مولانا ولی رحمانی کی صدارت میں وفاق المدارس الاسلامیہ کی مجلس عاملہ کا اجلاس منعقد ،نصاب تعلیم کے تعلق سے لئے گئے کچھ اہم فیصلے

پٹنہ(ملت ٹائمز)

وفاق کا کام اچھا ہے، اس کے نظام کومزید مضبوط کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سب لوگ آپسی تعاون وتشاور سے کام کریں؛ کیوں کہ امداد باہمی سے کام بہتر ہوتا ہے اور اس کی افادیت ونافعیت بڑھتی اور پھیلتی ہے، وفاق کے ذریعہ جو تعلیمی نظام میں یکسانیت پیدا ہورہی ہے ، لوگ اس کی اہمیت کو محسوس کر رہے ہیں، ان خیالات کا اظہار امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی دامت برکاتہم نے وفاق کی مجلس عاملہ کے اجلاس سے صدارتی خطاب میں آج کیا، یہ اجلاس مرکزی دفتر امارت شرعیہ کے میٹنگ روم میں منعقد ہوا، اور بہار وجھارکھند کے ملحقہ مدارس کے ارکان نے اس میں شرکت کی اور مباحثہ میں انہوں نے دینی مدارس کے نصاب تعلیم میں اسلامی تاریخ اور ہندوستانی تاریخ کو شامل کرنے کی ضرورت کا احساس دلاتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ہمارے طلبہ نہ تو پورے طور پر اسلامی تاریخ سے واقف ہوتے ہیں اور نہ ہی ہندوستانی تاریخ سے ماضی میں ہمارے نصاب تعلیم میں اس طرح کی کتابیں داخل تھیں جو کہ اب کم ہوتی جا رہی ہیں، صدر وفاق حضرت مولانا محمد قاسم صاحب مظفر پوری نے فرمایا کہ وفاق سے ملحق مدارس کا معیار تعلیم پہلے سے قدرے بلند ہوا ہے، جس کے لئے وہاں کے اساتذہ کرام مبارکباد کے مستحق ہیں، ناظم امارت شرعیہ مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب نے ملحقہ مدارس کے تعلیمی جائزے کے لئے کسی با صلاحیت عالم وحافظ شخص کو بحال کرنے کی تجویز رکھی اور انہیں معقول ومناسب اکرامیہ دینے پر زور دیا ، مولانا عبد المنان راجو پٹی نے کہا کہ ہمارا صوبہ بہار تعلیم کے میدان میں دوسرے صوبوں سے ممتاز ہے اس لئے ضلعی سطح پر کم سے کم ایک ایسا ادارہ ہونا چاہئے جہاں دورہ حدیث شریف تک کی تعلیم ہوتی ہو، انہوں نے کہا کہ بہار کے بہت سے ذہین لڑکے دوسرے صوبوں میں اپنی فطری صلاحیت کھودیتے ہیں اگر ہم یہاں ان کے بنانے اور سنوارنے کی کوشش کریں تو ہمارا صوبہ تعلیم کے میدان میں سب سے آگے نظر آئے گا۔وفاق المدارس الاسلامیہ کے ناظم مولانا مفتی محمد ثناءالدیٰ قاسمی نے وفاق کی تعلیمی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت 265مدارس وفاق سے ملحق ہیں، ان مدارس کی تعلیمی رپورٹ اطمینان بخش ہے،ان مدارس کے امتحان کے نتائج وہاں کے تعلیمی معیار کے مستحکم اور مضبوط ہونے کی طرف مشیر ہے، انہوں نے اپنی رپورٹ میں ملک کے تعلیمی نظام کے بھگوا کرن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاق سے منسلک مدارس اور ان کے اساتذہ سے کہا کہ مسلم سماج میں دینی تعلیمی بیداری لانے کی تحریک چلائیں تاکہ مسلم بچے دیو مالائی کہانیوں سے محفوظ رہ سکیں، ناظم وفاق کی رپورٹ پر ارکان نے اطمینان کا اظہار کیا ، مولانا ابو طالب رحمانی مولانا نذر توحید مظاہری ، مولانا سہیل احمد ندوی ، مولانا مفتی محمد سہراب ندوی ، مولانا محمد شبلی القاسمی نائبین ناظم کے اظہار رائے کے بعد بین المدارس اجتماع چترہ میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تاریخ کی حتمی تعین داعی اجلاس سے صلاح ومشورہ کے بعد طے کیا جائے گا ، اجلاس نے یہ بھی طے کیا کہ وفاق سے ملحق مدارس کے تعلیمی جائزے کے لئے کسی با صلاحیت آدمی کو بحال کیا جائے ، تاکہ معیار تعلیم مزید بلندہو، اس اجلاس میں مفتی سہیل احمد قاسمی ، مولانا محمد اسحاق دھنباد، مولانا اختر امام عادل سمستی پور، قاضی ارشد کھگڑیا، قاضی محمد اعجاز قاسمی مدھوبنی ، مولانا شکیل احمد قاسمی دربھنگہ، مولانا عطاءالرحمن قاسمی بھاگلپور ، مولانا محمد یوسف مدھوبنی ، مولانا محمد احسان ، مولانا اقبال احمد شکر پور دربھنگہ، مولانا اظہار الحق قاسمی، مولانا حبیب اللہ ندوی رانچی نے بھی متعدد تجاویز پیش کیں، قاضی محمد ارشد کی تلاوت کلام پاک سے مجلس کا آغاز ہوا، ناظم وفاق مفتی محمد ثناءالہدیٰ قاسمی نے تجویز تعزیت پیش کی ، جبکہ مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی معاون ناظم وفاق نے گذشتہ عاملہ کی کارروائی کی خواندگی کی اور عملی پیش رفت بتلائی آخر میں یہ نشست حضرت امیر شریعت مدظلہ کی دعاءپر اختتام پذیر ہوئی۔اجلاس میںمولانا نور الحق قاسمی سوپول، نور الہدیٰ قاسمی دربھنگہ، محمد رضوان سبیلی راجور پٹی محبت الحق قاسمی سہرسہ واصی احمد شمسی دربھنگہ، مولانا محمد احمد ندوی لکھنو¿، محمد فاروق رحمانی مونگیر ، مولانا نیر ندوی کٹیہار، مولانا سجاد احمد ندوی پٹنہ، مولونا عطاءالرحمن صدیقی گڈا ، مولانا عارف رحمانی مونگیر ، مولانا سعید کریمی ، مولانا منت اللہ حیدر ی اور مولانا راشد العزیری ندوی امارت شرعیہ نے شرکت کی ۔ یہ اطلاع راشد العزیری ندوی نے دی ہے۔