لندن میں ہندوستانی سفارتخانہ کے سامنے مودی حکومت کے ہندتوا ایجنڈااور مسلمانوں پر ہوئے سلسلہ وار حملوں کے خلاف شدید احتجاج، ہندوستانی مسلمانوں نے نہیں کی شرکت

37

لندن سے محمد غزالی خان کی رپوٹ
27جنوری(ملت ٹائمز)

ہندوستانی نژاد برطانوی شہریوں اور یہاں پر مقیم این آر آئیز نے یوم جمہوریہ کے روز روایتی خوشیاں منانے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دینے کے بجائے آج ہندوستانی سفارتخانے انڈیاہاؤس کے سامنے احتجاج کر کے کیا ہے۔

سخت سردی اورٹھنڈی ہوا کا مقابلہ کرتے ہوئے مظاہرین نے انڈیا ہاؤس کے سامنے جم کر نعرے بازی کی۔ انھوں نے ہاتھوں میں مختلف پلے کازڈز اور صحافی گوری لنکیش، اخلاق، پہلو خان، جنید روہتھ ورمولا اور ان دوسرے مقتولین کی بڑی بڑی تصاویر اٹھا رکھیں تھیں جو ہندتو ا جنونیوں کے ہاتھوں قتل کئے گئے تھے ۔ تصاویر کے نیچے بڑے بڑے حروف میں مقتولین کے نام اور ان کے قتل کی جگہ اور تاریخ درج تھی۔ صرف جسٹس لوئیا کی تصویر کے نیچے لکھا تھا: ’’جج لوئیا کو کس نے مارا؟‘‘

اس احتجاج کا اہتمام حقوق انسانی کیلئے کام کرنے والی تنظیم ساؤتھ ایشیا سالیڈارٹی گروپ (ایس اے ایس جی) نے کیا تھا۔ مظاہرے سے ساؤتھ ایشیا سالیڈارٹی گروپ کی روح رواں ، مصنف اور ایکٹوسٹ امرت ولسن، کاسٹ واچ یو کے کے ستپال ممن سمیت بہت سے لوگوں نے خطاب کیا۔

ایس اے ایس جی کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے : ’’ایسے وقت جب ہندوستانی ریاست یوم جمہوریہ کے موقع پر جنگی سازو سامان کی نمائش اور نسلی اور قومی بنیاد پر خوف پر مبنی تقاریر اور نعرے بازی کی تیاری میں مصروف ہے ہم ان ہندوستانیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جو رنج اور غصے کے عالم میں ان لوگوں کا ساتھ دے رہے ہیں جو مودی کی ہندو وادی حکومت کے ذریعے پھیلائی گئی نفرت اور نشدد کا نشانہ بنے ہیں۔ ہم ہندوستان کو خوف کی جمہوریت بنانے کے خلاف مزاحمت کرتے رہنے کا اعلان کرتے ہیں۔‘‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے: ’’اجتماعی حملوں کی وبا جن میں مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے ، اس سال بھی مسلسل پھیل رہی ہے ۔ ان حملوں کا بہانہ گائے کا گوشت کھانا، جانوروں کی تجارت یا نام نہاد ’’لو جہاد‘‘ ہو یا مسلمانوں پرسفر کے دوران حملے ہوں ، ان کے ارتکاب میں مذہب کے خود ساختہ ٹھیکے داراور مسلح جماعتیں شامل ہیں جن کا تعلق بر سر اقتدار جماعت بی جے پی اور ایک کھلی فسطائی جماعت آر آر ایس سے ہے جو بی جے پی کی رہنمائی کرتی ہے۔ جو لوگ ان حملوں میں مارے گئے ہیں ان میں اتر پردیش کے 15 سالہ جنید سے لے کر جسے ٹرین میں قتل کیا گیا تھا ، سے لے کر راجستھان روڈ پرفتل کئے گئے پہلو خان شامل ہیں جنہیں گائے کی حفاظت کے ٹھیکے داروں نے پیٹ پیٹ کر قتل کر ڈالاتھا۔‘‘

وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے وزرا پر ان جرائم کی پشت پناہی کا الزام رکھتے ہوئے بیان میں مزید کہا گیا ہے: ’’ان اموات پر وزیر اعظم نے مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ، ان کے وزرا انہیں جائز قرار دیتے ہیں، انٹر نیٹ پر سر گرم دائیں بازو کی پوری فوج جن میں سے بہت سوں کو نریندر مودی، جنہوں نے 2002 میں گجرات فسادات کی رہنمائی کی تھی،خود فولو کرتے ہیں، ان جرائم یر خوشیاں مناتی ہے ۔ 6 دسمبر کو بھی لاکھوں لوگوں نے راجستھان میں مغربی بنگال کے ایک مزدور افراضل خان کے ٹکڑے ٹکڑے اور زندہ جلائے جانے کے مناظر دیکھے جس کا مجرم اور اس کے 14 سالہ بھانجے نے ویڈیو بھی بنایا۔ مجرم شمبھو لال کے ذہنی مریض نہ ہونے کی تصدیق ہندو تنظیموں، جن کا تعلق حکومت سے ہے، کے اس جشن سے ہوجاتا ہے جو انہوں نے اس جرم پر منایا اور جو احتجاج انہوں نے مجرم کی گرفتاری پر کیا جس کا اختتام ادے پور میں عدالت کی عمارت پر ہندوستان کا قومی پرچم اتار کر اس کی جگہ زعفرانی جھنڈا لہرا نے پر ہوا۔۔۔‘‘
بیان میں اتر پردیش میں دلتوں پر بڑھتے ہوئے مظالم کا اور زات پات کے خلاف اھائی جانے والی ان کی آوازوں کو کچلا جا رہا ہے جہاں پر بیان کے مطابق ’’انتہائی فرقہ پرست اور اعلیٰ ذات کی برتری پر یقین رکھنے والے ادتیہ ناتھ کو مارچ 2017 میں وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا اور جہاں پرسہارن پور میں دلتوں کی بستیوں کو نظر آتش کیا گیا اوراعلیٰ ذات ہندوؤں نے دلت خواتین پر جنسی حملے کئے ۔ اس کے بعد دلت انسانی حقوق کی تنظیم بھیم آرمی کے قائد چندر شیکھر آزاد کو گرفتار کیا گیا۔ جب چندر شیکھر آزاد کو کو الہ آباد ہائی کورٹ نے اس بنیاد پر زمانت پر رہا کردیا کہ ان پر لگائے گئے الزامات سیاسی انتقام پر مبنی ہیں اس کے اگلے ہی روز اتر پردیش حکومت نے انہیں خاموش کرنے کے لئے ان پرنیشنل سکیورٹی ایک لگا دیا۔ ‘‘
بیان میں صحافی گوری لنکیش سے لے کر شہاب الدین کیس کے جج جسٹس لویا کے مشتبہ قتل پر سپریم کورٹ کے سینئر ججز کے صدائے احتجاج ، کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور اتر پردیش کے وزیر اننت کمار ہیگڑے کے بے شرمی کے ساتھ دئے گئے اس بیان کا ذکر کیا گیا جس میں انھوں نے ہندوستانی آئین کو بدل کر اس کی جگہ منو سمرتی لانے کے منصوبے کی بات کی تھی۔

