داعش کے خاتمہ کیلئے جدوجہد کرنے والے عصر حاضر کے سب سے بڑ ے مسیحا اور انسانیت کے بہی خواہ ہیں، علما ءاور ائمہ مساجد بھی اس مشن میں حصہ لیں:مولانا اصغر علی اما مہدی سلفی

دہلی(ملت ٹائمزپریس ریلیز)
تربیت وتزکیہ اور اصلاح و رہنمائی سب سے بہتر کام ہے اور اس بہترین کام کے لیے ملک وسماج کے بہترین لوگ علماءو ائمہ اور معلمین کو اللہ تعالیٰ نے منتخب فرمایا ہے اور انہیں ملک وسماج کا خلاصہ اور عطر قرار دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے کیا۔ موصوف کل شام اہل حدیث کمپلیکس اوکھلا، نئی دہلی میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام گیارہواں آل انڈیا ریفریشر کورس برائے ائمہ ، دعاة و معلمین کے افتتاحی اجلاس میں صدارتی خطاب فرمارہے تھے۔
امیر محترم نے فرمایا کہ تربیت و ٹریننگ اور تزکیہ و محاسبہ صحابہ کرام کا شیوہ تھا یہی وجہ ہے کہ وہ سماج وانسانیت کی صلاح وفلاح اور تربیت و رہنمائی کے میدانوں میں تاریخی کامیابیوں سے ہمکنار ہوئے اور وقت کے بڑے سے بڑے فتنے پر قابو پایا اور امن وامان کو قائم رکھا ۔ آج ملک وملت اور انسانیت کو جو سب سے بڑا فتنہ درپیش ہے وہ ہے دہشت گردی کا فتنہ۔ اس کا صحیح معنوں میں قرآن وحدیث پر مبنی تزکیہ و تربیت اور اصلاح و یکجہتی کے ذریعہ ہی سد باب اور تعاقب کیا جاسکتا ہے۔
امیر محترم نے مزید فرمایا کہ علماءوائمہ کرام ملک وملت اور انسانیت کے سچے بہی خواہ ہیں اور سب سے بڑی بہی خواہی آج کے دور میں یہ ہے کہ مُنکَر اعظم داعش و دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے ، اس کے لیے حکمت عملی، بصیرت اور اخلاص و للہیت ، اتحاد و یکجہتی اور احترام انسانیت کے جذبات کی اشد ضرورت ہے۔
افتتاحی خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد ہارون سنابلی ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے کہا کہ فرد و معاشرے کی اصلاح کا کام انبیائی مشن اور تکالیف سے عبارت ہے اور اس کے لیے جہد مسلسل ضروری ہے۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند پندرہ سالوں سے علماءو دعاة و معلمین کے لیے بہت سے اہم کاموں کے شانہ بشانہ ریفریشر کورس کا انعقاد اس لیے کرتی ہے کہ وہ یہاں سے تازہ دم ہوکر جائیں اور علی وجہ البصیرہ اصلاح معاشرہ کا فریضہ انجام دیں۔
مولانا جمیل احمد مدنی مفتی مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند نے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند قابل مبارک باد ہے کہ وہ دیگر دینی واصلاحی سرگرمیوں کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ مسلسل پندرہ سالوں سے ائمہ ، دعاة و معلمین کے لیے دورہ تدریبیہ کا انعقاد کررہی ہے تاکہ علماءومعلمین کی عملی زندگی میں زیادہ سے زیادہ تحسن آئے اور وہ ملک وسماج کے لیے مفید سے مفید تر بن سکیں۔
ریفریشر کورش کے کنوینر ڈاکٹر محمد شیث ادریس تیمی نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیراہتمام گیارہواں آل انڈیا ریفریشر کورس میں ملک کے تقریبا ہر صوبے سے آئے ہوئے علماءودعاة و معلمین کا استقبال کیا اور اس کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اولیتوں والی جماعت ہے۔ جو سب سے پہلے ملک وملت اور انسانیت کو درپیش مسائل و چیلنجز کا ادراک اور ان کا تدارک کرتی ہے۔ اس نے ائمہ ودعاة و معلمین کی ٹریننگ اور تربیت کی اہمیت و ضرورت کو سب سے پہلے محسوس کیا اور جس طرح دہشت گردی اور فی زمانہ داعش کے فتنوں کو محسوس کرتے ہوئے اس کے خلاف شش جہات مہم شروع کی ۔ اسی طرح پندرہ سال قبل علماءو دعاة اور معلمین جو ملک و سماج کے رہبر و رہنما ہیں کی تربیت و ٹریننگ کا بندوبست کیا جوکہ پوری شان و شوکت کے ساتھ آج بھی جاری ہے۔ اوریہ گیارہواں آل انڈیا ریفریشر کورس اسی سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہے اور اس کے لیے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی ، ناظم عمومی ودیگر ذمہ داران ہمارے شکریے کے مستحق ہیں۔
مولانا محمد عرفان شاکر ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث دہلی نے اپنے خطاب میں گیارہواں آل انڈیا ریفریشر کورس کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی ودیگر ذمہ داران کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ ملک ومعاشرہ پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
مولانا محمد عمیر مدنی استاذ جامعہ ریاض العلوم دہلی نے کہا کہ آل انڈیا ریفریشر کورس برائے ائمہ ودعاة و معلمین کا پندرہ سالوں سے انعقاد مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی و دیگر ذمہ داران کا قابل قدر کارنامہ ہے اس کے لیے میں انہیں دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
مولانا محمد اظہر مدنی مدیر جامعہ ابوبکر الصدیق الاسلامیہ وڈائرکٹر اقراءانٹر نیشنل گرلس اسکول نے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے ائمہ و معلمین کی ٹریننگ کے لیے جو سنہرا موقع فراہم کیا ہے اس کی مثالیں احادیث نبوی اوراسوہ صحابہ میں ملتی ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام یہ ریفریشر کورس جس کا آغاز گذشتہ کل مورخہ ۲۱نومبر ۷۱۰۲ءکو ہوا، ۹۱ نومبر تک جاری رہے گا۔ جس میںاکابر علماءکرام اور مختلف موضوعات کے ماہرین کے محاضرے ہوں گے۔ اخوت انسانی کے تقاضے قرآن کی روشنی میں، انسانی حقوق اور آپسی تعلقات قرآن کی روشنی میں قومی یکجہتی کی مضبوط بنیادیں قرآن وسنت کی روشنی میں، قرآن و حدیث کی روشنی میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی اہمیت، مخلوقات الہی (نباتات و جمادات اور حیوانات) کے حقوق قرآن وسنت کی روشنی میں ، دہشت گردی و تشدد کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟ جیسے اہم موضوعات پر بھی مذاکرے اور ورکشاپ ہوں گے۔
اس سلسلہ کا پہلا اور دوسرا محاضرہ جامعة الامام محمد بن سعود ریاض کے سابق پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمن فریوائی نے دیا ۔ عناوین تھے۔ ثوابت و متغیرات دین اصول وضابطے اور علم العقائد والکلام اور منہج سلف، اور تیسرا محاضرہ مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکا ہوا عنوان تھا۔ غلو و تشدد-اسباب، مضرات اور علاج ۔ جس میں آپ نے فرمایا کہ آج سماجی نا برابری اور بگاڑ و فساد اور بے اعتمادی و بے اعتدالی ، ظلم وزیادتی اور دہشت گردی کی سب سے بڑی وجہ عقیدہ وفکر اور رویہ وسلوک میں غلو ہے۔ غلو سے پرہیز اور حذر لازمی ہے۔