بھونیشور (ملت ٹائمز)
آل انڈیا مسلم پرسنل لا ءبورڈ کی وےمنس ونگ کا اڑےسہ کے شہروں اور اضلاع مےں اجلاس عام بعنوان ”تحفظ شرےعت اور اصلاح معاشرہ “آج منعقد ہوا ،شرکا نے اپنے خطاب میں کہاکہحقوق نسواں پر دنیا بھر میں صرف بات ہورہی ہے کہیں بھی اسے عملی جامہ نہیں پہنایا جارہاہے ،ہم خواتین کو خود بیدار ہوناہوگا ۔ ملت ٹائمز کو ملی تفصیلی رپوٹ کے مطابق اجلاس کا آغاز محترمہ عائشہ زرےن صاحبہ کی قرا¿ت کلام پاک سے ہوا۔ کنوےنر اجلاس عام محترمہ ممدوحہ ماجد صاحبہ ،رکن عاملہ آل انڈےا مسلم پرسنل لا بورڈ نے افتتاحی کلمات مےںاصلاح معاشرہ کی ضرورت و اہمےت،اڑےسہ کے سماجی صورتحال،جہےز کا مسئلہ، مہرکی اہمےت،طلاق کی اجازت اور مطلقہ خواتےن کا مسئلہ پر روشنی ڈالی ۔انھوں نے بھوبھنےشور اور کٹک مےںاصلا ح معاشرہ کمےٹی(برائے خواتےن) کے قےام کی ضرورت پر زوردےا۔ اور خواتےن سے اپےل کی کہ وہ اس کےلئے وقت نکالےں۔اعزازی مہمان محترمہ زےنت مہتاب صاحبہ، رکن آل انڈےا مسلم پرسنل لا بورڈ ،نئی دہلی نے ”اصلاح معاشرہ“ کے عنوان پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نبی کرےم ﷺ کی سےرت کا گہرائی سے مطالعہ کرنے سے ہمےں اصلاح معاشرہ کے کاموں مےں بڑی مددملتی ہے۔ آپ ﷺ نے اپنے اعلیٰ اخلاق و کردار کی بناءپر ہی سماج مےں اےک عظےم انقلاب برپاءکےا تھا۔ انھوں نے اس ےہودی خاتون کے واقعہ کو بےان کےا جو آپ ﷺ پر روزانہ کچرا ڈالتی تھی، جب دو تےن دن آپ ﷺ پر کچرا ڈالنے مےں وقفہ آےا تو آپ ﷺ کو اس خاتون کی فکر ہوئی ،آپ ﷺ کو جب اس کے بےمار ہونے کی اطلاع ملی تو آپ ﷺ اسکی عےادت کو پہنچ گئے۔اس کا اثر اس ےہودی خاتون پر اتنا زےادہ ہوا کہ وہ تائب ہوکر اسلام کے دامن رحمت مےں داخل ہوگئی۔۔ےہ ہے ہمارے نبی پاک ﷺ کا اخلاق و کردار ۔اسلام اخلاق سے پھےلا ہے۔انھوں نے سورہ حجرات کا حوالہ دےتے ہوئے کہا کہ ہم مسلمان اپنی اور اپنے معاشرے کی اصلاح کرےں۔اپنے اخلاق کو سنوارےں۔جھوٹ، بدگوئی، غےبت، چغلی،بدگمانی سے بچےں،ہم سچی توبہ کرےں،اسلام کی تعلےمات پر عمل کرےں۔قرآن کرےم اوراحادےث سے قرےب ہوں۔قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کی ضرورت ہے۔ رسول اللہ ؑ رحمة اللعالمےن بنکر آئے،سارے عالم کےلئے وہ سراپائے رحمت ہےں۔ہم خےر امت ہےں۔ ہم پر ذمہ داری ہےکہ ےہ تعلےمات سب تک عام کرےں۔ اصلاح معاشرہ اور تحفظ شرےعت کے پروگرامس سارے ملک مےں منعقد ہورہے ہےں۔