اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا ہندوستان سمیت پورے ایشاءکا معتبر فقہی ادارہ ،ممبئی میں ہوگا27 واں سمینار:پریس کانفرنس سے مولانا خالدسیف اللہ رحمانی کا خصوصی خطاب

جانوروں کے بارے میں اسلامی تعلیمات، مطلقہ کو درپیش مسائل کا حل، عصری تعلیمی اداروں کے سلسلہ میں شرعی ہدایات اور بڑے شہروں میں فلیٹس کی خرید و فروخت کے فقہی احکام پر ستائیسویں سمینار میں بحث کی جائے گی۔ہندوستان بھرسے مفتیان کرام اور ماہرین کے علاوہ سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین، افغانستان، ایران اور ترکی سے وفود کی آمد متوقع ہے۔

نئی دہلی(ملت ٹائمز شمس تبریز قاسمی )
ہندوستان سمیت ایشا ءبھر میں جدید مسائل کے حل اور فقہی ریسرچ کے حوالے سے عالمی شہرت یافتہ ادارہ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا 27 واں فقہی سمینار سال رواں عروس البلاد ممبئی کی سرزمین پر 25/26/27 مارچ 2017 کو منعقد ہورہاہے جس میں ہندوستان بھر سے 300 نامور علماء،مفتیان کرام اور اسکالرس کے علاوہ سعودی عرب ،کویت ،قطر ،بحرین، برطانیہ ،ترکی ،افغانستان ایران سمیت متعدد ممالک سے علماءواسکالرس کے وفودکی شرکت ہورہی ہے جو سمینار میں حصہ لیں گے اور زیر بحث عناوین پر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے ۔یہ معلومات اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے آج اکیڈمی کے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران دی ۔
انہوں نے کہاکہ اسلام کے بعض احکامات وقت اور زمانے کے اعتبار بدلتے رہتے ہیں،جو مسلم ممالک ہیں وہاں کے بعض احکامات غیر مسلم ممالک سے مختلف رہتے ہیں ،اس کے علاہ نئے نئے حالات کا سامنا کرناپڑتاہے جس کی بنا پر نئے مسائل کا شرعی حل نکالنا ضروری ہے اور اکیڈمی میں یہی کام اجتماعی غور وفکر اور شورائی اجتہاد کے بعد کیا جاتاہے ، انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ فقہ اکیڈمی ایک مذہبی اور ریسرچ ادارہ ہے ،سیاست سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے البتہ سماج اور سیاست میں پیش آنے والے مسائل کا اسلامی حل نکالنا ہمارے ایجنڈے کی بنیادی شق ہے ۔ ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا نے کہاکہ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا ایک فقہی ادارہ ہے ،مسلک سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے اس کے سمینار اور پروگرامس میں دیوبندی ،بریلوی ،اہل حدیث ،جماعت اسلامی،احناف ،شوافع سمیت تمام مسالک اور فقہی مکاتب فکر کے علماءاور مفتیان کرام شرکت کرتے ہیں ۔ملت ٹائمز کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مدارس کے نصاب میں تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے البتہ اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ فقہ پڑھاتے وقت وہ جدید مسائل سے آگاہ کریں اور اکیڈمی کے فیصلوں کو زیر مطالعہ رکھیں ۔ملت ٹائمز کے ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انہو ں نے کہاکہ جو فقہی وسعت ظرفی ماضی کے علماءاور فقہاءمیں پائی جاتی تھی وہ آج بھی موجود ہے ،شوافع کے مدرسے میں احناف اساتذہ تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں،اسی طرح اس کے برعکس بھی ہے اور نصاب میں شامل کتابیں بھی دوسرے فقہاءکی شامل ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے اکیڈمی کے قیام کا پس منظر بتلاتے ہوئے کہاکہ ہر مسلمان اس بات کا یقین رکھتا ہے کہ قرآن و