گوہاٹی ۔نئی دہلی(ملت ٹائمزعامر ظفر )
جمعیة علماءہند کے صدر مولاناسید ارشد مدنی کے بیان پر ہنگامہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہاہے ،آسام کی بی جے پی حکومت کے بعد کانگریس کی ریاستی یونٹ نے بھی مولانا ارشدمدنی کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف حکومت سے قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔
گوہاٹی سے شائع ہونے والے ہندی اخبار پرات خبر کی رپوٹ کے مطابق آسام اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر دیوبرت سوکیا نے 14 نومبر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران آسام کے تعلق سے مولانا ارشدمدنی کے دیئے گئے بیان کی سخت مذمت کی اور کہا کہ آسام میں این آر سی کے معاملے پر باہر کے لوگوں کو بولنے کا حق نہیں ہے کیوں کہ وہ لوگ اس معاملے کو نہیں جانتے ہیں ،انہوں نے کہاکہ آسام کے لوگ ذات اور مذہب کی نظر سے ان چیزوں کو نہیں دیکھتے ہیں،حکومت کو چاہیئے کہ وہ جمعیة علماءہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کے بیان کے خلاف قانونی کاروائی کرے اور انہیں جیل بھیجے۔اخبار نے آسام کے سابق وزیر اعلی ترون گگوئی کے حوالے سے لکھاہے کہ انہوں نے بھی مولانا ارشدمدنی کے بیان سے اختلاف کرتے ہوئے کہاکہ ہم ان کے بیان کی حمایت نہیں کرتے ہیں لیکن یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ایسے بیان کا موقع کس نے دیا ،ہم بارہا اس مسئلے کو مرکزی سرکار سے حل کرانے کیلئے دہلی گئے لیکن کامیابی نہیں ملی ،اب وزیر اعلی سونوال کی ذمہ داری ہے کہ وہ مرکزی سرکار سے مل کر یہ معاملہ حل کرائیں ۔

واضح رہے کہ مولانا ارشد مدنی کے خلاف کانگریس کے اس بیان سے آسام کے مسلمانوں میں بے چینی اور بے اعتمادی کی فضاءپائی جارہی ہے کیوں کہ مولانا ارشدمدنی کانگریس کے کافی قریبی سمجھے جاتے ہیں،2016 کے اسمبلی انتخابات میں مولانا مدنی نے آسام میں کانگریس کی حمایت بھی کی تھی اور مسلمانوں سے کانگریس کو ووٹ دینے کا مطالبہ کیاتھا۔علاوہ ازیں انتخابات عین قبل حیدر آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران مولانا مدنی نے یہ بھی کہاتھاکہ مسلمان کے نام پر کچھ پارٹیاں فرقہ پرستانہ سوچ کو بڑھاوادیتی ہیں۔مسلمانوں کی بھلائی کانگریس کو سپورٹ کرنے میں ہے ۔
ہم آپ کو بتادیں کہ 13 نومبر کو دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جمعیة علماءہند کے صدر مولانا ارشدمدنی نے سخت لہجہ اختیا ر کرتے ہوئے کہاتھاکہ آسام کو میانمار بنانے کی سازش ہورہی ہے اور اگر این آر سی کی رپوٹ شائع ہوجاتی ہے تو آسام میں آگ لگ جائے گی،لوگ مرنے اور مارنے پر آمادہ ہوجائیں گے ۔






