ممبئی(ملت ٹائمز)
عروس البلاد ممبئی میں جاری سہ روزہ اجلاس بحسن وخوبی مکمل ہوگیا،اجلاس میں چار موضوعات پر ملک وبیرون ملک سے تشریف لائے ارباب فکر وافتاءنے بحث کی اور متعدد اہم تجاویز پاس ہوئیںجو اکیڈمی کی جانب سے جلد ہی شائع ہوگی۔ پاس شدہ میں تجاویز میں جانور سے متعلق حقوق ،طلاق کے مسائل اور عصری اداروں میں حصول تعلیم کے تعلق سے پیش آمدہ مسائل بے پناہ اہمیت کے حامل ہیں،ارباب افتاءنے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگر حلال جانور کو ذبح کرنے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خطرات لاحق ہوں تو مناسب ہے کہ ایسے جانور کو ذبح کرنے سے گریز کیا جائے ،اس کے علاوہ شرکاءسمنیار نے اس بات پر بھی اتفاق کیاکہ عصری اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو ضرورت کے پیش نظر زکوة کی رقم دی جاسکتی ہے ۔
سیمینارکے اختتام پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولانا خالدسیف اللہ نے کہاکہ مختلف نشستوں میں جن مسائل پرگفتگوکی گئی ان میں ایک موضوع عصری تعلیمی اداروں سے متعلق شرعی مسائل ہے۔اس موضوع پرتمام علماءنے اتفاق رائے سے جوباتیں طئے کیں ان کے اہم نکات یہ ہیں کہ مسلمانوں کے لئے اسلامی ماحول کے ساتھ عصری تعلیمی اداروں کاقیام ضروری ہے،ان اداروں میں عصری تعلیم کے اعلیٰ معیارکے ساتھ ساتھ اسلام کے بنیادی عقائدرسول اللہ کی سیرت اورذاتی اورمعاشرتی زندگی کے ضروری مسائل سے ضرورواقف کرایاجاناچاہئے جن اداروں میں مخرب اخلاق ماحول ہو،جنسی تعلیم دی جاتی ہو،دیومالائی کہانیاں نصاب کاجزہو،ڈانس اورمیوزک وغیرہ ہو،مسلمانوں کے لئے ایسی درسگاہوںمیں اپنے بچوں کوداخل کراناجائزنہیں ہے اورمسلمان انتظامیہ کافریضہ ہے کہ وہ اپنے زیراہتمام اداروں کوان خلاف شریعت اورغیراخلاقی باتوں سے محفوظ رکھے۔یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ شرعاًقریب البلوغ اوربالغ لڑکوں اورلڑکیوں کی مخلوط تعلیم اورکھیل کودیاورزش اورتفریح میں ان کااختلاط جائزنہیںہے۔معیاری طریقہ یہ ہے کہ لڑکوں اورلڑکیوں کی تعلیم کے لئے الگ الگ عمارتیں ہوں،یاکم سے کم کلاس روم،آمدورفت کے راستے اورقضائے حاجت کی سہولتیں الگ الگ فراہم کی جائیں،یونیفارم میں بھی سترپوشی کاپورالحاظ ہو،اس بات کی بھی اپیل کی گئی کہ تعلیم کوایک خدمت کے طورپرانجام دیاجائے اسے تجارت نہ بنایاجائے۔سیمینارکادوسراموضوع حیوانات کے حقوق اوران سے متعلق احکام تھے۔اس میں یہ بات طئے کی گئی کہ اسلام دین رحمت ہے،اس لئے وہ جانوروں کے ساتھ بھی مکمل حسن سلوک اورمشفقانہ برتاﺅکاحکم دیتاہے،اس بات پرزوردیاگیاکہ جانوروں کوان کی فطرت کے مطابق غذادی جانی چاہئے،چارہ خورجانوروں کولحمی غذادیناتاکہ تیزنشونماہوسکے بہترنہیں ہے،اسی طرح اگرحکومت کسی خاص جانورکے شکاریاذبح کرنے کومنع کرتی ہوتوقانون کااحترام کرناچاہئے،البتہ شریعت جس جانورکوحلال قراردیاہے قانون کی وجہ سے وہ حرام نہیں ہوجاتا،البتہ یہ تجویزپاس کی گئی کہ اگر کسی حلال جانور کو ذبح کرنے سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی سیمینارکاتیسراموضوع طلاق اوراس سے پیداہونے والے اہم مسائل ہیں،اس سلسلے میں ایسی تدبیروں کواختیارکرنے کی تلقین کی گئی جورشتہ نکاح کوپائیداررکھنے میں معاون ہو،جیسے عاقل وبالغ لڑکے اورلڑکیاں اپنی رضامندی سے رشتہ کاانتخاب کرسکتے ہیں،لیکن بہترطریقہ یہ ہے کہ وہ اولیاکواعتمادمیں لے کرزندگی کے اس اہم مسئلہ کافیصلہ کریں اوراولیا ءکی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ لڑکے اورلڑکیوں کی خواہش کونظراندازنہ کریں،طلاق کی گنجائش اسی وقت ہے جب کہ زوجین کے درمیان نباہ کی کوئی صورت باقی نہ رہے،ماں باپ کے لئے بھی اس کی اجازت نہیں کہ وہ اپنی اولادکوطلاق لینے پرمجبورکرے،اورنہ اس سلسلے میں اولادکے لئے بلاوجہ اس طرح مشورہ کوقبول کرنادرست ہے،یہ بات بھی کہی کہ سماج مطلقہ کے نکاح کورواج دیناچاہئے اوراولیاءکی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے نکاح کی فکرکریں۔آج کل بڑے شہروں میں مکانات اورفلیٹ کی خریدوفروخت کے بہت سے مسائل پیداہوگئے ہیں۔یہ بھی سیمینارکاایک اہم موضوع تھا،اس کے تحت یہ بات طے پائی کہ جھوپڑپٹی میں رہنے والوں کابلڈریاکسی اورشخص کسی مکان کے فائل کاعوض لیناجائزہے بشرطیکہ یہ قانون کے خلاف نہ ہواورمکان بننے کے بعدجب تک مکان تیارنہ ہوجائے اورقبضہ میں نہ آجائے،سرکاری قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی اورکے ہاتھ بیچناجائزنہیں ہے،اگرکسی معقول سبب کے بغیربلڈرمکان کی قیمت وصول کرلینے کے باوجودوقت پرمکان تیارکرکے نہیں دے اورپہلے سے یہ بات طے ہوکہ وقت کی پابندی نہ کرنے کی صورت میں قیمت میں کمی ہوجائے گی توقیمت کی کمی کے ذریعہ خریداراپنے نقصان کی تلافی کرسکتاہے۔آج کل شہروںمیں مجوزہ نقشہ کی بنیادپرعمارت بننے سے پہلے فلیٹ بیچ دئیے جاتے ہیں،یہ صورت جائزہے۔البتہ خریدارکے لئے یہ بات جائزنہیں ہے کہ مکان بننے اوراس پرقبضہ حاصل ہونے سے پہلے وہ کسی اورکوفروخت کردے۔واضح ہوکہ اس سہ روزہ سیمینارمیں ملک کی مختلف ریاستوں مہاراشٹر،کرناٹک،تمل ناڈو،کیرالہ،گجرات،بہار،بنگال،یوپی،راجستھان،کشمیر اورآسام وغیرہ کے مشہورومعتبرمفتیان کرام شامل تھے۔نیزسعودی عرب،بحرین،افغانستان،ترکی،جنوبی افریقہ اوربرطانیہ وغیرہ کے اہم علماءنے بھی شرکت کی۔اختتامی نشست میں آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری مولانافضل الرحیم مجددی نے اپنے خصوصی خطاب میں کہاکہ علماءکودرپیش مسائل کاچیلنج کاسامناکرنے کے لئے تیاررہناچاہئے،جدیدمواصلاتی نظام اورذرائع ابلاغ کے ذریعہ مغربی تہذیب نے مشرق پریلغارکررکھی ہے،انہیں احساس ہے کہ دنیاکی تمام تہذیبیں مغربی تہذیب کی آندھی میں اڑجائیں گی ،لیکن اسلامی تہذیب وثقافت وہ مضبوط پہاڑہے جسے مغربی آندھی اڑانہیں سکتی نہ ہی اسلامی تہذیب کووہ اپنی غیراخلاقی تہذیب کے سمندرمیں ڈبوسکے ہیں،اس لئے آج مغرب الیکٹرانک وپرنٹ میڈیااورسوشل میڈیاکے ذریعہ مسلمانوں کی نئی نسل کومغرب کی تہذیب میں ضم کرناچاہتی ہے،علماءکی ذمہ داری ہے کہ وہ سامنے آئیں اورنئی نسل کی دستگیری کریں انہیں مغرب کی مخرب اخلاق تہذیب سے بچائیں۔ اس موقع پر مولانامجددی نے جامع الہدایہ جئے پورمیں اگلے سیمینارکی پیش کش کی جسے اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولاناخالدسیف اللہ رحمانی نے دیگرذمہ داروں کے مشورہ سے اس کوقبول کرنے کااعلان کیا۔اس سہ روزہ سیمینارکی افتتاحی نشست 25نومبرکی صبح حج ہاوس کے کانفرنس ہال میں منعقدہوئی جس کی صدارت اکیڈمی کے صدرمولانانعمت اللہ اعظمی نے کی۔دیگرمختلف نشستوں کی صدارت کے فرائض مولانامحمدقاسم مظفرپوری قاضی شریعت بہار،مفتی محمدصادق محی الدین نظامی،کاکاسعیدعمری اورمفتی احمددیولہ نے انجام دئیے۔سہ روزہ سیمینارکی اختتامی نشست کی صدارت مولانامنیراحمدمظاہری ممبئی نے کی اوران کی رقت آمیزدعاپرنشست کااختتام ہوا۔





