نئی دہلی(آئی این ایس انڈیا)
1984 کے سکھ مخالف فسادات پر کانگریس لیڈر سیم پترودا کے بیان نے انتخابی موسم میں ہلچل مچا دی ہے۔سیم پترودا کی صفائی کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی اس مسئلے کو پرزور طریقے سے اٹھا رہی ہے۔بی جے پی نے اس مسئلے پر پریس کانفرنس کرکے کہا ہے کہ کانگریس سیم پترودا کو پارٹی سے باہر نکالے۔ہفتہ کو دہلی میں واقع پارٹی ہیڈکوارٹر میں بی جے پی ترجمان سمبت پاترا نے کہا کہ 1984 میں جو ہوا وہ قتل عام تھا اور اس کے لئے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو معافی مانگنی چاہئے۔سمبت پاترا نے الزام لگایا ہے کہ سکھوں کو گھروں سے نکال کر ان کا قتل کیا گیا اور یہ سب کانگریس لیڈروں اور کارکنوں نے کرایا۔پاترا نے کہاکہ سکھوں کی شناخت کے لئے کانگریس کارکنوں نے اسکول رجسٹریشن فارم، ووٹر لسٹ اور راشن کارڈ سے معلومات لی۔کانگریس لیڈروں نے سکھوں کے گھروں پر ایس لکھ کر انہیں باہر نکال کر قتل کرنے کی سازش رچی۔سمبت پاترا نے کہا کہ اتنی خطرناک سازش پر اب کانگریس لیڈر سیم پترودا نے ’ہوا تو ہوا‘ کہہ کر جلے پر نمک چھڑکنے کا کام کیا ہے۔پاترا نے کہا کہ کانگریس نے سکھ مخالف فسادات کے لئے ایک سردار یعنی منموہن سنگھ سے معافی منگوائی،جبکہ معافی سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو مانگنی چاہئے۔وہیں پریس کانفرنس میں سمبت پاترا کے ساتھ بی جے پی لیڈر آر پی سنگھ بھی موجود رہے۔انہوں نے کہا کہ جب سکھوں کے خلاف یہ قتل عام کیا گیا، تب کانگریس انا میں تھی، لیکن آج بھی سیم پترودا کہہ رہے ہیں ہوا تو ہوا۔آر پی سنگھ نے کہا کہ سیم پترودا راجیو گاندھی کے قریبی تھے اور ان کا یہ بیان راجیو گاندھی کی ذہنیت کو ہی عکاسی کرتا ہے۔آر پی سنگھ نے دعوی کیا کہ 1984 میں قتل کرنے والوں کے سرغنہ راجیو گاندھی تھے۔






