شیر میسور ٹےپو سلطان اورمولانا ابو الکلام کو امبیڈکر نیشنل پارٹی نے پیش کیا خراج عقیدت

نئی دہلی(ملت ٹائمز)
حضرت ٹےپو سلطان ٹرسٹ اورامبےڈکر نےشنل کانگرےس پارٹی کے ذرےعے ملک گےر سطح پر مولانا ابو الکلام آزاد اور حضرت ٹےپوسلطان کے ےوم پےدائش پر پروگرام منعقد کئے گئے ۔مہاراشٹر کے صدر معےن الدےن انعامدار نے اس موقع پر دونوں رہنماﺅں کو خراج عقےدت پےش کرتے ہوئے ان کی تصوےر پر گل پوشی کی ۔اس موقع پر پارٹی کے قومی صدر نواب کاظم علی خان نے اپنے پےغام مےں ملک کے تمام ےونٹس کو پےغام ارسال کی جس مےں انہوں نے کہاکہ آج “مولانا ابو الکلام آزاد” کا یومِ پیدائش ہے۔ یہ دن ہمارے ملک میں “قومی یومِ تعلیم” کے طور پر منایا جاتا ہے۔ مولانا ابو الکلام آزاد ہندوستان کی ایک حساس شخصیت تھی۔ مولانا آزاد جہاں ہندوستا نی سیاست میں صف اول کے لوگوں میں قیادت کے منصب پر فائزتھے۔وہےں مسلمانوں کے لئے انتہائی فکر مند رہتے تھے۔
ٹےپو سلطان کو خراج عقےدت پےش کرتے ہوئے نواب کاظم علی خان نے کہا کہ ٹیپوسلطان نے اپنی پوری توجہ اتحاد بین المسلمین اور اتحاد بین الاقوام ہند پر مرکوز کی تو دوسری جانب ملک کی صنعت و حرفت پر بھرپور توجہ دی۔ سلطان کے یہی عزائم و ارادے تھے جنہوں نے صلیبی ایسٹ انڈیا کمپنی کو اس مسلم سلطان کا مخالف بنا دیا اور اسی مخالفت نے اس کو تمام عمر جنگوں میں مصروف رکھا۔ مگر باوجود اس کے سلطنتِ خداداد میسور نے صنعت و حرفت اور دیگر فنون میں جو ترقی کی وہ میسور کو کبھی دوبارہ حاصل نہ ہوسکی۔ٹیپو سلطان نے یہ محسوس کرلیاتھا کہ یوروپ کے انقلاب کی بدولت انگریزوں کے پاس جدیدترین اسلحہ اورجنگی ساز وسامان موجود ہیں۔ اس کا مقابلہ پرانے اور فرسودہ جنگی آلات سے نہیں کیا جاسکتا۔اس لئے اس نے بڑے پیمانے پر نئی تکنیک استعمال کرکے جنگی ساز وسامان تیار کروائے۔ اس نے نہ صرف پیدل افواج اور گھوڑسواروں پر خصوصی دھیان دیا بلکہ بحریہ کو بے انتہا مضبوط اور جدیدترین بنایا۔ بحریہ کاقیام ٹیپوسلطان کاایک عظیم کارنا مہ ہے۔ وہ ہندستان کا پہلا حکمران تھا۔ جس نے سمندری راستوں کی اہمیت کااحساس کیا اور اس کا باضابطہ انتظام کیامسلم مورخ سچ لکھتا ہے کہ حضرت اقبال کے مردِ مومن کو اگر مجسم حالت میں دیکھنا مقصود ہو تو ٹیپو سلطان شہید اس کا بہترین نمونہ ہے۔ ٹیپو سلطان تاریخ اسلام کا وہ لازوال کردار ہے جس پر عالم اسلام تا قیامت نازاں رہے گا۔تاریخ عالم شاید ہی اس جری و اولوالعزم مسلم سلطان کی کوئی مثال یا نظیر پیش کر سکے گی۔ایک جری سپاہی اور بہترین سپہ سالار اور ایک بہترین حاکم و منتظم بھی۔سلطان ٹیپو کو اس دنیا سے ر±خصت ہوئے تقریبا دو سو بارہ سال بیت چکے ہیں لیکن سلطان ٹیپو کی عظمت کاثبوت یہ ہے کہ اب بھی اس کا نام لوگوںکے دلوں پر لکھا ہواہے۔