یورپی یونین مہاجرین کے ساتھ ’غیر اخلاقی‘ رویہ ترک کرے: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین UNHCR نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بحیرہ روم سے ریسکیو کیے گئے تارکین وطن کی بابت ’خطرناک اور غیر اخلاقی‘ رویے سے اجتناب برتے۔
جینوا(ایم این این )
اطالوی کوسٹ گارڈز کے ایک بحری جہاز نے چند روز قبل بحیرہءروم میں ڈیڑھ سو سے زائد تارکین وطن کو ریسکیو کیا تھا، تاہم اطالوی حکومت نے ان مہاجرین کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور یہ امدادی جہاز اطالوی ساحل پر لنگر انداز تو ہے، تاہم مہاجرین اب بھی اس سے اتارے نہیں گئے ہیں۔
اطالوی وزیر داخلہ ماتیو سالوینی کہہ چکے ہیں کہ بحیرہ روم میں ریسکیو کیے جانے والے تارکین وطن کو اطالوی سرزمین پر نہیں آنے دیا جائے گا۔ اطالوی حکومت کی جانب سے یورپی یونین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ان تارکین وطن کو پناہ دے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گراندی کی جانب سے کہا گیا ہے، ”وقت آ گیا ہے کہ ہم مہاجرین کی مدد سے متعلق مختلف ممالک کے درمیان سب سے کم اقدامات کرنے والوں میں سبقت لینے کا رویہ تبدیل کیا جائے۔ یہ طریقہ اب بدلا جانا چاہیے کہ سمندروں میں بچائے گئے مہاجرین کی ذمہ داری کس طرح کسی دوسرے پر ڈالی جا سکے۔“
ہفتے کے روز گراندی کی جانب سے جاری کردہ اس بیان میں کہا گیا ہے، ”یہ خطرناک اور غیراخلاقی عمل ہے کہ مہاجرین اور سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کی زندگیوں کو خطرات کا شکار کر دیا جائے، جب کہ مختلف ریاست میں اپنے اپنے سیاسی مفادات اور طویل المدتی حل ڈھونڈنے کی تگ و دو میں مصروف رہیں۔“
چند روز قبل اطالوی جہاز دیکیوتی نے درجنوں مہاجرین کو ریسکیو کیا تھا، تاہم پیر کو اطالوی ساحل کاتانیہ میں لنگر انداز ہونے والے اس جہاز سے تارکین وطن کو اتارنے کا عمل رکا ہوا ہے۔ سخت گیر موقف کے حامل اطالوی وزیر داخلہ ماتیو سالوینی کہہ چکے ہیں کہ ان مہاجرین کو جہاز سے اترنے کی اجازت صرف اس صورت میں دی جائے گی، جب یورپی یونین کی دیگر رکن ریاستیں انہیں قبول کرنے کی حامی بھریں۔
جمعے کو اس معاملے کے حل کے لیے یورپی یونین کی بارہ رکن ریاستوں کے وفود نے ملاقات کی تھی اور اس سلسلے میں ایک طویل المدتی حل پر غور کیا، تاہم اس اجلاس کا کوئی تعمیری نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔ خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق یورپی یونین کی رکن ریاستوں کو بحیرہ روم میں ریسکیو کیے جانے والے تارکین وطن کی بابت کسی ’اسٹینڈرڈ پروسیجر‘ یا ’عمومی طریقہ کار‘ پر اختلافات ہیں۔

ads
SHARE