نئی دہلی: (29 ،نومبر ملت ٹائمز )
آسام مےں نےشنل رجسٹر فار سیٹیزن (اےن آر سی) مےں اندراج کے لئے اصلی مقیم شہری (Originally inhabitant ) اور غےر اصلی مقیم شہری کی تقسیم کرکے لاکھوں لوگوں کوحق شہریت سے محروم کرنے کی سازش کے خلاف جمعیة علماءہند صوبہ آسام کی پٹیشن پر سپرےم کورٹ کی دو رکنی بنچ کی عدالت مےں سماعت مکمل ہو گئی اور ججوں نے فےصلہ محفوظ کر لےاہے۔ آج پورے دن چلی عدالت کی کاروائی کے بعد سماعت مکمل ہونے پر جمعیة علماءہند کے جنرل سکرےٹری مولانا محمود اسعد مدنی اور جمعیة علماءصوبہ آسام کے صدر و رکن پارلےمنٹ مولانا بدرالدین اجمل نے اطمینان کا اظہار کےا اور کہا کہ انشاءاللہ دلائل کی روشنی مےں اور مخلصین کی دعاﺅں سے لاکھوں لوگوں کو عدالت سے انصاف ملے گا اور اصلی شہری اور غےر اصلی شہری بناکر لوگوں کو حق شہریت سے محروم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔واضح رہے کہ سپرےم کورٹ مےں گوہاٹی ہائی کورٹ کے ذریعہ پنچاےت سرٹیفیکٹ کورد کرنے والے فیصلہ کو چےلنج کرنے والی جمعیة کی اپیل پر سماعت کے دوران 12 ، اکتوبر ۷۱۰۲ کو اےن آر سی کے کو آرڈینےٹر مسٹر پرتےک ہزےلانے اپنے حلف نامہ مےں کہا تھا کہ 48 لاکھ پنچاےت سرٹیفیکٹ جمع کرنے والوں مےں سے تقریبا 17 لاکھ چالیس ہزار لوگ originally inhabitant ےعنی اصل شہری ہےں باقی لوگوں کی شہریت کی جانچ چل رہی ہے۔بعد مےں تحقیق کے بعد پتا چلا کہ وہ لوگ جنہےں اصلی شہری قرار دےا گےا ہے ان مےں سے اکثریت آدی واسےوں کی ہے جن کے پاس مکمل دستاویز بھی نہےں ہے جبکہ دوسری جانب لاکھوں لوگوں بالخصوص مسلمانووں کو جن کے پاس ڈوکومنٹ ہےں پھر بھی انہےں اپنی شہریت ثابت کرنے کے لئے کئی مراحل سے گزرنا پڑ رہاہے۔پٹیشنر کی طرف سے وکیلوں کے دلائل سننے کے بعد ججوں نے آسام گورنمنٹ کے وکیل اور اےن آر سی کے کو آرڈینےٹر دونوں سے پوچھا کہ جب کوئی آدمی ڈوکومنٹ کے ذریعہ اپنی شہریت کو ثابت کردے تو وہ ہندوستانی ہے اور جو لوگ اپنی شہریت ثابت نہ کر سکے وہ ہندوستانی نہےں ہے، تو پھر ےہ اصلی شہری اور غےر اصلی شہری کا تصور کہاں سے آےا۔بہر حال فریقےن کے دلائل کے بعد ججوں نے فےصلہ محفوظ کر لےا،اور امید ہے کہ اگلے کچھ دنوں مےں اس پر فےصلہ آجا ئےگا۔اسی لئے جمعیة علماءہندصوبہ آسام نے اس کے علاوہ کچھ اور گروپس نے اس اصلی شہری اور غےر اصلی شہری کی تقسیم کے خلاف سپرےم کورٹ مےں اپیل دائر کی تھی جس پر آج سماعت مکمل ہوگئی اور جمعیة علماءہند کے ذمہ داران کو پوری امید ہے کہ انشا ءاللہ عدالت اس غےر ضروری تقسیم اور کنفےوژن پےدا کرنے والی کےٹگری کو ختم کرکے لاکھوں لوگوں کی شہریت کو تحفظ فراہم کرے گی۔ جمعیة علماءصوبہ آسام کی جانب سے سےنئر اڈووکےٹ بی اےچ مارلا پلے،سےنئر وکیل راجو راما چندرن،سےنئراڈووکےٹ اعجاز مقبول،سےنئراڈووکےٹ شکیل احمد،نذرالحق مزار بھےا، اڈووکےٹ عبدالصبور تپادر نے بحث مےں حصہ لےا ۔ واضح رہے کہ آسام مےںقومی رجسٹر برائے شہریت کی از سر نو تےاری کا کام سپرےم کورٹ کی نگرانی مےں گزشتہ تین سالوں سے جاری ہے ۔آسام کی سابقہ گورنمنٹ کی کےبینٹ کمیٹی نے سپرےم کورٹ کے حکم پر جن دستاوےز کو اےن آر سی مےں اندراج کے لئے تسلیم کےا تھا اس مےں اےک پنچاےت سر ٹیفیکٹ بھی تھا جو صرف اس بات کو ثابت کرنے کے لئے تھا کہ فلاں عورت فلاں کی بےٹی تھی اور اب شادی کے بعد ےا کسی اور وجہ سے دوسری جگہ منتقل ہو گئی ہے مگر ۸۲ فر وری ۷۱۰۲ کو گوہاٹی ہائی کورٹ نے اپنے اےک فےصلہ سے اس پنچاےت سرٹیفیکٹ کو دستاوےز ماننے سے انکار کر دےا جس سے تقریبا 48 لاکھ لوگوں بالخصوص عورتوں کی شہریت پر خطرہ کی تلوار لٹک گئی۔جمعیة علماءہند کے جنرل سکرےٹری مولانا سےد محمود اسعد مدنی اورجمعیة علماءہند صوبہ آسام کے صدر و رکن پارلےمنٹ مولانا بدرالدین اجمل نے گوہاٹی ہائی کورٹ کے فےصلہ کو سپرےم کورٹ مےں چےلنج کےا جس پر سماعت ۲۲، نومبر۷۱۰۲ کو مکمل ہو چکی ہے اور ججوں نے فےصلہ محفوظ کر لےا ہے۔





