شاعرمشرق علامہ اقبالؒ کوخراج عقیدت۔یوم اردو کے حسین موقع پر نامور شعراءو ادباءکی اردو زبان کے رسم الخط کو فروغ دینے کی اپیل

دیوبند(ملت ٹائمزسمیر چودھری)

شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ کے یوم پیدائش کے موقع پر شعراءو دانشوران نے عالمی یوم اردو پر محبان سے یہ اپیل کہ وہ اردو کی بقاءو تحفظ کو یقینی بنانے کے خاطر اپنے گھروں اور عوامی بول چال میں اس لطافت آمیز زبان کو رواج دیں ،تاکہ نئی نسل اس شیریں اور مادری زبان کی تاریخ اور اس کی افادیت سے صحیح طریقہ پر آشنا ہوسکے ۔ اس بابت عالمی شہرت یافتہ شاعر واردو اکیدمی یوپی کے سابق چیئرمین ڈاکٹر نواز دیوبندی نے یوم اردو کے موقع پر برادران وطن کو مبارکباد پیش کر تے ہوئے اردو زبان کو پیار و محبت او رامن وبھائی چارہ کی مثال قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ اردو زبان نے جنگ آزادی اور آزاد ہندوستان کی تعمیر و تشکیل میں اپنا بھر پور کردارادا کیااوریہ ان اعلی و ارفع قدروں کی تر جمانی کرتی ہے جو ملک میں قومی یکجہتی و جذباتی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں ، جسکو مذہب وملت سے اوپر اٹھ کرتمام شریف و ادب پسند انسانوں نے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا ہے ،محبان اردو کو چاہئے کہ وہ اس کی ترویج و اشاعت میں بھر پور کردار ادا کریں ،تاکہ ہمارے ملک میں ایک ایسا صالح معاشرہ جنم لے جس کا خواب مجاہدین آزادی نے دیکھا تھا۔ معروف انشاءپردازحکیم حامد تحسین نے کہا کہ تشویشناک امر یہ ہے کہ اس ترقی پذیر دور میں اردو کا رسم الخط تبدیل ہوتا جارہاہے۔یوم اردو کے زریں موقع پر انہوںنے زور دیکر کہا کہ اس موقع پر ہم دوبارہ اردو رسم الخط کو اپنے گھروں میں لائیں اور اپنے نونہالوں کو اردو سے آشنا کریں ۔ انہوں نے کہا کہ بچیوں کو ان کی اول عمر سے ہی اردو کی تعلیم و ثقافت و تہذیب سے آراستہ کر یں تو یہ زبان پھل پھول سکتی ہے اور محبان اردو اردو رسم الخط کو حتی الامکان فروغ دیں اس سے ہمار ے اردو کا مستقبل محفوظ ہوگااور نسل خود اسکی تاریخ اور حلاوت سے بہتر طریقے پر آشنا ہو سکتی ہے ۔ معروف ادیب عبداللہ عثمانی نے یوم اردو کے حوالہ سے کہاکہ اس موقع پر ہمیں یہ بات ذہن نشیں کرلینی چاہئے کہ جو بات ہم اپنے لئے پسند کرتے ہیں وہی بات اس دن اردو زبان کے لئے پسند کریں ، اس دن اردو کا نصف سے زیادہ مسئلہ حل ہوجائے گا ۔ انہوں نے کہاکہ اس موقع پر علامہ اقبال ؒ کو سب سے سچی خراج عقیدت یہ ہوگی کہ ہم ان کے اشعار میں پائی جانے والی ہمت و جرا¿ت ،حوصلہ و جواں مردی اور جدو جہد کے جذبہ کو اپنی زندگی میں عملی جامہ پہنائے ۔ معروف شاعر شمس دیوبندی نے محبان اردو سے عملی اقدمات کے ذریعہ اپنے گھروں میں اردو کو عام کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ جب تک ہم اس شیریں زبان سے اپنے بچوں کوروشناس نہیںکرائینگے اس وقت تک اس زبان کو اس کے جائز حقوق حاصل نہیں ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم حکومتوں پر منحصر رہ کر کبھی بھی اردو زبان کو فروغ نہیں دے سکتے بلکہ اس کے لئے ہمیں خود عملی اقدامات کرنے ہونگے۔ نامور قلمکارسید وجاہت شاہ نے یوم اردو پر علامہ اقبال کو بہتری سچی عقیدت پیش کرنے کا طریقہ کار بتاتے ہوئے کہاکہ ہم ان کے بلند و مثبت افکارو خیالات اور قومی یکجہتی کی علمبردار اردو سے اپنے نونہالوںآراستہ کریں ،اسلئے کہ اردو ہماری گنگا جمنی تہذیب کی علامت ہے ۔ انہوں نے اقبال کے منفرد شاعرانہ انداز کے حوالہ سے کہاکہ ہزاروں فارسی اور اردو کے شعراءکے ہجوم میں کوئی ایک آواز بھی ایسی نہیں جو گرج کے ساتھ چمک بھی رکھتی ہو اور جس کے اندر کھل کر کرہ¿ ارض پر برس جانے کی بدرجہ اتم صلاحیت موجود ہو ،تاہم یہ صفات علامہ اقبال میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے ۔ شاعر ماسٹر شمیم کرتپوری نے کہاکہ یوم اردو ہمیں اقبال کی حب الوطنی اور قوم پرستی کا درس دیتی ہے ،جس پر چل کر ہمیں اردو زبان و ادب کی خدمت کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ سچی خراج عقیدت یہ ہوگی کہ ہم زیادہ سے زیادہ علامہ اقبال کے پیغام کو پوری دنیا میں پھیلائیں