دیوبند(ملت ٹائمزسمیر چودھری)
دیوبند کے معروف تعلیمی و تکنیکی ادارہ مولانا حسین احمد مدنی مدرسہ انبہٹہ پیر کے احاطہ کے اندر عربی درجات کی درسگاہوں پر مشتمل ایک جدید منزل کی تعمیر کی تکمیل کے موقع پر افتتاحی پروگرام کا انعقاد کیا گیا ۔اس موقع پر 2011 کے بعد جمعیة علماءہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی اور دارالعلوم دیوبند کے سابق مہتمم مولانا غلام محمد وستانوی ایک ساتھ نظر آئے ۔واضح رہے کہ 2011 میں دارالعلوم کے اہتمام کے لیکر ہوئے تنازع کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب مولانا غلام محمد وستانوی اور مولانا سید ارشد مدنی ایک ساتھ اسٹیج پر نظر آرہے ہیں،کہاجاتاہے کہ دارالعلوم دیوبند کے اہتمام سے استعفی دینے پر مجبور کرنے کیلئے مولانا غلام محمد وستانوی مولانا سید ارشدمدنی صاحب کوہی ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ انہوں نے طلبہ کا استعمال کرکے میری مخالفت میں مہم چلائی ۔ ہم آپ کو بتادیں کہ مولانا سید ارشدمدنی اور مولانا غلام محمد وستانوی آپس میں رشتے دار بھی ہیں ،مولانا ارشد مدنی کے ایک بیٹے کی زوجیت میں مولانا غلام محمد وستانی کی ایک صاحبزادی ہیں ۔نمائندہ کے مطابق اپنے صدارتی خطاب میں جمعیة علماءہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی کہا کہ موجودہ دور میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم بھی بے حد ضروری ہے مسلمانوں کو اس جانب خصوصی توجہ دینی چاہئے تاکہ قوم کے نوجوان ملک کی بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا شکار نہ ہو، مولانا نے کہا کہ اللہ کا کرم ہے آپ کے علاقہ کے اس دارہ میں دینی تعلیم کے علاوہ عصری تعلیم کے لئے حکومت سے منظورشدہ آئی ٹی آئی بھی قائم ہے جس سے علاقہ کے آٹھویں وہائی اسکول پاس نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاکر اپنی خوابیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرناچاہئے ۔پروگرام میں بحیثیت مہمان خصوصی موجود رہے مولانا غلام محمد وستانوی سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ مدارس اسلامیہ کا مقصد قرآن وحدیث کی تعلیم واسکی نشرواشاعت ہے، مولانا وستانوی نے ادارہ کے طلباءکے ذریعہ پیش کی گئی تقاریروپروگرام کو بغور سماعت فرمایا نیز ادارہ کی تعلیمی وتربیتی سرگرمیوں پر اطمینان کا اظہار کیا اورادارہ کے ناظم وجمعیة علماءضلع سہارنپور کے صدر مولانا حبیب اللہ مدنی کی محنت کو خوب سراہا۔قبل ازیںپروگرام کا آغاز ادارہ کے ایک طالب علم کی تلاوت سے ہوا ،جبکہ نظامت کے فرائض ادارہ کے ناظم مولاناحبیب اللہ مدنی نے انجام دیئے ۔دوران پروگرام ادارہ میں ایک سال کے اندر مکمل قرآن پاک حفظ کرنے والے ودوران تعلیم کوئی غیر حاضری نہ کرنے والے تقریباً 50طلباءکو مولانا وستانوی کے دست مبارک سے گراں قدر انعامات سے نوازا گیا نیز مولانا وستانوی کی دعاءپر پروگرام پایہ¿ تکمیل تک پہنچا۔آخرمیں مولانا حبیب اللہ مدنی نے سبھی شرکاءکاشکریہ ادا کیا۔ اس موقع پرمولانا قیصر ٹدولی، مولانا محمد عارف ابراہیمی ،مدنیہ تعلیم القرآن گنگوہ کے ناظم مولانا ازہر مدنی ،جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ کے نائب مہتمم قاری عبیدالرحمان،قاری زبیر کریمی دبنی والا،مولانا یعقوب تھانوی،مولانا عدنان منصورپوری،مفتی سفیان منصورپوری، مولانا محمد احسان قاسمی ،مفتی محمد راشدمظاہری ،مفتی پرویز مظاہری کے علاوہ قرب وجوار سے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔





