نئی دہلی(23نومبر 2017۔پریس ریلیز)
گجرات اسمبلی انتخابات بہت اہم ہیں،بی جے پی اپنی فتح کو یقینی بنانے کیلئے مختلف طرح کے ہتکھنڈے اپنارہی ہے ،ماحول کو فرقہ وارانہ بنانے کی بھی کوشش ہوسکتی ہے ایسے میں مسلمانوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ بیدار رہیں اور ماحول پر نظررکھیں ،ایسی کسی بھی سازش کا حصہ بننے سے محتاط رہیں ،نیز ان لوگوں سے تعلقات کو بہتر اور مضبوط بنائیں جو آئین اور دستور کی پاسداری کا لحاظ رکھتے ہیں خا ص طور پر دلتوں او ر کمزور طبقات کے ساتھ ۔ان خیالات کا اظہار آج صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری اور معروف اسکالر ڈاکٹر منظور عالم کیا ،انہوں نے مزید کہاکہ بی جے پی کی یہ پرانی عادت رہی ہے کہ وہ الیکشن کے موقع پر مختلف طرح کے ایشوزکو چھیڑتی ہے ،بنیادی موضوعات سے توجہ ہٹانے کیلئے کچھ نئے مسائل کو پیش کردیتی ہے تاکہ عوام حقیقی مسائل کی جانب توجہ مبذول نہ کرسکے اور جملوں کی بنیاد پر الیکشن لڑنے میں مدد ملے ۔ انہوں نے کہاکہ بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے بی جے پی نے ایک طریقہ اپنارکھاہے اور الیکشن یا دیگر اہم مواقع پر وہ مندر ،لو جہاد ،مسلمانوں کے شرعی امور میں مداخلت بالخصوص تین طلاق ور نفرت کو ہوادینے والے ایشوز کو چھیڑدیتی ہے تاکہ عوام اسی میں الجھ جائیں ۔
ڈاکٹر منظور عالم نے اس موقع پر گﺅ تحفظ کے نام پر ملک بھر میں ہورہی قتل کی وردات کا بھی تذکرہ کیا اور الور میں عمر خان کے قتل اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہاکہ پولس عمر خان کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کے بجائے اس کے ساتھی جاوید پر ہی شکنجہ کس رہی ہے ،اب تک قاتلوںکے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوسکی ہے لیکن الٹے معصوموں کو ہراساں کیا جارہاہے اور انہیں گﺅکشی کے الزام میں پریشان کیا جارہاہے ،انہوں نے کہاکہ گﺅ تحفظ کے نام پر قتل کے واقعات سب سے زیاد بی جے پی ریاستوں میں پیش آرہے ہیںاور راجستھا ن سر فہرست ہے ،اسی الور میں کچھ ماہ قبل پہلو خان کو بھی بے دری سے قتل کردیاگیاتھا جس کی روح کو اب تک انصاف نہیں مل سکا ہے ،انہوں نے کہاکہ بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں لاءاینڈ آڈر کا مسئلہ تشویشناک ہے اور ایسا لگتاہے کہ گﺅ رکشکوں کی یہ غنڈہ گردی بھی حکومت کے اشارے پرہورہی ہے اور پولس بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہے ۔
ڈاکٹر منظور عالم نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران حکومت کے اس تضاد رویے کا بھی خصوصیت سے تذکرہ کیا کہ حکومت ہند ایک طرف خواتین کے تحفظ کیلئے علاحدہ ادارے اور یونیورسیٹی کے قیام کی باتیں کررہی ہیں لیکن دوسری طرف کچھ اداروں کو اس بات کا پابندبنایا جارہاہے کہ وہاں مخلوط تعلیم کو لازمی بنا یا جائے ،انہوں نے اپنے خاص لب ولہجہ میں کہاکہ حکومت آخر چاہتی کیا ہے ؟اور کس سماج کو وہ ترقی دینا چاہتی ہے ؟اسے واضح کرنا چاہیئے ،خواتین کیلئے علاحدہ یونیورسیٹی بنانے کے فیصلہ یہ بتاتاہے کہ حکومت کئی سوسال پہلے کی طرح سوچ رہی ہے ،آج بھی دقیانوسی جیسے خیالات کو فروغ دیئے جارہے ہیں، مخلوط معاشرہ اسے تسلیم نہیں ہے اور اسے خواتین کے تحفظ کا ذریعہ بتلایا جارہاہے لیکن دوسری طرف یوجی سی نے اپنی آڈٹ رپوٹ میں کچھ اداروں کو مخلوط تعلیم کا پابند بنارہی ہے اور تحفظ خواتین کیلئے یونیورسیٹی کے علاحدہ کلاسیز کے نظام کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جارہاہے جس میں علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی بھی شامل ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یوجی سی نے گذشتہ دنوں نے 20 یونیورسیٹیز اور 80 کالجز صرف خواتین کیلئے قائم کرنے کی سفارش کی تھی اور یہ کہاتھاکہ خواتین کا تحفظ ان کیلئے علاحدہ نظام تعلیم میں ہے تو پھر آخر کس بنیاد پر علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کو مخلوط نظام تعلیم کا پابند بنایاجارہاہے ،ڈاکٹر منظور عالم نے زور دیتے ہوئے کہاکہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ اس واضح تضاد کی وجہ بتائے اور دوہرے نظام تعلیم کی بنیاد بتائے ۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ یوجی سی کی رپوٹ سے پتہ چلتاہے کہ اس میں اے ایم یو کے قانونی حصہ کا لحاظ نہیں رکھاگیاہے اورایسا لگتاہے کہ یو جی سی کے پینل نے اے ایم یو کے دستوری حصے کا مطالعہ نہیں کیا گیاہے اور یہ سفارشات محض حکومت کے موقف کومضبوط بنانے کیلئے کی گئی ہیں ،شیعہ ۔سنی شعبوں کو ضم کرنے کا مطالبہ بھی اسی قبیل سے ہے ۔





