رحمانی 30 بچیوں کے بیچ کی 100%کامیابی کی وجہ سے چھوٹی
پٹنہ( پریس ریلیز)
انسٹیٹیوٹ آف نیشنل امپارٹنس اور دیگر انجینئرنگ اور آرکے ٹیکچر کے داخلے کے لئے جوائنٹ اینٹرنس ایگزامینیشن (جے ای اے مینس) مقابلہ جاتی امتحان کے نتیجے کو نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے شائع کر دیا ہے۔ رحمانی پروگرام آف ایکسیلنس (رحمانی ۰۳) کے طلباءاور طالبات نے شاندار اور بہت نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔کل ۲۹۱ میں سے ۱۳۱ طلباءکامیاب ہوئے ، حیرت انگیز بات یہ بھی ہے کہ رحمانی ۰۳ انجینئرنگ اسٹریم میں بچیوں کے بیچ نے کمال کا مظاہرہ کیا ہے، ایک بچی کو چھوڑ کر بقیہ تمام نے جے اِی اِی کے اس سخت امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کے امسال رحمانی پرگرام آف ایکسیلینس کے میڈیکل بیچ کے ۲۲ بچیوں نے انجینئرنگ کے اس امتحان میں حصہ لیا اور ان میں سے ۷۱ کامیاب بھی ہوئے ، رحمانی تھرٹی کے اورنگ آباد میں بچیوں کے میڈیکل بیچ میں سے نو بچیوں نے سخت امتحان میں حصہ لیا اور ان میں سے تین کا میاب رہے،یہ ایک بے مثال کامیابی ہے اور رحمانی پروگرام آف ایکسیلینس کے طریقہ کار کی سند ہے۔ یہ طلبہ ان شعبوں کے لئے بہت مناسب ہوں کے جہاں مختلف موضوعات کی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے جیسے کہ با یو انجینئرنگ۔
رینکنگ کے نقطہ نظرسے رحمانی ۰۳ کے بچوں نے جنرل کیٹگری میں۱۲۴۱،۳۳۶۱،۶۶۷۲، ۸۹۰۳ اور ای ڈبلیو ایس کیٹیگری میں ۸۰۳۱ جبکہ او بی سی کیٹگری میں ۲۸۰۱، ۸۶۱۱ اور ۳۵۴۲ رینک حاصل کیا ہے۔
اسی سال نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے جے اِی اِی مینس کے اس مقابلہ جاتی امتحان کو دو دفعہ لیا، پہلی دفعہ یہ امتحان جنوری میں ہوا ،اور اس میں تقریبا دس لاکھ بچوں نے حصہ لیا اور دوسری دفعہ اپریل میں ہو ا،اور اس میں بھی تقریبا دس لاکھ بچوں نے حصہ لیا ، جے اِی اِی مینس کے اس امتحان میں کامیاب ہونے والے بچے جے ِای ِای ایڈوانس میں حصہ لے سکیںگے۔ جے اِی اِی ایڈوانس میں کامیاب بچوں کو انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں داخلہ ملنا ہے۔
رحمانی پروگرام آف ایکسیلینس اپنے سرپرست تنظیم رحمانی فاﺅنڈیشن کے ساتھ بہت مﺅثر انداز میں کمیونٹی کی تعلیمی نا امیدی کی جگہ کامیابیوں اور تعمیری خواب اور اس کی تکمیل کی قوت میں تبدیل کر دیا ہے۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ یہ اپنی تعلیمی منہج کو بہتر بنانے میں بھی کامیاب ہو رہے ہیں۔ حضرت امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب جو اس تنظیم کے بانی ہیں اس کی کامیابی کا سہرا جناب ابھیانند جی کی انتھک محنت اور رہنمائی، سنٹر لیڈرشب، فیکلٹی، مینمنٹ، عملہ، طلباءاور ان کے والدین کے درمیان مقصد کی شناسائی ، اسکے حصول کے فیصلے، اور باہمی تعاون کو دیتے ہیں۔ انہوں نے کئی دفعہ اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ نتیجہ باہمی تعاون کے بغیر ناممکن ہے خاص کرکے جبکہ رحمانی پروگرام ایکسیلینس کا تعلیمی طریقہ اور منہج روایتی طریقہ سے مختلف ہیں جو کہ بچوں کو سوچنا اور سیکھنا سکھاتا ہے۔






