ہندومسلم عیسائی سمیت متعدد مذاہب سے تعلق رکھنے والے سیلاب متاثرین کیلئے جمعیت نے بنوائے مکانات ۔ ہم کوئی بھی کام مذہب دیکھ کر نہیں کرتے :مولانا ارشد مدنی

دلاسہ تو سب نے دیا مگر کام جمعیةعلماءہند نے کیا ۔گھر کی چابیاں وصول کرنے کے بعد کیرالہ سیلاب متاثرین کا مجموعی تاثر
نئی دہلی (کنورکیرالہ)(ملت ٹائمز)
لوگ آئے دلاسہ دیکر چلے گئے مگر کام جمعیةعلماءہند نے کیا ،یہ مجموعی تاثرکیرالہ کے ان سیلاب متاثرین کا ہے جنہیں گزشتہ روزصدرجمعیةعلماءہند مولانا سید ارشدمدنی نے خوداپنے دست مبارک سے نوتعمیرشدہ گھروں کی چابیاں سپردکیں ، چابیاں پاکر یہ لوگ کچھ اس قدرجذباتی ہوچکے تھے کہ جب ان سے ان کے تاثرات جاننے کی کوشش کی گئی تو وہ زبان سے توکچھ نہ کہہ سکے البتہ ان کی آنکھیں مارے خوشی کے چھلک پڑیں، ایک عمررسیدہ بیوہ عیسائی خاتون سروجنی نے سسکیوں کے درمیان اپنی مقامی زبان میں کہا، گاڈمدنی صاحب کو سلامت رکھے کہ انہوں نے ہمارے دردکو محسوس کیا اورہمیں ایک چھت فراہم کی ، اس بیوہ خاتون کی کہانی بہت دردناک ہے اکلوتابیٹا شوگرکا مریض ہے اوراس کی وجہ سے نہ صرف اپنے دونوں پیروں سے محروم ہوچکاہے بلکہ اس کے گردے بھی خراب ہوچکے ہیں ، کسی طرح محنت مزدوری کرکے یہ حوصلہ مندخاتون دووقت کی روٹی کابندوبست کرتی ہے اوربیٹے کا حسب استطاعت علاج بھی کراتی ہے ، سال بھرپہلے سیلاب کی شکل میں یہاں جوقیامت صغریٰ نازل ہوئی اس میں اس کاگھربھی بہہ گیاتھا ، اب اس کے سامنے روزی روٹی اوربیٹے کے علاج کے ساتھ ساتھ سرپر ایک عددچھت کا بھی مسئلہ آن کھڑاہواتھا ،.

واضح ہوکہ کیرالہ میں آئے تاریخ کے اس بھیانک سیلاب سے ہزارہاگھروں کا نام ونشان مٹ گیاتھا ، قیامت گزرگئی توکچھ لوگوں نے کسی مددکے بغیر اپنے گھرکی تعمیر کروالی تھی لیکن بڑی تعدادمیں ایسے لوگ تھے جوکسی مددکے بغیر ایسا نہیں کرسکتے تھے ، جمعیةعلماءہند کو جب اس صورت حال کا علم ہوا تواس نے مولانا مدنی کی نگرانی میں وہاں ایک تعمیراتی منصوبہ شروع کیا ، اس کی کئی ٹیموںنے مل کر سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے ایک سروے رپورٹ تیارکی جس کی بنیادپر پہلے مرحلہ میں 66مکانوں کی تعمیر کاکام شروع ہوا ان میں سے 40تیارشدہ مکانوں کی چابیاں گزشتہ روز متاثرین کے حوالہ کی جاچکی ہیں جبکہ 90مکانوں کی مرمت کا کام بھی مکمل ہوچکاہے ، یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ ان مکانات کی تعمیر کیرالہ کے معیارزندگی کو سامنے رکھ کر کی گئی ہے جن پر لاگت بھی زیادہ آئی ہے ، متاثرین کوچابیاں سپردکرنے کے تعلق سے ضلع کنورکے پلم پرمبا کے بابل گرینس کنونشن سینٹرمیں ایک باوقار تقریب منعقد کی گئی جس میں ہزاروں کی تعدادمیںعلماء،مقتدرشخصیات اور سماجی کارکنان نے شرکت کی ، اس موقع پر حاضرین کے بے حد اصرارپر مولانامدنی نے ایک مختصرمگر پراثرخطاب بھی کیا ابتدامیں آپ نے جمعیةعلماءہند کے اغراض ومقاصد اور اس کی تاریخ پر روشنی ڈالی اورکہا کہ جمعیةعلماءہند کاپارلیمنٹ یااسمبلی کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ ملک کی آزادی کے لئے علماءکی جماعت ڈیڑھ سوبرس تک قربانی دیتی رہی جب ملک آزادہوا تو ہمارے اکابرین نے فیصلہ کیا کہ ہماراسیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اب ہم مسلمانوں کی دینی خدمت کریںگے اورمذہب سے اوپراٹھ کر لوگوں کے لئے کام کریںگے ، مولانا مدنی نے کہا کہ جہاں کہیں کوئی مصیبت آتی ہے یا قدرتی آفات نازل ہوتی ہیں ہم مذہب سے اوپر اٹھ کر اپنی بساط بھر لوگوں کی مددکرتے ہیں ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ کام بس ہم ہی کرتے ہیں اورلوگ بھی کام کرتے ہیں لیکن جمعیةعلماءہند کی خصوصیت یہ ہے کہ ہندومسلم اورعیسائی کی تفریق کئے بغیر جو بھی مصیبت کا شکارہوتاہے اس کی مددکرتی ہیں ، مولانا مدنی نے بتایا کہ اس سے پہلے بہار، آسام ، اور کشمیر میں جب سیلاب آیا توکس طرح جمعیةعلماءہند نے لوگوں کی مددکی ، انہوں نے مزیدوضاحت کی کہ مصیبتیں صرف آسمانوںسے ہی نازل نہیں ہوتی بلکہ یہ انسانوں کے ذریعہ بھی دوسرے انسانوں پر نازل کردی جاتی ہیں اس حوالہ سے انہوں نے کئی واقعات کا حوالہ دیا اور کہا کہ آسام میں بوڈوقبائل اور غیربوڈوقبائل میں جب نسلی جنگ ہوئی تو تقریبا ساڑے تین لاکھ لوگ بے گھر ہوگئے تھے اس میں ہندواور مسلمان دونوں تھے ، جمعیةعلماءہند نے وہاں 500سوسے زائد مکانات تعمیر کروائے اور اس کی تقسیم میں کوئی مذہبی تفریق نہیں کی انہوں نے مختصرلفظوں میں جمعیةعلماءہند کی حالیہ کارکردگی کا خاکہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح آسام شہریت معاملہ میں اس نے کامیاب قانونی جدوجہدکی اور جس کی وجہ سے لاکھوں خواتین کی شہریت پر منڈلانے والا خطرہ ٹل گیا اس میں بڑی تعدادمیں ہندوخواتین بھی شامل تھیں ، اسی طرح دہشت گردی کے الزام میں بند بے گناہ مسلم نوجوانوں کو قانونی امدادفراہم کرنے کا جوازبھی انہوں نے پیش کیا اور بتایا کہ جمعیةعلماءہند کی طویل قانونی امدادکے نتیجہ میں کس طرح سیکڑوں مسلم نوجوانوں کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے اور رہاہونے میں مددملی مولانا مدنی نے کہا کہ قتل وغارت گری کہیں بھی ہوجمعیةعلماءہند اس کے خلاف ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی شخص کسی بے قصورکو قتل کرتاہے تو وہ انسان نہیں شیطان ہے اس لئے کہ اللہ کو ماننے اور اس کے بھیجے ہوئے مذہب کی پیروی کرنے والا کسی بے قصورکو قتل نہیں کرسکتا،

