سیہور(ملت ٹائمز)
مدھیہ پردیش کے سہیور ضلع کی ایک عدالت نے شادی کا جھانسہ دے کر عصمت دری کرنے والے ملزم کے خلاف جرم ثابت ہونے پر اسے 10 سال کی سزا سنائی ہے ۔
استغاثہ کے مطابق کٹیب پورہ قصبہ کے رہنے والے نسیم انصاری نے اپنے پڑوس میں رہنے والی لڑکی کے ساتھ دوستی کرکے اس کے ساتھ عصمت دری کی۔ جب لڑکی نے اس بارے میں اپنے والدین کو بتایا تو نسیم نے اس سے شادی کرنے کا بھروسہ دلایا لیکن اس اعتماد دلانے کے بعد بھی لڑکا اس کے ساتھ عصمت کرتا رہا اور شادی کے لئے رضا مند نہیں ہوا۔ اس سے تنگ آکر لڑکی نے مٹی کا تیل ڈال کر خود کو آگ لگالی۔لڑکی کو اسپتال لے جایا گیا جہاں علا ج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔اعلی سیشن جج انیتا باجپئی نے ملزم نسیم کے خلاف جرم ثابت ہونے پر کل یہ سزا سنائی۔