اسکا حصہ بنےں اور اپنی اور معاشرہ کی تربےت کےلئے ےکسو جائےں۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر اسماءزہرہ صاحبہ ،مسو¿لہ وےمنس ونگ آل انڈےا مسلم پرسنل لا بورڈ نے دونوں جگہ خواتےن و طالبات کو ”اصلاح معاشرہ کے کام مےں ہم خواتےن کےا رول ادا کرسکتی ہےں“ کے عنوان پر قرآنی آےات کا حوالہ دےتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمےں نےکےوں کا حکم دےنے اور برائےوں سے روکنے اور اےمان لانے کا حکم دےاہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہم کو اےک اچھی امت بناےا، بہترےن امت بناےا۔ اللہ تعالی ٰنے ہمےں جو لقب دےا ہے وہ خےر امت کا ہے،تو ےہ اےک اےسی امت ہے جودوسروں تک خےر و بھلائی کو پھےلانے کا کام کرنا ہے۔خےر کے معنی ہےںنےکی کا کام کرن، بھلائی کا کام کرنا،فائدے کا کام کرنا ،ےعنی کہ خود اپنے بھی فائدہ کا کام کرنا اور دوسروں کے فائدے کا بھی کام کرنا ہے۔ہر اےک کی بھلائی اور بہتری کا کام کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ذمہ داری ہم پر آپ پر ڈالی ہے،ہم اسی لئے بھےجے گئے ہےں۔اور اےک کام جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر ڈالی ہے ‘وہ ہے برائی سے روکنا،ےعنی نہی عن المنکر کا کام کرنا ہے۔ےعنی جہاں تم ےہ دےکھو،جھوٹ ہے، غلط ہے، ناانصافی ہے، سماج مےں نابرابری ہے،ظلم و زےادتی ہے، جو طاقتور ہے کمزور پر ظلم کررہا ہے، جو پےسے والاہے ،وہ امےر بنتے جارہا ہے،جو غرےب ہے وہ دبتاجارہا ہے، جو ہمارے وسائل ہےں،رےسورسس ہےں، وہ کچھ لوگوں تک محدودہےں۔باقی لوگ اس سے فائدہ نہےں پہچاتے ہےںانسان انسان پر ظلم کررہا ہے،ےہ سب چےزےں جو سماجی ناانصافی کی ہےں، ظلم و بربرےت کی ہےں،جہاں پر کمزور طبقوں پر ظلم ہورہا ہے،چاہے وہ اس زمانے ،اس دور مےںجب آپ ﷺ مبعوث کئے گئے تھے،تواس دورمےں جو ےتےم کمزور تھے، عورتےں کمزور تھےں تو اس زمانے مےں آپ ﷺ کا جو انقلاب تھا، پےغام تھااس نے اےسی تبلےغ کی کہ تمام پچھڑے طبقے تھے، کمزور طبقے تھے، انکو انکا حق دےا گےا۔ان کے ساتھ انصاف کا معاملہ کےا گےا۔انکوسماج مےں برابری کا، باعزت اور باوقار مقام دےا گےا۔اسطرح اللہ تعالیٰ نے جو خےر امت کا کام ہم کو دےا بھلائی کو پھےلائےں، خےر کو پھےلائےں ،لوگوں کے کام آئےں۔برائی دےکھےں توبرائی کو روکےں۔اور ےہ سب کام اس لئے نہےں کہ لوگ ہم کواےواڈ دےں،مےڈل دےں، ےاپھولوں کا ہار پہنائےں، جی نہےں ،ہم کو ےہ کا م اس لئے کرنا ہےکہ ہمارااےمان للہ پر ہے، اللہ کو راضی کرنے کےلئے کرنا ہے، ۔