چننئی (مدراس )سے شمس تبریز قاسمی کی رپوٹ
انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے زیر اہتمام نیو کالج کے اشتراک سے تاریخ کے ذریعہ بہتر مستقبل کی تعمیر کے عنوان پر مدراس میں ہونے والا دوروزہ سمنیار آج مکمل ہوگیا ،سمینار میں ملک بھر سے نامور خورخین اور دانشوران نے شرکت کی اور اپنے مقالہ میں مشترکہ طور پر یہ بات کہی کہ تاریخ لکھنے میں بہت زیادہ ناانصافی سے کام لیا گیاہے ، بہت سی اہم شخصیات اور تحریکات کا تاریخ میں کوئی تذکرہ نہیں ہے ،عصر حاضر میں ہندوستان کی تاریخ ایک مرتبہ پھر تبدیل کرکے غلط رخ پر لیجانے کی کوشش ہورہی ہے اور ماحول کو اب تاریخی پس منظر میں فرقہ وارانہ بنانے کی سازش چل رہی ہے جس کیلئے فکر کرنااور تاریخ کو صحیح رخ پر باقی رکھنے کیلئے جدوجہد کرنا معتبر مورخین کی اہم ذمہ داری ہے ۔
آئی او ایس کے دوروزہ سمنیار کے اختتام پر دس نکاتی قرارد اد بھی پاس کی گئی جس کے کچھ اہم نکات میں سے یہ ہے کہ تاریخ کی ترتیب میں ایمانداری سے کام لینا اور صحیح مواد کو پیش کرنا نہایت ضروری ہے اور اسی کے پیش نظر یہ سمینار مورخین اور دانشوارن سے یہ گزارش کرتاہے کہ تحقیقی بنیاد پر مثبت تاریخ کو فروغ دیں اور فرقہ ورانہ طاقتوں کی جانب سے تاریخ کو تبدیل کرنے کی چلائی جارہی مہم کا بائیکاٹ کریں ۔ اس مہم کو کامیاب بنانے اور تاریخ کے ذریعہ انصاف ،مساوات اور بھائی چارہ کو فروغ دینے کیلئے مختلف اشخاص اور اداروں کے درمیان مذاکرات کی پہل شروع کی جاسکتی ہے ۔مشہور شخصیات اور ان کی تحریکات کو ایک مقصد کے تحت اسکول کے نصاب میں شامل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیئے ۔ اس وقت ان دنوں سیاسی تشدد اور دہشت گردی کے نام پر اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ،یہ سمینار وعدہ کرتاہے کہ آئندہ اس موضوع پر اساتذہ ،اسکالرس اور مصنفین کے ساتھ مذاکرہ کا اہتمام کیا جائے گا ۔اس سمینار میں یہ تجویز بھی پاس کی گئی کہ جنگ آزادی کی تاریخ کا از سرنو مطالعہ کیا جائے اور اس میں عام آدمی اور خواتین کی شمولیت پر زور دیا جائے ،آئی او ایس نے ایک کوشش یہ کی ہے کہ سائسنی انداز میں صحیح تاریخ لکھنے کی کوشش کی جارہی ہے او راسی کے تحت آئی او ایس نے ایک منصوبہ شروع کیا ہے جس میں جنگ آزادی میں ہندوستانی مسلمانوں کی شمولیت کے بارے میں تین جلدیں آچکی ہیں اور یہ سلسلہ آگے جاری رہے گا ۔
اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے آئی او ایس کے چیرمین ڈاکٹر منظور عالم نے کہاکہ ہمارے سامنے کئی نئے چیلنجز ہیں جس کیلئے ہمیں حکمت عملی بنانی ہوگی ،انہوںنے کہاکہ ایک سازش کے تحت صدیوں سے مسلمانوں پر غلط الزام لگایا جارہاہے ،آئی او ایس نے فیصلہ کیا ہے کہ آئی او ایس میں جو کتابیں چھپ رہی ہے تمام علاقائی زبانوں میں اس کا ترجمہ کرایا جائے گا ،انہوں نے کہاکہ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ہم گہرائی سے تاریخ کا مطالعہ کریں تبھی ہم مسلمانوں کے خلاف بنائے گئے ماحول کا دفاع کرسکتے ہیں ۔اور یہ کام سبھی شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کو مل کرکرنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام اسکالرس اور نوجوان آئی او ایس سے جڑیں۔ساتھی ہی انہوں نے پیش کردہ دس نکاتی قرارداد پر عمل کرنے کا وعدہ کیا ،انہوںنے یہ بھی کہاکہ وہ قوم ترقی نہیں کرسکتی ہے جس کے پاس دانشوران نہ ہو اور وہ دانشوران اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں جب تک ان کا رابطہ عام آدمی سے نہیں ہوگا ،انہوں نے مزید کہاکہ آئی او ایس کی پالیسی غیر مسلموں سے رابطہ رکھنے اور مذاکرہ کرنے کی رہی ہے تاکہ ہم اپنی باتیں انہیں سمجھاسکیں ۔ڈاکٹر منظور عالم نے یہ بھی کہاکہ فکر ہم اپنے پوتے کی نہیں بلکہ پوتے کی پوتے کی ہے کیوں کہ جب ان کا دورآئے گا تو ماحول بہت خراب ہوچکا ہوگا ۔
