جاوید اختر کی اپیل پر آرجے ڈی برہم ۔کنہیا کی حمایت میں تنویرحسن سے میدان چھوڑنے کاکیاتھا مطالبہ

پٹنہ25 اپریل( آئی این ایس انڈیا )
بہار میں چوتھے مرحلے کی تشہیر میں صرف دو دن باقی ہیں۔انتخابی تشہیر زور شور سے چل رہی ہے۔ سب کی نگاہیں بیگو سرائے سیٹ پر ہیں، جہاں بائیں بازو کی جماعتوں کے رہنماو¿ں اور فلمی دنیا کی مشہور ہستی جاوید اختر نے آر جے ڈی امیدوار تنویر حسن کو کنہیا کی حمایت میں بٹھانے کی اپیل کی تھی۔ لیکن راشٹریہ جنتا دل نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔راشٹریہ جنتا دل کے قومی ترجمان شیوانند تیواری کا کہنا ہے کہ جاوید اختر مشہور شاعر ہیں، ترقی پسند فکر کے حامل ہیں ،راجیہ سبھا میں ہم لوگ ساتھ تھے۔ جاوید اختر بیگوسرائے گئے تھے۔کنہیا کمار کے لئے ووٹ مانگنے، یہ ان کا حق ہے۔ لیکن ہمارے امیدوار کے لئے حقیر آمیز لہجہ میں انہوں نے بات کی اور ان کو ووٹ دینے والوں سے کہا کہ ان کے بدلے براہ راست بی جے پی کو ہی ووٹ دے دیں۔ ان کے اس بیان کی میں مذمت کرتا ہوں۔ شیوانند کے مطابق اگر سی پی آئی لفظی فاشسٹ قوتوں کو شکست دینا چاہتی ہے تو انہیں بیگو سرائے سے اپنے امیدوار کو ہٹالینا چاہئے۔ میڈیا نے ملک بھر میں کنہیا کا جلوہ بنا دیا ہے، لیکن کنہیا کے پاو¿ں کے نیچے بیگو سرائے کی زمین نہیں ہے۔آر جے ڈی لیڈر نے کہا کہ مہا گٹھ بندھن کے ہمارے امیدوار تنویر حسن ماضی لوک سبھا انتخابات میں بھی آر جے ڈی کی جانب سے بیگو سرائے سے الیکشن لڑے تھے۔ تنویر صاحب کو تین لاکھ ساٹھ ہزار ووٹ ملے تھے۔ سی پی آئی بھی نتیش جی کی پارٹی سے اتحاد بنا کر لڑی تھی۔ انہیں دو لاکھ سے بھی کم ووٹ ملے تھے۔ آج سی پی آئی کنہیا کو امیدوار بنا کر اکیلے لڑ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بیگو سرائے لوک سبھا میں سات اسمبلی حلقہ ہیں۔ ان میں سے پانچ اسمبلی حلقوں میں مہاگٹھ بندھن کے ممبر اسمبلی ہیں۔ سی پی آئی بھی پچھلا اسمبلی لڑ چکی ہے، ان کا کیا حشر ہو ا یہ ان کو یاد ہوگا ۔ واضح ہو کہ جاوید اختر کے والد معروف شاعر جاں نثار اختر ترقی پسند کے حامی تھے ، ترقی پسندی کی حمایت ان کی نظمیں کافی مقبول ہوئیں، ان کے والد کا شمار ترقی پسند ی کے بانیوں میں ہوتا ہے ۔