الور(ملت ٹائمز)
الور میں مبینہ گﺅ رکشکوں کے ہجومی تشدد کا شکار ہوئے عمر خان کے معاملہ کو پولس پوری قوت کے ساتھ معمولی جرم ثابت کرنے میں مصروف ہے۔ عمر کے ساتھ زخمی ہوئے طاہر اور گاڑی چلا رہے جاوید کی خود سپردگی کے بعد پولس نے انہیں عادی مجرم تو قرار دیا ہی ساتھ ہی ان کے دور دور کے رشتہ داروں پر کیس درج ہونے کی بات کہی جارہی ہے۔ دوسری طرف عمر کے قتل کے تمام 6 ملزمان کو ابھی تک پولس گرفتار نہیں کر پائی ہے۔ دو ملزمان بھگوان سنگھ گوجر عرف کالا اور رامویر گوجر کو گرفتار ضرور کیا گیا ہے لیکن مزید 4 ملزمان ابھی تک پولس کی گرفت سے باہر ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولس متاثرین پر تو گرم جوشی سے کارروائی کر رہی ہے لیکن ملزمان سے سختی سے پوچھ گچھ تک نہیں کی جا رہی کیوں کہ نہ تو پولس نے ابھی تک آلہ قتل برآمد کیا ہے اور نہ تمام ملزمان کا سراغ لگا پانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
عمر کے گاﺅں گھاٹمیکا اور پورے الور ضلع کے میو برادری سے وابستہ افراد اور دیگر سماجی خدمات انجام دینے والی تنظیموں سے وابستہ لوگوں نے پولس اور حکومت کی اس ناقص کارکردگی اور ملزمان کی پشت پناہی کے حوالے سے عدم اطمنان کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے سے پہاڑی میں جمعہ کے روز ایک اجلاس کا بھی انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اجلاس کے دوران متاثرین کو انصاف دلانے کے لئے حکمت عملی بنانے پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس میں خطہ میوات اور دیگر علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگوں کے شامل ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
اس معاملہ میں مشترکہ طور پر سرگرم سماجی کارکن و نوجوان عالم دین مولانا محمد صابر قاسمی میواتی و مولانا حنیف منّاکا کا کہنا ہے کہ ”پولس غلط کہانی بنا کر کیس کو دوسرا رنگ دے رہی ہے اور یہ سب اس لئے ہو رہا ہے تاکہ قاتلوں کو بچایا جا سکے۔ طاہر اور جاوید کو خود سپردگی کی صلاح اس لئے دی گئی تھی تاکہ قانونی کارروائی پوری ہو سکے لیکن پولس اور کچھ اخباروں نے انہیں عادی مجرم ، گو? اسمگلر اور نہ جانے کیا کیا قرار دیا یہ ناقابل قبول ہے۔ “مولانا نے کہا کہ آج گاو?ں کے تقریباً 75 افراد پر پولس نے مقدمہ ہونے کی بات کی ہے اور ہر کسی پر کارروائی کرنے کی دھمکی دے رہی ہے۔ اگر یہ مقدمات پہلے سے ہی درج ہیں تو پولس نے آج تک ان پر کارروائی کیوں نہیں کی تھی۔ظاہر ہے پولس کی اس کارروائی کا مقصد متاثرین کو خوفزدہ کرنا اور قاتلوں کی مدد کرنے کا ہے۔“
معاملہ کی پیروی کر رہے وکیل محمد قاسم نے کا کہنا ہے ”پولس دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے جن میں سے ایک نابالغ ہے۔ عمر خان کے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آ چکی ہے۔ زخمی طاہر کا میڈیکل بھی ہو چکا ہے۔ “قاسم نے کہا بھلے ہی پولس کتنا بھی اس معاملہ کو بگاڑنے کی کوشش کرے لیکن جب عدالت میں معاملہ جائے گا تو پولس ہر جھوٹی کہانی کا پردہ فاش ہو جائےگا۔ پولس تھانہ تک اپنی من مانی کر سکتی ہے لیکن مقدمہ ثبوتو اور گواہوں کی روشنی میں لڑا جاتا ہے۔ہمیں امید ہے کہ قاتلوں کو سزا ضرور ملے گی۔ “
سماجی کارکن قاسم میواتی کا کہنا ہے” پہلے تو عمر خان کا قتل کر کے ہم پر ظلم کیا گیا اور اب پولیس ہمیں پر طرح طرح کے جھوٹے مقدمے لگا کر زیادتی کر رہی ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے۔ “ قاسم میواتی میوات میں ’ہر گھونٹے سے کھولو گائے‘ نامی تحریک چلا رہیں۔ اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ ہمیں اگر گائے کے نام پر تشدد کا شکار بنایا جائے گا، سڑکو ں پر قتل کیا جائے گا تو ہمیں گائے پالنی ہی نہیں چاہئے۔ وہ گاو?ں گاو?ں میں جاکر لوگوں کو سمجھا رہے ہیں کہ اپنے کھونٹے سے گائے کھول کر پولس ، انتظامیہ یا پھر حکومت کے پاس پہنچا دو تاکہ بے موت مارے جانے سے بچ سکو۔
میوات وکاس مہاسبھا سے وابسہ نظیفہ زاہد کا کہنا ہے ”پولس کے مطابق دو گروپوں میں لڑائی ہوئی اور فائرنگ بھی ہوئی۔ میرا سوال ہے کہ اگر کراس فائرنگ ہوئی ہے تو پولس اس کا ثبوت بھی تو پیش کرے۔ کوئی حملہ آور گولی سے زخمی کیوں نہیں ہوا۔“ نظیفہ کا مزید کہنا ہے” سیدھے سادے لوگوں پر ظلم و زیادتی کی انتہا کی جا رہی ہے۔ جب ہم انصاف کے لئے نکلتے ہیں تو کئی سیاسی لوگ اپنی روٹیاں سیکنے پہنچ جاتے ہیں۔ اگر انصاف چاہئے تو ہمارا متحد ہونا بہت ضروری ہے ورنہ دور دور تک انصاف کی کوئی امید نظر نہیں آئے گی۔“
پریس کلب آف انڈیا میں گزشتہ روز ”نفرت کے خلاف اتحاد“ کے عنوان سے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ پریس کانفرنس میں عمر خان کے بھائی خورشید، چچا الیاس و رزاق، حافظ جنید کے بھائی مولانا وحید اور پہلو خانب کے بھائی محمد غنی موجود تھے۔پریس کانفرنس میں شامل شخصیات نے ہجومی تشدد پر سخت ناراضگی کا اظہا کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ متاثرین کے ساتھ جلد از جلد انصاف کیا جائے اور قاتلوں کو سلاخوں کے پیچھے بھیجا جائے۔





