نئی دہلی (ملت ٹائمزپریس ریلیز)
آسام مےں نےشنل رجسٹر فار سیٹیزن(اےن آر سی) کو از سر نو تےار کرنے کا کام مکمل کرنے کے لئے سپرےم کورٹ کے ذریعہ مقررہ تاریخ 31 دسمبر 2017 سے بڑھاکر 31 جولائی2017 کرنے والی مرکزی سرکار اور آسام سرکار کی درخواست کو آج سپرےم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے خارج کرتے ہوئے دونوں سرکار کو بار بار وقت بڑھانے کی اپیل پر پھٹکار لگائی۔جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس روہنٹن نرےمن کی بنچ نے سرکار سے کہا کہ گزشتہ تین سالوں سے آسام مےں اےن آر سی کی تےاری کا کام جاری ہے، اس دوران کئی مقرر کردہ تاریخ مےں سرکار کی درخواست پر تبدیلی کےا جا چکا ہے ۔ بالآخر کورٹ نے31 مارچ 2018 کی تاریخ مقرر کےا تھا لےکن آسام کے وزیر اعلی نے اعلان کردےا کہ ہم اس کام کو 31 دسمبر 2017 تک مکمل کرلےں گے ،اس کے بعد ہم نے سرکار کے وکیلوں سے پوچھ کر ہی 31 دسمبر 2017 کی تاریخ متعےن کےا تھا اور اب آپ لوگ کہ رہے ہےں کہ اس تاریخ تک ےہ کام مکمل نہےں ہو پائےگا۔ مرکزی سرکار کی طرف سے اٹارنی جنرل نے کہا کہ ےہ کام انتہائی پےچیدہ اور بڑا بھی ہے اسلئے اس کے لئے مزید وقت درکار ہے ، اور اگر ضرورت پڑی تو آئندہ بھی مزید وقت دےنے کی درخواست ہم کر سکتے ہےں۔ جس کے بعد دونوں ججوں نے بر ہمی کا اظہار کےا اور کہا کہ ہم مزید وقت نہےں دے سکتے اسلئے بتائےے کہ 31 دسمبر 2017 تک کتنے لوگوں کا verification ہوجا ئےگا، اس کے جواب مےں سرکار کے وکیل اور اےن آرسی کے کو آرڈینےٹر نے کہا کہ تقریبا تین کروڑ تےئس لاکھ لوگوں نے اےن آر سی کے لئے درخواست دی ہے جن مےں سے تقریبا 2 کروڑ کے نام کاverification مقررہ 31 دسمبر 2017 تک ہوجائےگا۔کورٹ نے اس کے بعد ہداےت دی کہ جن لوگوں کے نام کا verification ہو چکا ہے ان لوگوں پر مشتمل ڈرافٹ اےن آر سی 31 دسمبر تک شائع کر دےں اور بقےہ جن لوگوں کا verification باقی ہے وہ کام 15 جنوری2018 تک مکمل کےا جائے اور اس سللہ مےں کتنا کام ہوا اور کتنا باقی ہے اس پر فروری 2018 کو کورٹ مےں رپورٹ پےش کرےں۔ اس کے علاوہ کورٹ نے آج آسام مےں سرحد کی احاطہ بندی( بارڈر فےنسنگ) کے معاملہ مےں بھی سرکار کی خوب سرزنش کی۔ ججوں نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران آسام مےں صرف 26 کیلو میٹر سرحد کی احاطہ بندی ہو پائی ہے جس سے سرکار کی لاپرواہی کا پتہ چلتا ہے،بہر حال کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملکی کے تحف کے لئے سنجیدگی دکھانے کی ضرورت ہے،اور ہداےت دی کہ 28 فروری2018 کو اس سلسلہ مےںرپورٹ داخل کرے۔