پٹنہ(ملت ٹائمزاشفاق احمد)
ملت کے اند ر مقاصد میں اتحاد و ہم آہنگی پائی جاتی ہے ،ہاں طریقہ¿ کار میں اختلاف ہے، اس لیے طریقہ¿ کار کے اختلاف کو ہر گز بنیا د نہ بنایا جائے اور اس کو امت کا اختلاف نہ سمجھا جا ئے ، ان خیالات کا اظہارناظم امارت شرعیہ مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب نے ضلع پٹنہ کے نقباءامارت شرعیہ ، ائمہ مساجد اور مدارس و اسکولوں کے اساتذہ کرام کے ایک خصوصی اجتماع سے کیا ، امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ و جھارکھنڈ کے زیر اہتمام ۲۱ نومبر ۷۱۰۲ئ کو مفکر اسلام امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب مدظلہ کی ہدایت پر المعہد العالی لتدریب القضاءو الافتاءمیں منعقد اجلاس سے ناظم امارت شرعیہ نے فرمایا کہ ضلع پٹنہ کے سروے رپورٹ سے اندازہ ہو تا ہے کہ ان بلاکوں کے مسلمانوں کی دینی ، سماجی و تعلیمی صورتحال نہایت ہی ابتر ہے، یہاں کے بعض بلاک ایسے ہیں جہاں ۰۵ فیصد آبادی میں بھی دینی مکتب قائم نہیں ہیں ، اور چند بلاک تو ایسے ہیں جہاں ۵۷ فیصد گاو¿ں میں دینی تعلیم کا کوئی نظم نہیں ہے ۔ جس کی وجہ سے ان علاقوں میں آبادی کے تناسب سے علماءو حفاظ کی تعداد نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے ، ناظم صاحب نے کہا کہ مسلمانوں سے تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے ہر مسجد میں دینی تعلیم کے نظام کو قائم کرنے اور علم کی شمع کو گھر گھر پہونچانے کے لیے اصلاحی تحریک چلانے کی ضرورت ہے ، انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں جرائم کی وبا بھی تیز ی سے پھیل رہی ہے ، عورتوں کے ساتھ تشدد کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں ، قتل و خونریزی نے امن پسند لوگوں کی نیند حرا م کر دی ہے ، عریانیت و بے حیائی کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے ، جس سے پورا معاشرہ کرب میں مبتلا ہے ، امارت شرعیہ جلد ہی برادران وطن کو ساتھ لے کر عوامی بیداری کی تحریک چلائے گی ، اور اس کے لیے آپ کو تیار رہنا ہے ۔ ناظم صاحب نے کہا کہ ۷۴۹۱ئ کے خونریز فساد ات میں بہت سی مسلم آبادیاں ویران ہو گئیں اور وہاں کی مسجدوں میں تالے پڑ گئے اور قبرستانوں کی اراضی پر دوسروں نے قبضہ جمالیا ، آپ حضرات ان علاقوں کے نمائندے ہیں ، مساجد و قبرستان کی باز آباد کاری کے لیے جد و جہد کریں اور ا س کو آباد کرنے کی تدبیر نکالیں ۔مولانا ڈاکٹر عتیق الرحمن صاحب نے کہا کہ اس وقت ملک کے سیاسی بازیگر مسلمانوں کو فرقوں اور گروہوں میں بانٹنے کی کوشش کر رہے ہیں ، ہم کو اس سے ہوشیار رہنا ہے ، اور اپنی ملی وحدت کو ہر حال میں قائم رکھنا ہے ، اور امارت شرعیہ کی قیادت میں مضبوط و مستحکم تنظیم کے ساتھ زندگی گذارنی ہے۔ انہوں نے نے کہا کہ اس وقت ہمارے اوپر ایک ایسے نظام تعلیم کو رائج کرنے کی حکمت عملی بنائی جا رہی ہے کہ ہم اپنے عقیدہ¿ توحید سے محروم ہو جائےں ، ایسی صورت میں ہم کو چاہئے کہ ہم اصلاحی تعلیمی پروگرام چلائیں ، امارت شرعیہ کی طرف سے سی بی ایس ای طرز پر تین اسکول کھولے جارہے ہیں ، ہم سب کو امارت شرعیہ کے اس تعلیمی مشن کو قوت پہونچائیں تاکہ ہمارے بچے صحیح اسلامی عقائد کے ساتھ زندگی گذاریں ۔ مولانا مفتی محمد ثناءالہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ نے کہا کہ اس وقت مسلمانوں کے ایمان و عقیدے پر حملے ہو رہے ہیں ، فتنہ مسلکیت نا خواندہ مسلمانوں کو اپنی لپیٹ میں لیتا جا رہا ہے ، مہدویت کا دعویٰ کر کے بہت سے مسلمانوں کو گمراہی کے راستہ پر ڈال دیا ہے ، ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم مسلمانوں کے عقیدے کو اسلامی بنیادوں پراستوار کریں اور اپنے آپ کو اور سماج کو اس طرح کے فتنوں سے بچائیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہماری نئی نسل لادینیت کا شکار ہو کر اسلامی کی بنیادی تعلیمات سے بھی ناواقف ہو تی جا رہی ہے ، اس کی اصلاح کے لیے فکر مندی اور دلسوزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ پروفیسر مولانا شکیل احمد قاسمی نے کہا کہ نظریاتی اختلاف کو کسی عمل کے لیے بنیاد نہ بنایا جا ئے ، بلکہ مشترکہ مقاصد میں اتحاد و یک جہتی کے ساتھ تعاون و تشاور سے کام کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ گرچہ اس وقت ہمارا ملک اعلیٰ تعلیم کے میدان میں ترقی کر رہا ہے ، لیکن اخلاقی پسماندگی کا شکار ہو تا جا رہا ہے ، ہم سب نئی نسل کو دینی و اخلاقی تعلیم سے آراستہ کریں تا کہ آخرت کے دن شرمندگی نہ اٹھانی پڑے ۔نائب ناظم مولانا محمد شبلی قاسمی نے کہا کہ ائمہ مساجد سماج میں مرکز کی حیثیت رکھتے ہیں ، ان کی قیادت پر لوگوںکو اعتماد و اعتبار حاصل ہے ، اور آج بھی ان کی باتیں غور سے سنی جاتی ہیں ۔اب موجودہ حالات میں ان کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں ، اس لیے وہ امارت شرعیہ اور مفکر اسلام امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب مد ظلہ العالی کی ہدایتوں پر ملت کی تعمیر پر توجہ دیں اور سماجی و معاشرتی برائیوں کو مٹانے کی منظم فکر کریں ، مولانا مشہود احمد ندوی پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ نے کہا کہ دعوت و تبلیغ اور تنظیم کے لیے اخلاص و للٰہیت بہت ضروری ہے اور آج امارت شرعیہ انہیں بنیادوں پر ترقی کر رہی ہے ، ماضی میں ہمارے بزرگوں نے اسی اتحاد و اخلاص کی برکت سے بڑے بڑے کارنامے انجام دیے ۔ مولانا ناظم صاحب ناظم جامعہ مدنیہ سبل پور جنرل سکریٹری جمعیة علماءبہار نے کہا کہ مسلمانوں کے اندر دینی تعلیم کے فروغ کے لیے خود کفیل مکاتب قائم کیے جائیں ، اور اس کے لیے ابھی سے جد و جہد کی جائے ۔ مولانا قمر انیس قاسمی رئیس المبلغین امارت شرعیہ نے نقباءامارت شرعیہ کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہوئے کہا کہ جب ملت میں زندگی باقی رہتی ہے تو صالح انقلاب برپا ہو تا ہے ، آپ بھی اپنی دینی حمیت کو بیدار کیجئے ، اور اتحاد و اجتماعیت کے ساتھ معاشرتی بگاڑ کو ختم کرنے کی کوشش کیجئے ۔