چنئی30نومبر ( پریس ریلیزملت ٹائمز)
وویمن انڈیا موﺅمنٹ (WIM) کی قومی ایگزیکٹیوکمیٹی کا اجلاس ومن انڈیا موﺅمنٹ کی قومی صدر یاسمین فاروقی کی صدارت میں گزشتہ 19نومبر کو چنئی میںمنعقد ہوئی ۔ اجلاس میں ضروری اشیاءکی قیمتوںمیں اضافہ،خواتین کی حفاظت، ملک میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت اور عدم تحفظ کے ماحول پر غور و خوص کیا گیا اور اجلاس کے اختتام میں تین اہم قراردادمنظور کئے گئے۔ 1)۔ ہادیہ کی رہائی : ہادیہ کے مقدمے سے خواتین تنظیموں کے ساتھ ساتھ متعلقہ شہری بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔ ہادیہ نے گزشتہ دو سال قبل ہی اسلام قبول کرلیا تھا اور اپنی آزادی کے لیے گزشتہ دو سال سے وہ قانونی لڑائی لڑتی آرہی ہیں۔ ومن انڈیا موﺅمنٹ مطالبہ کرتی ہے کہ کیرلا ریاستی خواتین کمیشن نے ہادیہ کے خلاف ہوئے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے تعلق سے جو رپورٹ تیار کی ہے اس کو عوام کے سامنے لایا جائے۔ خواتین کمیشن کو ہادیہ سے ملاقات کرنا چاہئے اور ہادیہ کو ہراساں کرنے کے الزامات کی صفائی دینی چاہئے۔2)۔ قیمتوں میں اضافہ: نریندرمودی کی قیادت والی NDAحکومت میں ضروری اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ کا تمام ریکارڈ توڑدیا ہے۔ اچھے دن اور وکاس کا دور دور تک نشان نہیں ہے۔ ضروری اشیاءکی قیمتوں کے اضافے سے عام آدمی کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح بی جے پی کے نزدیکی رکھنے والے کچھ سرمایہ دار دالوں کی اضافی قیمتوں سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ خام تیل کی بین الاقوامی قیمتیں کم ہونے کے باوجود پٹرول ، ڈیزل اور ایل پی جی کی قیمتیں آسمان چھورہی ہیں۔ حکومت ایندھن پر زیادہ ٹیکس لگا رہی ہے حقیقت یہ ہے کہ موجودہ بین الاقوامی قیمتوں کے مطابق پٹرول کی قیمت فی لیٹر 38/-روپئے ہونی چاہئے۔نوٹ منسوخی اور GSTسے عام عوام کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور ملک کی معیشت تباہ ہوچکی ہے۔ حکومت کے اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ تین سالوں میں گرام دال کی قیمت 75%فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مئی 2014 میں گرام دال کی قیمت اوسطا49/-روپئے فی کلو تھی جو اب بڑھ کر 86/-روپئے فی کلو ہوگئی ہے۔ ارد دال کی قیمت مئی 2014میں 68/-روپئے فی کلو تھی جو اب بڑھ کر 99/-روپئے فی کلو ہوگئی ہے۔ گزشتہ تین سالوںمیں ارہر کی دال کی قیمت میں 24%فیصد اضافہ ہوا ہے۔جس سے فی کلوارہر کی دال 200/-روپئے ہوگئی ہے۔ اسی طرح شکر کے دام بھی گزشتہ سے ایک سال سے فی کلو 50/-روپئے سے تجاوز کرچکی ہے۔ نریندر مودی حکومت کے پہلے ہی سال میں پیاز کی قیمت 100/- روپئے فی کلو سے تجاوز کرچکی ہے۔ سرسوں کا تیل بھی 150/-روپئے فی کلو کی قیمت تک پہنچ چکی ہے۔ ایسے صورتحال میں ومن انڈیا موﺅمنٹ مطالبہ کرتی ہے کہ تمام ضروری اشیاءکی قیمتوں کو مناسب قیمتوں میں مہیا کیا جانا چاہئے اور دوائیوں کی قیمتوں پر بھی قابو لانا چاہئے۔ ذخیرہ اندوزوں اور کالا بازاری کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔ Agricultural produce market committeeکو مضبوط کرنا چاہئے تاکہ تاجروں کی دھاندلیوں کو روکا جاسکا اور APMC©کسانوں تک پہنچ کر ان سے خریداری کرسکیں۔ اسی طرح ضروری اشیاءکے در آمد پر سخت کنٹرول کیا جائے اورگندم پر درآمد ڈیوٹی کو دوبارہ نافذ کیا جائے۔ پٹرولیم مصنوعات کے قیمتوں کو قابو کرنے کے لیے مارکیٹ سے Delinkکیاجائے،مرکزی حکومت کے ڈیوٹی اور ٹیکس کوکم کیا جائے اور رعایتی شرح میںگیس سلنڈر کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ 3)۔ نجیب کی ماں کو انصاف فراہم کیا جائے۔ جواہر لعل یونیورسٹی کا طالب علم نجیب احمد عمر 27سال جو گزشتہ 15اکتوبر 2016سے مبینہ طور پر غائب ہونے کے ایک دن قبل آر ایس ایس کے اسٹوڈنٹس ونگ ABVPکے اراکین سے ہاتھا پائی ہوئی تھی۔ نجیب کے لا پتہ ہونے کے بعد JNUSUکے اس وقت کے ذمہ داروں نے ABVP پر نجیب کو اغوا کرنے کا الزام لگایا تھا۔ جس کے بعد دہلی پولیس نے دفعہ 365کے تحت مقدمہ درج کرکے نجیب پر کسی بھی معلومات بہم پہنچانے پر نقد انعام دینے کا اعلان کیا تھا ۔ لیکن نجیب کو لاپتہ ہوئے ایک سال گذر جانے کے بعد بھی پولیس نجیب کو تلاش کرنے میں ناکام ہے۔ نجیب کی ماں فاطمہ نفیس سڑکوں پر احتجاج کرتی آرہی ہیں اور انتطامیہ سے یہ مطالبہ کررہی ہیں کہ نجیب کو تلاش کرکے دیا جائے۔ لیکن مدر انڈیا کی پوجا کرنے کی تلقین کرنے والوں نے نئی دہلی میں فاطمہ نفیس کو سڑکوں پر گھسیٹ کر مار کر اپنی اصلیت دنیا کے سامنے اجاگر کیا ہے۔ اس معاملے میں ومن انڈیا موﺅمنٹ مطالبہ کرتی ہے کہ ABVPکے غنڈوں کو lie detectorsکا استعمال کرکے معلومات حاصل کرکے نجیب احمد کی تلاشی کو تیز کریں۔ومن انڈیا موﺅمنٹ کے قومی ایگزیکٹیو اجلاس میں قومی نائب صدر محترمہ ترانہ شرف الدین، قومی جنرل سکریٹری محترمہ شاہد ہ تسنیم، سکریٹریان سائرہ بانو،ستارہ بیگم، دیسی بالا سبرامنیم اور دیگر اراکین شریک رہے۔