مولانا مدنی نے آگے کہا کہ ہم سب ایک ہی ماں باپ سے پیداہوئے ہیں سب اللہ کی مخلوق ہیں اور دنیاکا کوئی بھی مذہب ظلم کی اجازت نہیں دیتا انہوں نے قرآن کی آیات اور احادیث کا حوالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کا ماننے والا کبھی دہشت گردنہیں ہوسکتااور یہ کہ اسلام کا دہشت گردی سے دورکا بھی تعلق نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ دنیا اسلام سے ڈرتی ہے اس لئے اس کی تصویر خراب کرکے پیش کرنے کی منظم کوشش ہورہی ہے تاہم انہوں نے اس بات پر تاسف کا اظہارکیا کہ ہم دنیاکے سامنے اسلام کی صحیح تصویر پیش نہیں کرپائے ، انہوں نے آگے کہا کہ جمعیةعلماءجو کچھ کررہی ہے اس میں اللہ کی نصرت اور تائید شامل ہے ورنہ ہمارے پاس کیا ہے ہم تو ایک ہاتھ سے لیتے ہیں اور دوسرے ہاتھ سے خرچ کردیتے ہیں انہوں نے آخرمیں کہا کہ جمعیةعلماءہند کے ملک بھرمیں ایک کروڑسے زائد ممبرہیں اوریہ اپنی انسانی خدمت کی بنیادپرہی جانی اورپہچانی جاتی ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ قدرتی آفات ہو یا فسادات جب یہ وقوع پزیر ہوتے ہیں توسب بے چین ہوجاتے ہیں غیر سرکاری تنظمیں بھی سرگرم ہوجاتی ہیں اورامدادکی یقین دہانیوں کا لاامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتاہے لوگوں کے بیانات اخبارات کی سرخیاں بنتے ہیں مگر پھریہ ہوتاہے کہ رفتہ رفتہ ساراجوش ٹھنڈاہوجاتاہے اس کے بعد متاثرین کی خبرگیری کوئی نہیں کرتاکوئی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتاکہ اب متاثرین کس حال میں ہیں، مظفرنگرفسادمتاثرین اورکیرالہ سیلاب زدگان کے ساتھ بھی یہی ہوا، ابتدامیں تو ہر کسی نے مددکے لئے ہاتھ بڑھایا طرح طرح کے اعلانات سامنے آئے مگر وقت گزرنے کے ساتھ سب نے متاثرین کو فراموش کردیا لیکن جمعیةعلماءہند نے متاثرین کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا۔ اس تقریب میں مولانا عبدالشکورکیرالہ ، مولانا اسحاق صاحب صدرجمعیةعلماءکیرالہ،
مولانا سفیان صاحب مہتمم الجامعة الحسینی ، پی پی حاجی ابراہیم ، جناب مفتی غیاث الدین صاحب صدرجمعیةعلماءتلنگانہ وآندھرا، حافظ ارشداحمد میسور، جناب محب اللہ امین بنگلورکرناٹک وغیرہ نے خصوصی طورپر شرکت کی۔