مولانا مفتی وصی احمد قاسمی نائب قاضی شریعت امارت شرعیہ نے اسلام کے نظام زکواة و صدقات کی وضاحت کرتے ہوئے بیت المال امارت شرعیہ کو مستحکم کرنے پر توجہ دلائی ، مولانا محمد عالم قاسمی امام و خطیب جامع مسجد دریا پور پٹنہ نے نقباءامارت شرعیہ سے اپنے اپنے علاقہ میں اصلاحی اجتماعات کرنے پر توجہ دلائی، جناب نجم الحسن نجمی صاحب نے بچوں کے لیے دینی و عصری تعلیم کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت کو بھی بلند کرنے پر توجہ دلائی۔ مولانا منہاج عالم ندوی شعبہ دعوت و تبلیغ امارت شرعیہ نے کہا کہ ہمیں اسلام کی صحیح تعلیمات کو برادران وطن تک بھی پہونچانے کی ضرورت ہے ، ہمیں مسجدوں سے نکل کر اب وحدانیت کے پیغام کو مٹھوں اور مندروں میں بھی عام کر نا ہو گا ۔ اس موقع پر مولانا محمد عادل فریدی شعبہ ¿ نظامت امارت شرعیہ اور مولانا محمد راشد العزیری ندوی نے پروجیکٹر کی مدد سے ضلع پٹنہ کی سماجی ، تعلیمی و مذہبی و معاشرتی صورت حال کا ڈاٹا اور جرائم کا گوشوارہ پیش کیا ، جب لوگوںکے سامنے پٹنہ میں گھریلو تشدد، قتل و غارت گری اور جرائم کا ڈاٹا پیش ہوا تو لوگوں کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں اور حیرت میں پڑ گئے ، صرف جنوری ۶۱۰۲ءسے ستمبر ۶۱۰۲ئ تک نو مہینے میں 27403جرائم کے واقعات صرف ضلع پٹنہ میں درج ہوئے ۔ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ پانچ سالوں میں گھریلو تشدد، اغو ا، عورتوں پر ظلم اور، جہیز کے لیے قتل اور عصمت دری جیسے سنگین جرائم میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے ، اور ہر سال یہ تعداد پچھلے سالوں کے مقابلہ میں بڑھتی جا رہی ہے ، جو ہم سب کے لیے لمحہ¿ فکریہ ہے ، ہمیں ان جرائم کے اسباب کا پتہ لگا کر ا س کے سد باب کی اور معاشرہ کو ان برائیوں سے پاک کرنے کے لیے محنت کرنے کی ضرورت ہے ۔امارت شرعیہ کے نائب ناظم اور شعبہ¿ تبلیغ و تنظیم کے ذمہ دار اور اجلاس کے کنوینر و ناظم مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے خیر مقدمی کلمات میں نقباءامارت شرعیہ کو ان کی ذمہ داریوں سے روشناس کرایا اور کہا کہ اسلام کا پیغام دعوت کے ذریعہ بھی پھیلا اور کردار و عمل کے ذریعہ بھی ، انہوں نے اس موقع پر ضلع پٹنہ کے تمام بلاکوں کے لیے رئیس النقباءاور ان کے نائبین کے ناموں کا اعلان بھی کیا ، جس کی اجلاس کی طرف سے تائید کی گئی ۔ اجلاس کا آغاز مولانا جمال الدین صاحب استاذ قاضی نور الحسن میموریل اسکول کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ، مولانا مفتی مجیب الرحمن قاسمی معاون قاضی امارت شرعیہ نے بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا ۔ آخر میں صدر جلسہ ناظم امارت شرعیہ کی دعا پر اجلاس کا اختتام ہو ا۔ اس اجلاس میں پٹنہ ضلع کے تمام بلاکوں سے آئے ہوئے نقباء، نائبین نقباء، ائمہ مساجد، سماجی و علمی شخصیات اور عمائدین شہر کی بڑی تعداد موجود تھی ۔