آج کی سماعت کے بعد جمعیة علماءہند جنرل سکرےٹری مولانا سےد محمود اسعد مدنی اور جمعیة علماءہند صوبہ آسام کے صدر و رکن پارلےمنٹ مولانابدر الدین اجمل قاسمی نے کہا کہ کورٹ کا روےہ نتہائی مثبت رہا ہے اور مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی نےتوں پر بڑا سوال کھڑا ہو گےا ہے کہ آخر وہ کےوں اےن آرسی کو شائع کرنے مےں ٹال مٹول کر رہی ہے جب کہ آسام کا ہر طبقہ اس بات کی مانگ کر رہاہے کہ اس کام کوجلد از جلد مکمل کر لےا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اگر اےک ہی مرتبہ مےں اےن آر سی شائع ہوتا تو ےہ زےادہ بہتر ہوتا مگر سرکار کبھی پنچاےت سرٹیفیکٹ کو مسترد کرکے تو کبھی اصلی اور غےر اصلی کا شگوفہ چھوڑ کر لوگوں کو اےن آر سی مےں اپنا اندراج کرنے سے روکنے مےں لگی ہے، مگر ہمےں عدالت عظمی پر مکمل اعتماد ہے وہاں سے آسام کے لوگوں کو ضرور انصاف ملے گا،اسلئے آسام کے لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہےں ہے اگر کسی کانام پہلی لسٹ مےں نہےں آتا ہے تو اپنا نام دوسری لسٹ مےں اندراج کروانے کی کوشش کرے اور اپنے کسی عمل سے سرکار کو کوئی اےسا موقع نہ دے جسے بہانہ بناکر وہ اےن آر سی کو شائع کرنے مےں ٹال مٹول ےا لوگوں کا نام خارج کر نےکے لئے استعمال کرے۔دونوں حضرات نے مزید کہا کہ جمعیة علماءہند جو شروع ہی سے اس مقدمہ مےں فریق ہے اور آسام کے لوگوں کو انصاف دلانے کے لئے ہر طرح سے کوشا ں ہے،اس کا انتہائی واضح موقف رہاہے کہ جو ہندوستانی شہری ہے اسے ہرگز پرےشان نہےں کےا جانا چاہئے اور اگر خدا نخواستہ کوئی غےر ملکی ناجائز طریقہ سے ےہاں رہ رہاہے تو اس کو قانونی اعتبار سے اس کے ملک بھےجا جانا چاہئے مگر اس مےں مذہب کی بنےاد پر بھید بھاﺅ نہےں ہونا چاہئے جےسا کہ ہو رہاہے۔ اسی طرح ہماری مانگ رہی ہے کے آسام مےں سرحد کی احاطہ بندی (Boarder seal ) کا کام جلد از جلد مکمل کےاجائے تاکہ ےہ گھسپےٹ کا جو پروپےگنڈہ کےا جارہاہے اس پر قد غن لگ سکے مگر سرکار ان سب کاموں مےں ٹال مٹول کا روےہ اپناتی رہی ہے جو افسوسناک ہے۔ واضح رہے کہ جمعیة علماءہند کے جنرل سےکرےٹری مولانا سےد محمود اسعد مدنی اور جمعیة علماءصوبہ آسام کے صدر و رکن پارلےمنٹ مولانا بدرالدین اجمل قاسمی کی ہداےت پر جمعیة علماءہند نے آسام شہریت سے متعلق سپرےم کورٹ مےں زےر سماعت مختلف مقدمات کے لئے سےنئر وکلاءکی اےک ٹیم کی خدمات حاصل کی ہے جن مےں سےنئر اڈووکےٹ ابھیشےک منو سنگھوی، سےنئر اڈووکےٹ بی اےچ مارلا پلے، سےنئر اڈووکےٹ راجو راما چندرن، سےنئراڈووکےٹ اعجاز مقبول،سےنئر اڈووکےٹ شکیل احمد، سےنئر اڈووکےٹ نذرالحق مزار بھےا، اڈووکےٹ عبدالصبور تپادر اور اڈووکےٹ قاسم تعلقدار شامل ہےں ۔آج کی سماعت کے دوران جمعیة علماءصوبہ آسام کے سکرےٹری حافظ رفیق الاسلام اور اے آئی ےو ڈی اےف کے جنرل سےکرےٹری اڈووکےٹ امین الاسلام بھی موجود تھے۔





