سعودی عرب کے خلاف امریکی عدالت کا فیصلہ ،دونوں ملکوں کے بگڑ سکتے ہیں تعلقات

واشنگٹن۔30مارچ(ایجنسیاں)
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حالیہ دورہ امریکا کے دوران جس طرح ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا اس سے تو لگتا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہت ہی خوشگوار ہو گئے ہیں لیکن گزشتہ روز ایک امریکی عدالت نے ایسا فیصلہ سنا دیا ہے کہ جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات بری طرح بگڑ سکتے ہیں۔
نائن الیون دہشتگردی کے متاثرین کی جانب سے امریکی عدالتوں میں سعودی عرب کے خلاف قائم کرنے کی درخواستیں کئی سال سے زیر سماعت تھیں۔ سعودی عرب نے ہر ممکن کوشش کی کہ امریکی عدالتیں اس کے خلاف قانونی کاروائی نا کریں لیکن اب ایک امریکی جج نے فیصلہ سنادیا ہے کہ سعودی عرب کوبہرصورت 9/11 دہشتگردی میں سہولت کاری اور متاثرین کو اربوں ڈالر ہرجانے کی ادائیگی سے متعلقہ مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی ڈسٹرکٹ جج جارج ڈینیلز کا کہنا تھا کہ ’جسٹس اگینسٹ سپانسر ز آف ٹیرر ازم ایکٹ 2016ئ ‘ کے تحت وہ ان مقدمات کی سماعت کر سکتے ہیں۔ سعودی عرب کا شروع دن سے یہ موقف رہا ہے کہ 9/11 کی دہشتگردی سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ دہشتگردی کے اس واقعے میں ورلڈ ٹرینڈ سنٹر کی عمارت سے دو طیارے ٹکرائے جبکہ امریکی محکمہ دفاع کے ہیڈکوارٹرز پینٹا گون پر بھی حملہ ہوا اور ایک طیارہ ریاست پنسلوانیا میں گر کر تباہ ہوا۔ اس دہشتگردی میں تین ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔
امریکی عدالت کے فیصلے کا اطلاق 9/11 دہشتگردی میں ہلاک ہونے والے تقریباً تین ہزار افراد اور 25 ہزار سے زائد زخمی ہونے والے افراد کے دعوں پر ہوگا، جبکہ متعدد کاروباری و انشورنس کمپنیوں نے بھی سعودی حکومت کے خلاف دعوے دائر کررکھے ہیں۔ امریکی عدالت کے تازہ ترین فیصلے پر سعودی حکومت کے وکلاءکی جانب سے تاحال کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