دہلی میں ابنائے اشرف العلوم کی میٹنگ، دسمبر میں تعارفی پروگرام کرنے کا فیصلہ،اہم شخصیات کی ہوگی شرکت

نئی دہلی(ملت ٹائمزمحمد شہنواز ناظمی )
بہار کی عظیم دینی درس گاہ جامعہ عربیہ اشرف العلوم کنہواں،سیتامڑھی کے ابنائے قدیم نے گذشتہ شب دہلی میں ایک میٹنگ منعقد کی جس میں اشرف العلوم کنہواں میں آئندہ سال مارچ میں ہونے والے اجلاس صد سالہ کو کامیاب بنانے اور تعاون کرنے کی شکلوں پر غور وخوض کیاگیا ،اس موقع پر شرکاءمیٹنگ نے کہاکہ کسی بھی ادارے کا سوسال کی مدت پوری کرلینا اس کی کامیابی کی واضح دلیل ہے اور اشرف العلوم کا علمی سفر پورے آب وتاب کے ساتھ سوسال سے مسلسل رواں دواں ہے ،پورے بہار میں اس ادارنے عظیم نقوش قائم کئے ہیں ، ہماری تعلیم وتربیت اور موجودہ سرگرمیاں اشرف العلوم میں حصول تعلیم کا نتیجہ ہے ،اس ادارے کے اجلاس کو کامیاب بنانا اور ہر ممکن تعاون پیش کرنا ہم تمام ابناءقدیم کا اخلاقی فریضہ ہے ۔چناں چہ شرکاءمیٹنگ نے یہ تجویز پیش کی کہ اجلاس صدسالہ کو کامیاب بنانے اور ادارہ کی خدمات کو عوام تک پہونچانے کیلئے مختلف شہروں اور علاقوں میں چھوٹے چھوٹے اجلاس منعقد کئے جائیں۔تاکہ اشرف العلوم کی خدمات اور وہاں کے عظیم تعلیمی نظام کو دنیا جان سکے اور اس سے استفادہ کریںاور ممبئی ،چنئی ،کولکاتا سمیت دیگر شہروں میں مقیم ابنائے قدیم سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے یہاں اس پر غور وخوض کریں ۔
میٹنگ کے شرکاءنے ملت ٹائمز کو تفصیل سے بتایاکہ دہلی میں موجو د اشرف العلوم کے ابنائے قدیم نے متفقہ طور پر دسمبر کے دوسرے عشرے میں غالب اکیڈمی میں اشرف العلوم کی حیات وخدمات اور تعارف پر مشتمل ایک پروگرام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں مختلف شعبہائے حیات سے تعلق رکھنے والی دہلی میں موجود اہم شخصیات شرکت کریں گی ۔ مزید بتایاکہ کچھ اہم شخصیات کا پروگرام مل جانے کے بعد حتمی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا ۔ اس پروگرا میں اشرف العلوم کنہواں سے کار گزار ناظم اور معروف عالم دین مولانا اظہار الحق مظاہری مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کریں گے ۔میٹنگ میں اشرف العلوم کنہواں کے موجودہ مہتمم اور معروف فقیہ مولانا زبیر احمدقاسمی کے دور اہتمام کی خوبیوں اور ترقیاتی کاموںکا بھی خصوصیت سے تذکرہ کیاگیااور ان کی صحت یابی دعاءکی گئی۔
میٹنگ کا انعقاددہلی کے جامعہ نگر علاقے میں مولانا ابو الخیر قاسمی کی رہائش گاہ پر عمل میں آیا اور اس کی صدارت کا فریضہ اشرف العلوم کنہواں کے استاذ مولانا اسعد اللہ قاسمی نے انجام دیا ۔انہوں نے اس موقع پر تفصیل کے ساتھ اشرف العلوم کے سہ روزہ اجلاس صدسالہ کے بارے میں بتاتے ہوئے کہاکہ اجلاس کی تیاری جاری ہے ،اپنی نوعیت کا یہ پہلا اور تاریخی اجلاس ہوگا ، مختلف طرح کی نشستیں ہوں گی ،ہندوستان کے جید اور کبار علماءشرکت پر رضامندی ظاہر کرچکے ہیں ،ایک ہزار سے زائد حفاظ کرام کی دستار بندی عمل میں آئے گی ،انہوں نے یہ بھی بتایاکہ ڈھائی کڑور روپے کا بجٹ ہے ،22 سے زائد کتابیں زیر طباعت ہیں جن میں تاریخ اشرف العلوم اور فتاوی اشرف العلوم سرفہرست ہیں۔خاص بات ہے کہ اجلاس کیلئے ایک علاحدہ کمیٹی بنائی گئی ہے تاکہ اساتذہ و طلبہ یکسوئی کے ساتھ درس وتدریس کا سلسلہ جاری رکھیں اور تعلیم کا کوئی نقصان نہ ہو ۔

العمرریسٹورینٹ میں عشائیہ کرتے ہوئے ابنائے اشرف العلوم(تصویر:سوشل میڈیا

میٹنگ میں ابنائے اشرف العلوم کی بڑی تعداد نے شرکت کی جن میں مولانا ابوالخیر قاسمی ،مولانا ولی اللہ قاسمی استاذ سینئر سیکنڈری اسکول جامعہ نگر ،فیصل نذیرپی ایچ ڈی اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی،مولانا عبد اللہ مدنی پی ایچ ڈی اسکالر جواہر لال نہرویونیورسیٹی ،شمس تبریز قاسمی چیف ایڈیٹر ملت ٹائمز۔مولانا مجاہد الاسلام قاسمی،مولانا شوکت قاسمی ڈائریکٹر کرون پبلک اسکول دہلی ،مولانا مناظر الاسلام قاسمی ،محمد افسر اینگلوعربک اسکول وغیرہ کے نام سرفہرست ہیں ،علاوہ ازیں میٹنگ میں حاجی اشرف علی ،حافظ نفیس احمد وغیرہ نے بھی شرکت کی ۔میٹنگ کے اختتام پر العمر ریسٹورینٹ میں مولانا ابوالخیر قاسمی کی جانب سے عشائیہ کابھی اہتمام کیا گیا ۔
واضح رہے کہ اشرف العلوم کنہواں کا شمار بہار کی عظیم اور تاریخی درس گاہ میں ہوتاہے جس کا قیام 1917 میں عمل میں آیاتھا ،مولانا صوفی رمضان علی اور مولانا عبد العزیز بسنتی رحمہمااللہ اس کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں،جبکہ ادارے کو سنوارنے میں مولانا قاری طیب رحمة اللہ کا خصوصی کردار رہاہے،عربی کی تعلیم کے حوالے سے اس ادارے کوشروع سے خصوصی امتیاز حاصل ہے اور یہاں کے طلبہ ہندوستان سمیت مختلف مماک میں تعلیمی ،ملی ،سماجی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ اس ادارے کی سوسالہ تاریخ میں یہ دوسرا اجلاس ہے ،پہلا اجلاس نصف صدی مکمل ہونے پر منعقد ہواتھا اور یہ دواسر اجلاس ایک صدی مکمل ہونے پر 24/25/26 مارچ 2018میں منعقد کیا جارہاہے ۔