حدیث قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کرتی رہے گی؛ البتہ کتاب و سنت میں کچھ مسائل تو صراحت کے ساتھ ذکر کئے گئے ہیں اورکچھ مسائل وہ ہیں جن کے سلسلہ میں بنیادی اصولوں کی رہنمائی کی گئی ہے؛ تاکہ ہر زمانہ میں جدید ٹکنالوجی کے وجود میں آنے اور معاشی نظام، اخلاقی اقدار اور عرف ورواج میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے جو مسائل پیدا ہوں ،ان اصولوں کی روشنی میں ان کو حل کیا جائے، اس طرح کے نو پید مسائل چونکہ بڑے اہم اور گہرے غور و فکر کے متقاضی ہوتے ہیںاور ان کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے کے لئے دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری معلومات بھی ضروری ہوتی ہیں؛ اس لئے ایسے مسائل میں انفرادی طور پر رائے قائم کرنے کے مقابلہ میں یہ بات بہتر ہوتی ہے کہ فقہ و افتاءسے تعلق رکھنے والے علماءاور زیر بحث موضوع سے تعلق رکھنے والے ماہرین اجتماعی طور پر غور کریں اور پھر کوئی فیصلہ کیاجائے، خود جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی ایسے مسائل کے بارے میں صحابی رسول حضرت علیؓ کواس کی تلقین فرمائی تھی؛ اسی لئے خلافت راشدہ میں بھی اور اس کے بعد بھی اجتماعی اجتہاد کے طریقہ کار سے استفادہ کیاجاتا رہاہے ، موجودہ دور میں چونکہ نئے مسائل کے پیدا ہونے کی رفتار تیز ہوگئی ہے؛ اس لئے عالم اسلام اور بعض غیر مسلم ممالک میں فقہ اکیڈمیاں قائم کی گئی ہیں، غیر مسلم ممالک میں قائم ہونے والی فقہ اکیڈمیوں میں پہلی اکیڈمی ”اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا“ ہے، جس کی حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ نے 1989میں بنیاد رکھی تھی، اس کے اب تک 26فقہی سمینار منعقد ہوچکے ہیں، جن میں مختلف نئے مسائل پر سیکڑوں فیصلے کئے گئے ہیں، سمینار اور زیر بحث آنے والے مسائل کی تعداد کے لحاظ سے’ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا ‘سب سے آگے ہے، اب اس کا ستائیسواں فقہی سمینار ۲۵-۲۷نومبر۲۰۱۷ءکو ممبئی میں منعقد ہونے جارہا ہے، اس سمینار میں چار موضوعات سے جڑے ہوئے سوالات زیر بحث آئیں گے، جانوروں کے حقوق اور ان کے بارے میں اسلام کی رحم دلانہ تعلیمات اور جانوروں کے متعلق سرکاری قوانین کی شرعی حیثیت، دوسرامسئلہ طلاق کے بعد خواتین کو درپیش مسائل اور شریعت اسلامی کی روشنی میں اس کاحل ہے، تیسراعنوان ہے: موجودہ حالات میں دینی و اخلاقی ماحول کے ساتھ جدید تعلیم کے اداروں کے قیام کی اہمیت اور اس سلسلہ میں پیش آنے والی دشواریوں کا حل اورچوتھا موضوع تجارت سے متعلق ہے: بڑے شہروں میں کثیر منزلہ عمارت کی خرید و فروخت سے متعلق مسائل اور سرکاری قوانین کی شرعی حیثیت۔
اس سمینار میں پورے ملک سے تین سو سے زیادہ علماءو ارباب افتائ، نیز ان موضوعات سے متعلق بعض ماہرین کی شرکت ہوگی، بیرون ملک سے بہت سے علماءاور اسکالر زکی آمد متوقع ہے، سعودی عرب ،کویت، بحرین، قطر، افغانستان، ایران، برطانیہ اور جنوبی افریقہ وغیرہ سے وفود نے اپنی آمد کے بارے میں اطلاع دی ہے، یہ سہ روزہ سمینار صابو صدیق مسافر خانہ ممبئی میں منعقد ہوگا اور مسافر خانہ کے علاوہ بیت الحجاج میں بھی مہمانوں کا قیام رہے گا، مفتی عزیز الرحمن فتح پوری، مفتی سعید الرحمن فاروقی، مولانا شاہد ناصری، مولانا رشید احمد ندوی اور مولانا محمد اشفاق قاضی کے بشمول ممبئی کی اہم علمی ودینی شخصیتیں اورمجلس استقبالیہ کے عہدہ داران و ارکان شب و روز سمینار کی تیاری میں مشغول ہیں۔