رانچی(ملت ٹائمز)
میڈیا میں فتوی کے نام پر فرضی خبر چلائے جانے کا پردہ فاش ایک مرتبہ پھر ہواہے اور جس کے خلاف فتوی جاری کرنے کی خبر چلائی گئی تھی اس نے خود یہ وضاحت کی ہے کہ میرے خلاف کوئی فتوی جاری نہیں کیا گیاتھا ،چینلوں نے میرے کہنے کے باوجود کہ کوئی فتوی جاری نہیں ہوا ہے یہ خبر چلائی رافعہ کے خلاف فتوی دے دیا گیا ہے ۔
در اصل یہ واقعہ رانچی کا ہے جہاں ایک خاتون رافعہ ناز یوگا ٹیچر ہیں اور مقامی کالج میں اسٹوڈینٹ یونین کی جنرل سکریٹری بھی ہیں ،ان کے تعلق سے 8نومبر کو متعدد ہندی ،انگریزی کے اخبارات اور ٹی وی چینل نے یہ خبر چلائی کہ نازیہ کے یوگا ٹیچر ہونے سے ناراض مسلم علماءنے فتوی جاری کردیا ہے ،ا سے مارنے دکی دھمکی بھی دی گئی ہے اور کچھ لوگوں نے اس کے گھر پر پتھرا ﺅ کیا ہے ،ملت ٹائمز نے انہیں دنوں اس خبر کے بارے میں اپنے ذرائع سے تحقیق کرکے لکھاتھاکہ کوئی بھی فتوی جاری نہیں ہواہے ،ساتھ ہی پتھراﺅ کی خبر بھی فرضی ہے ،ٹوسرکل ڈاٹ نیٹ آج اپنی ایک اسٹوری میں رافعہ ناز سے براہ راست بات کرکے میڈیا کے اس جھوٹ کا پردہ فاش کیا ہے جس میں کہاگیاتھاکہ رافعہ کے خلاف فتوی جاری کیا گیاہے ۔رافعہ نازکا یہ بھی کہناہے کہ اس نے ٹی وی چینل پر چلنے وا لی اس خبر کی مخالفت بھی کی اور اینکروں سے کہاکہ میرے خلاف کوئی فتوی جاری نہیں ہواہے ،صرف مجھے فتوی جاری کرنے کی دھمکی ملی ہے ،رافعہ نے یہ بھی کہاکہ میرے یوگا سکھانے کو لیکر ہندومسلم دونوں ناراض تھے اور دونوں مذہب کے لوگوں کی جانب سے دھمکی ملی تھی انہوں نے اس دھمکی وجہ بتاتے ہوئے کہاکہ در اصل ہم نے یہ بیان جاری کیا تھاکہ ہم کراچی کے مشہور یوگ گرو بابا سلیم کے ساتھ ملکر یوگا کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح ہندوستان پاکستان کے درمیان قربت بڑھائی جاسکتی ہے جس سے ہندو بھی میرے خلاف ہوگئے ۔