پروفیسر کپل کمار نے کہا کہ مسلم حکمرانوں کی تاریخ میں کبھی کوئی ایسا واقعہ نہیں ملتا ہے کہ کبھی کسی خاتون کو جیل میں ڈالاگیا ہولیکن انگریزوں نے آتے ہی خواتین کے خلاف سزا تجویز کردی ،ہمارے ملک کی ثقافت کو انگریزوں اور برٹش گوریمنٹ سے پہونچا ہے مغلوں اور مسلمانوں سے نہیں ،مغلوں نے تو ہمیں بہت کچھ دیا ہے ۔
نیو کالج چننی کے ڈائریکٹر جناب شرف عالم نے کہاکہ تاریخ کو بگاڑ کر مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش کی جارہی ہے جس کا ازالہ کرنا مسلم دانشوران اور مورخین کی اہم ذمہ داری ہے ۔نیوکالج کے پرنسپل ڈاکٹر میجر زاہد حسین نے کہاکہ آئی او ایس کے 30سا ل مکمل ہونے پر تاریخ کو صحیح انداز میں پیش کرنے کا کام کیا جارہاہے اور اس کیلئے متعدد شہروں میں سمینار کا انعقا د ہورہاہے ،یہ چوتھا سمینار ہمارے شہر او رکالج میں ہواہے جو ہمارے لئے باعث فخر ہے ۔سری لنکا سے تشریف لائے ڈاکٹر عبد الجبار ضامن نے کہاکہ ریسرچ اور تحقیق عصر حاضر کی بہت اہم ضرورت ہے ،ہندوستان کے ساتھ پورے ساﺅتھ ایشا ءتاریخ کو غلط انداز سے پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کا دفاع کرنا بیحد ضروری ہے ،اس موقع پر انہوں نے یہ پیشکش کی آئی او ایس نے اپنااگلا سمینار سری لنکا میں کرے ،جس کے جواب میں ڈاکٹر منظور عالم نے کہاکہ اگلا تو نہیں لیکن کوئی نہ کوئی سمنیار وہاں ضرور ہوگا ۔
واضح رہے کہ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز ہندوستانی مسلمانوں کا ایک تھنک ٹینک ادارہ ہے ،30سال مکمل ہونے پر آئی او ایس نے تاریخ کے ذریعہ بہتر مستقبل کی تعمیر کے عنوان پر سلسلہ وار سمنیار کا انعقاد کیا ہے جس کا یہ چوتھا دوروزہ سمینار تھا ،آخری سمینار فروری میں دہلی منعقد ہوگا ۔افتتاحی اور اختتامی اجلاس کے علاوہ رواں سمنیا رکے کل چھ نششتوں پر مشتمل تھا جس میں پروفیسر اختر الواسع ،پروفیسر کپل کمار ،ڈاکٹر کے سلیم علی ،پروفیسر رفاقت علی،پروفیر عنایت زیدی ،پروفیسر سنیتا زید ی،پروفیسر سید جمال الدین ،جناب نظام الدین،پروفیسر اشتیا ق دانش،سینئر صحافی اے یو آصف،ڈاکٹر کے ایم اے احمد،ڈاکٹر ایم وسیم رضا،ڈاکٹر عبد الغنی ،جناب ضویاب محمد ضیا،پروفیسر جے راجا محمد ، سینئر صحافی ضیاءالحق ،ڈاکٹر فیاض محمد بجلی ،پروفیسر خواجہ عبد المنتقم ،پروفیسر افضل وانی ،ڈاکٹر نثار احمد،پروفیسر فرحت اللہ ،پروفیسر محمد سہیل،ڈاکٹر محمد اسلم ،ڈاکٹر عا بد باشا،جناب اعجاز کے اے وغیرہ نے ہندوستان کے موجودہ سیاق ،مساوات ،انصاف اور بھائی چارے کی جانب ایک بہتر مستقبل کی تخلیق بذریعہ تاریخ کو مرکزی موضوع بناتے ہوئے متعدد ذیلی موضوعات پر اپنی قیمتی مقالہ پیش کیا ۔علاوہ ازیں سمینار میں روزنامہ خبریںکے چیف ایڈیٹر قاسم سید ،پیام سدرہ کے منیجنگ ایڈیٹر احمد علی صدیقی،مولانا ساجد حسین ندوی ، یواین آئی کے صحافی جاوید اختر ،قمر اشرف،پیام سدرہ کے ڈائریکٹر جمیل احمد صدیقی،ایشاءٹائمز کے ایڈیٹر اشرف علی بستوی، قومی کونسل کے رکن ملک عزیزوغیرہ نے شرکت کی ۔





