نئی دہلی(ملت ٹائمز)
بابری مسجد -رام جنم بھومی تنازع کو مذکرات کے ذریعہ عدالت سے باہر حل کرنے کی سرگرمیاں ایک بار پھر تیز ہوگئی ہیں۔ یوپی شیعہ وقف بورڈ کے سربراہ وسیم رضوی سب سے زیادہ متحرک ہیں وہ متنازع جگہ پر بابری مسجد بنانے کے قائل ہی نہیں بلکہ اسے مندر حامیوں کے حوالہ کرنے کے وکیل ہیں۔
روزنامہ خبریں کے مطابق گزشتہ دنوں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایک عارضی رکن نے بنگلور میں معروف روحانی رہنما اور آرٹ آف لیونگ کے بانی شری شری روی شنکر سے ملاقات کی تھی اور یہ بھی پتہ چلا تھا کہ شری شری سے بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی سے فون پر بات بھی کرائی تھی لیکن مولانا رحمانی نے اس سے انکار کردیا۔اب راجدھانی کے سیاسی وصحافتی حلقوں میں یہ خبر تیزی سے گشت کر رہی ہے کہ مولانارحمانی کے ایک اور دست راست اور معتمد بورڈ کے فائونڈر ممبر جناب کمال فاروقی نے پیر کی صبح سات بجے وسنت وہار میں شری شری سے ملاقات کی اور مصالحتی فارمولہ پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔ جب کمال فاروقی کو فون کیاگیاتو بار ہا رابطہ کرنے کے باوجود فون نہیں اٹھایا، معلوم ہوا کہ وہ شری شری سے علی الصبح ملاقات کرنے کے بعد سری نگر چلے گئے۔ اس خبر نے ملی حلقوں میں اضطراب کی لہر دوڑا دی ہے یہ بھی ذرائع نےبتایا کہ کچھ اور لوگوں سے بھی شری شری کی ملاقات ہوئی ان کے ناموں کے بارے میں پتہ چلا ہے مگرمصدقہ ذرائع سے تصدیق نہیںہے۔ البتہ کمال فاروقی کی ملاقات کے بارے میں مختلف ذرائع سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اگر یہ خبر حقیقت پر مبنی ہے تو کیا اسے بھی بورڈ کے ذمہ دار ذاتی ملاقات کہہ کر معاملہ کو ٹالنے اور ہلکا کرنے کی کوشش کریں گے۔کیا ایسے معاملات میں ذاتی ملاقات کی بھی اجازت دینی چاہئے کیا اندر ہی اندر کوئی کھچڑی پک رہی ہے اور قوم کو اندھیرے میں رکھاجارہا ہے۔عام خیال ہے کہ اگر پہلے ہی تادیبی کارروائی ہوجاتی تو شاید کوئی اور ممبر ملنے کی کوشش نہیں کرتا۔مولانا سجادنعمانی نے جو بورڈ کے قومی ترجمان ہیں وعدہ کیا تھا کہ ممبر کی ملاقات کی تصدیق ہوگئی تو ضابطہ کی کارروائی کی جائے گی مگر اب وہ بھی پلہ جھاڑ چکے ہیں ۔ شری شری 16نومبر کو اجودھیا جارہے ہیں۔ جہاں اقبال انصاری سمیت مختلف فریقوں سے ملاقات کریں گے۔ کہاجارہا ہے کہ 5دسمبر کو کیس کی سماعت سے قبل فارمولہ پیش کردیاجائے گا۔