برطانیہ کی دلت جماعتوں نے مشتر کہ طور پر ایک مظاہرہ ہفتے کے روز بھی کیا تھا جس میں ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نے شرکت کی تھی۔ مگر قارئین کو یہ پڑھ کر دکھ ہو گا کہ ان میں سے کوئی بھی تنظیم مشترکہ طور پر ہائی کمیشن کو پیش کی گئی قرار داد میں مسلمانوں یا اقلیتوں پر کی جانے والی زیادتی کا ذکر کرنے کیلئے تیار نہیں ہوئی۔ البتہ وہاں پر کی جانے والی تقریروں میں ساؤتھ ایشیا سالیڈارٹی گروپ کی امرت ولسن نے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ذکر کیا۔
بہر حال افسوس کا مقام ہونے کے باوجود اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ لندن مین جب جب ہندوتوا جارحیت اور زعفرانی جرائم کے خلاف مظاہرے ہوتے ہیں ان میں ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندگی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔برطانیہ کے کئی شہروں میں ہندوستانی مسلمانوں کی تنظیمیں ہیں اور ہندوستانی مسلمانوں کے زیر سرپرستی چلنے والے بڑے بڑے اسلامی مراکز ہیں۔ یہ تمام تنظیمیں اور مراکز مقامی طور پر بہت سی اہم خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان تنظیموں سے وابستہ ارکان اور سربراہان ہندوستان میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے بارے میں بھی متفکر رہتے ہیں جس کا اظہار وہ ذاتی ملاقاتوں میں کرتے ہیں ۔ تقریباً سب یہ خواہش رکھتے ہیں کہ مسلمانان ہند کے خلاف ہونے والے جرائم کے خلاف برطانیہ سے آواز اٹھے مگر افسوس صد افسوس رویہ بالکل یہ ہے کہ یہ خدمت ان کیلئے کوئی اور انجام دے دے۔ معلوم نہیں اس کی وجہ خوف ہے یا کچھ اور۔

برطانیہ میں ہندوستانی مسلمانوں کی بھاری اکثریت کا تعلق صوبہ گجرات سے ہے جن کی بڑی تعداد تبلیغی جماعت سے وابستہ ہے۔البتہ ہندوستان میں بڑھتی ہوئی ہندوتوا فسطائیت کے خلاف آواز اٹھانے میں ان کی سرد مہری کا الزام نہ ان کے گجراتی ہونے کو دیا جا سکتا ہے اور نہ تبلیغی جماعت سے ان کی وابستگی کو کیونکہ دوسرے صوبوں ، مسلکوں اور جماعتوں سے متعلق ہندوستانی مسلمانوں کا رویہ اور عدم دلچسپی ان سے کسی طرح مختلف نہیں ہے۔ اس کے برعکس ہندوتوا سپورٹر بے حد فعال ہیں ۔ ایک وقت میں نریندر مودی کی برطانیہ میں غیر اعلانیہ پابندی ختم کئے جانے اور پھر تمام مغربی ممالک میں ایک عظیم قائد کے طور پر استقبال کیے جانے کے پیچھے ان ہی تنظیموں کی محنت اورلگن ہے۔

آؤٹ لُک میگزین کی ایک حالیہ رپورٹ (20 دسمبر (2017 کے مطابق ،’’ مغربی ممالک میں ہندوستانی نژاد پیشہ ور جہاں بحثیت اقلیت اپنے حقوق کے بارے میں سخت حساس ہیں اور ان کے تحفظ کیلئے لڑنے کو تیاررہتے ہیں وہیں دوسری جانب وہ اپنے آبائی ملک میں اکثریت کی حکومت اور ہندو قدامت پسندی کی متحرک انداز میں تائید و حمایت کرتے ہیں۔‘‘

پریشر گروپ کے طور پر کام کرنے کیلئے یہاں ایک تنظیم انڈین مسلم فیڈریشن 1969 میں قائم ہوئی تھی۔ کئی سال تک یہ تنظیم نہایت فعال انداز میں کام کرتی رہی یہاں تک کہ بعدمیں اسے اقوام متحدہ سے این جی او اسٹیٹس بھی مل گیا تھا۔مگر آپسی اختلافات اور چودھراہٹ اور اقتدار کی جنگ میں تنظیم آہستہ آہستہ غیر فعال ہوتی چلی گئی اور اب محض مقامی طور پر کام کرتی ہے۔ اس سے ناامید ہو کر گجرات فسادات 2002 کے بعد دوسری تنظیم کونسل آف انڈین مسلمز کے نام سے قائم کی گئی۔ اس تنظیم نے بھی کئی سال قابل تعریف کام کر نے کے بعد ملت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے دم توڑدیا۔