ےہ کام بھی اسی طرح کرنا ہے، جےسا نماز پڑھناہے، روزہ رکھنا ہے،زکوٰة دےناہے ، حج کرناہے۔ےہ سب کام ثواب کے ہےں۔اسی طرح خےر کا کام بھی ثواب کا ہی کام ہے۔ آج جب ہم ےہاںخواتےن جمع ہوئے ہےں، ےہ جلسہ رکھا گےا ہے،اللہ تعالیٰ نے ہمےں کےا کام دےا ہے، ہماری ذمہ داری کےا ہے۔انھوں نے کہا کہ آج جب ہم دنےا مےں دےکھتے ہےں،ٹی وی مےں دےکھتے ہےں،تو بات ےہ چلتی ہےکہ مرد و عورت مےں برابری نہےں ہے۔ناانصافی ہے، جنڈر جسٹس نہےں ہے،،بلکہ عورتوںپر ظلم ہورہا ہے، کہےںپہ گھروں مےں عورتےں گھرےلو تشدد کا شکار ہے،، کہےں پرجہےز کا مسئلہ ہے، کہےں پر عورت باہر پڑھنے جاتی ہے، ےا کمانے جاتی ہے تو سرکھشا کا مسئلہ ہے۔بچےاں اسکول مےں پڑھنے جاتی ہےں،اسکولوں مےں پڑھائی نہےں ہوتی، سماجی صورتحال، معاشی صورتحال گھروں اور خاندانوں مےں عورت کا مقام کےا ہے، ہم اس ملک مےںرہتے ہےں ۔تمام مذہبوں کی سماجی صورتحال کو اگر ہم دےکھےں توسب بڑا مسئلہ اسکے مقام و مرتبہ کا ہے، ہر مذہب مےں عورت کے تحفظ اور سرکھشا کاہے، عورتوں کے حقوق کے بارے مےں باتےں تو بہت کی جاتی ہےں مگر اسکا نفاذ کسی بھی مقام پر صحےح اور بہتر طرےقے پر نہےں ہوپاتا ہے۔اےسے مےں ہم خواتےن مےں بےداری آنا لازمی ہےں ، ہم اپنی ذمہ داری کو سمجھےں ، گھر، خاندان ،معاشرہ اور ملک مےں اےک صحےح تبدےلی لانے کی کوشش کرےں۔ہم مسلمان ہر سطح پر پچھڑے پن کا شکارہےں، سماجی،معاشی، تعلےمی،سماجی و تمدنی اور غرےبی ،ہر سطح پر ہم مےں پچھڑا پن کا شکار ہےں۔اس سے نکلنے کا اےک ہی طرےقہ ہےکہ ہم اپنے آپ کو پہنچانے ، اپنی توانےاں اصلاح معاشرہ کے کام مےں صرف کرےں۔محترمہ سنےھانجلی سوناہٹی ممبراڑےسہ اسٹےٹ کمےشن فار وےمنس ،بھوبھنےشور، نے اجلاس عام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم خواتےن مذہب کو بےچ مےں لائے بغےر سب سے پہلے اپنے مقام کو پہنچانےں، اپنے آپ کی عزت کرےں، اپنی قدر کرےں، جب آپ مےں ےہ سب سمجھ آئےگی تو پھر آپ گھر، خاندان اور سوسائٹی مےں اپنے مقام و مرتبہ کو قائم کرپائےنگی۔ اپنے اور دوسروں کے حقوق کے حصول کےلئے صحےح طرےقے کو اپنائےنگی، اور اپنی عورت ہونے کی ذمہ داری کا فرض بھی ادا کرےنگی۔ کنوےنراجلاس عام محترمہ ممدوحہ اجد صاحبہ نے آل انڈےا مسلم وےمن ہلپ کاتعارف کرواےا اور ہلپ لائن کے ٹول فری نمبر پر خواتےن کواپنے مسائل کےلئے ربط پےدا کرنے کی ترغےب دی۔ خواتےن و طالبات کی کثےر تعداد اس اجلاس عام مےں شرےک تھےں۔





