نوٹ بندی کے دوسال مکمل ۔اپوزیشن کا چوطرفہ حملہ

نوٹوں کی منسوخی سوچ سمجھ کر کی گئی سفاکانہ سازش تھی۔ یہ گھپلہ وزیراعظم کے سوٹ بوٹ والے دوستوں کی بلیک منی کو سفید کرنے کی اسکیم تھی
نئی دہلی (ایم این این )
کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے نوٹوں کی منسوخی کو سفاکانہ سازش قرار دیتے ہوئے جمعرات کو کہاکہ یہ اصل میں وزیراعظم نریندر مودی کے سوٹ۔ بوٹ والے دوستوں کی بلیک منی کو سفید کرنے کا منصوبہ تھا۔ مسٹر گاندھی نے ٹوئٹر پر کہاکہ نوٹوں کی منسوخی سوچ سمجھ کر کی گئی سفاکانہ سازش تھی۔ یہ گھپلہ وزیراعظم کے سوٹ بوٹ والے دوستوں کی بلیک منی کو سفید کرنے کی اسکیم تھی۔ اس معاملہ میں کچھ معصوم نہیں تھا۔ اس کا کوئی دوسرا مطلب نکالنا قوم کی سمجھ کی توہین ہے۔
اس سے پہلے مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے حکومت کے ذریعہ دو برس قبل کی گئی نوٹوں کی منسوخی کو مکمل طورپر صحیح قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس کا مقصد نقدی کو رسمی معیشت میں لانا اور نقدی رکھنے والوں کو ٹیکس نظام میں شامل کرنا تھا اور اس میں کامیابی ملی ہے۔
اس درمیان کانگریس کے میڈیا انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا نے ٹوئٹ کرکے وزیراعظم پر طنز کیا کہ مودی جی، اہل وطن کو اب تک ’معیشت کو تہس نہس دیوس‘ یعنی نوٹوں کی منسوخی کی دوسری برسی کی مبارکباد نہیں دی؟ کوئی اشتہار بھی نہیں ؟۔ انہوں نے لکھا آپ بھول گئے ہوں گے لیکن اہل وطن کو یاد ہے۔ تیار رہئے،پچھتانے کا وقت اب دور نہیں۔ عوام نوٹوں کی منسوخی کا بدلہ بی جے پی کے خلاف ووٹ کی چوٹ سے لیں گے۔ نوٹوں کی منسوخی آزادی کے بعد سب سے بڑا گھپلہ ہے۔
مسٹر سرجے والا نے الزام لگایا کہ نوٹوں کی منسوخی سے بلیک منی رکھنے والوں کی عیش، راتو ں رات سفید بنایا سارا کیش۔ نہ بلیک منی ملا ، نہ نقلی نوٹ پکڑے گئے، نہ ہی دہشت گردی اور نہ ہی نکسلزم پر لگا م لگی۔ 120 لوگ مارے گئے ، معیشت کو تین لاکھ کروڑ کا نقصان، لاکھوں ملازمتیں گئیں۔
کانگریس کے لیڈر نے کہاکہ وقت آگیا ہے کہ وزیراعظم مودی اس تباہی کی ذمہ داری لیں، جس کی وجہ سے عام لوگوں نے مسلسل درد برداشت کیا۔ وقت آگیا ہے کہ نوٹوں کی منسوخی کی جوابدہی کو یقینی بنانے کا۔وقت آگیا ہے نوٹوں کی منسوخی گھپلہ کی جانچ کا تاکہ قصوروار پکڑے جائیں۔

ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں
Comments: 3

Your email address will not be published. Required fields are marked with *