان میںکافی اصلاح کی ضرورت ہے کیونکہ قوم و ملت کی ترقی بغیر تعلیم کے ممکن نہیں ہے اور آج جس مقام پر ہم کھڑے ہیں یقینا تعلیمی پسماندگی اس کا بڑا سبب ہے۔ انہوں نے ذمہ داران مدارس سے طلبہ کی تربیت سازی پر خصوصی توجہ دینے کوضروری قرار دیتے ہوئے کہاکہ اعلیٰ تعلیم اور بہتر تربیت لازم و ملزوم ہیں ۔انہوںنے کہاکہ آج پوری قوم اخلاقی طورپر زوال پذیر ہوتی جارہی ہے ،اپنے اخلاق کو درست کرنا ہماری اولین ترجیحات میں ہونا چاہئے۔ انہوں نے تجارت میں حصہ داری پرزور دیتے ہوئے کہاکہ تعلیم و تجارت دو ایسے مضبوط ہتھیار ہیں جن کے ذریعہ پور ی دنیا کو فتح کیاجاسکتاہے،اسلئے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ دیانتداری کے ساتھ تجارت کریں اور ملک کی اقتصادیت کو بہتر بنانے میں اپنارول ادا کریں۔مولانا غلام محمد وستانوی گجرات انتخابات کے سلسلہ میں سوشل میڈیا پر وئرل اپنی ویڈیو کی تردید کرتے ہوئے اسے پرانابتایااور کوئی بھی سیاسی گفتگو نہیں کی۔





