جبل پور 25 اپریل(آئی این ایس انڈیا)
چھتیس گڑھ کے وزیراعلیٰ بھوپیش بگھیل نے بھوپال سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی امیدوار سادھوی پرگیہ ٹھاکر پر چھتیس گڑھ میں چاقوبازی کے معاملے میں شامل ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ عادی مجرم ہیں۔پرگیہ سال 2008 میں ہوئے مالیگا¶ں بم دھماکے کیس میں ملزم ہیں اور فی الحال ضمانت پر ہیں۔مدھیہ پردیش کی بھوپال لوک سبھا سیٹ سے ان کا اہم مقابلہ کانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ سے ہے۔بگھیل نے ایک سوال کے جواب میں بتایاکہ جہاں تک پرگیہ ٹھاکر جی کی بات ہے، ہمارے چھتیس گڑھ سے بھی ان کے تعلقات رہے ہیں۔بلائی گڑھ میں ان کے جیجاجی گودام میں کام کرتے تھے اور سال 2001 کا واقعہ ہے،وہ (پرگیہ) ہمیشہ چاقو لے کر چلتی تھی اور شیلیندر دےواگن نام کے نوجوان کے سینے میں چاقو گھونپا تھا۔بھوپیش بگھیل نے کہاکہ متعدد مارپیٹ کے واقعے ہوتے رہے ہیں اور شروع سے عادی مجرم کی طرح ان کا (پرگیہ) رویہ رہا ہے۔ بگھیل نے کہاکہ ایک سادھوی کی طرح برتا¶ ان میںدکھائی دیتا نہیں۔ان سے پوچھا گیا تھا کہ سادھوی پرگیہ ٹھاکر کو بھوپال لوک سبھا سیٹ سے اتار کر کیا بی جے پی ہندوتو کو انتخابی ایشو بنا رہی ہے۔وہیں مدھیہ پردیش بی جے پی کے ترجمان ہتیش باجپئی نے وزیر اعلی بگھیل پر انتخابی فائدہ اٹھانے کے لئے غلط بیان بازی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ بگھیل جی وزیر اعلی ہیں،انہیں ہوش و حواس میں بات کرنی چاہئے اور بغیر ثبوتوں کے سادھوی جی کے خلاف ایسا بے بنیاد بیان نہیں دینا چاہئے تھا۔ باجپئی نے کہاکہ سادھوی جی کے خلاف دئے گئے اپنے بیان پر وہ (بگھیل) فوری طور پر معافی مانگیں،اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو ہم ان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کریں گے۔






