بھونیشور(آئی این ایس انڈیا)
تقریباََہر سال قدرتی آفات کا قہر جھیل رہے اڑیسہ کے لیے وزیراعلیٰ نوین پٹنائک نے مرکزی حکومت سے خصوصی ریاست کادرجہ دیئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔تین مئی کو آئے تباہ کن طوفان فانی کے اڑیسہ میں تباہی برپا کرنے کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں پٹنائک نے کہا کہ اڑیسہ میں بنیادی ڈھانچے کو ہوئے نقصان کو دیکھتے ہوئے اسے خصوصی ریاست کا درجہ ملناضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت سے یہ ہمارے اہم مطالبات میں سے ایک ہے۔اڑیسہ کو اب تقریبا ہر سال قدرت کا قہر جھیلنا پڑ رہا ہے۔مرکز سے ملنے والی مدد سے بنیادی ڈھانچہ عارضی طور پر بحال ہو سکے۔ہمیں طویل مدتی کام کے لئے ریاست کے اپنے فنڈ میں سے خرچ کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اپنے فنڈ میں سے خرچ کرنے پر ہماری معیشت پر دبا¶ بنتا ہے۔اس کی وجہ سے اڑیسہ کو خصوصی ریاست کا درجہ ملنا ہی چاہیے۔گزشتہ پانچ سال میں ہم نے کئی قدرتی آفات کا سامنا کیا ہے۔سیلاب کی مار بھی ریاست کو جھیلنی پڑی۔ پٹنائک نے کہاکہ ہمارے یہاں ترقی کی شرح بہت اچھی رہی ہے اور سماجی و اقتصادی انڈیکس پر ہم نے بہتر کارکردگی کی ہے۔خصوصی ریاست کا درجہ ملنے سے ریاست میں ترقی کی رفتار میں اضافہ ہوگا۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اڑیسہ کے لئے ایک ہزار کروڑ روپے کی مدد کا اعلان کیا تھا۔انہوں نے متاثرہ علاقوں کا ہوائی دورہ کرنے کے بعد بروقت کارروائی کرکے لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے پٹنائک حکومت کی تعریف بھی کی تھی۔ فانی طوفان سے 41 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔اس پر وزیر اعلی نے کہاکہ یہ ٹیم ورک ہے اور بہت بڑے پیمانے پر اقدامات کرنے کے لیے ٹیکنالوجی نے ہماری کافی مدد کی۔انہوں نے تسلیم کیا کہ طوفان کی ٹائمنگ اور عام انتخابات اسی دوران ہونے سے حکومت کے لیے چیلنجز سنگین ہو گئے تھے۔72 سالہ وزیر اعلی نے کہاکہ یقینی طور پر سب کچھ ایک ساتھ ہونے سے مشکلات بڑھ گئی۔موسم گرما کے دن میں عام طور پر طوفان نہیں آتا۔اڑیسہ میں اب تک زیادہ تر طوفان اکتوبر سے دسمبر کے درمیان آئے ہیں۔اڑیسہ کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں کتنا وقت لگے گا، یہ پوچھنے پر پٹنائک نے کہا کہ ان کی حکومت جلد از جلد ایسا کرنے کے پوری کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم اپنی طرف سے کوئی کمی نہیں چھوڑیں گے۔ بجلی کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر ٹھپ ہو گیا ہے، خاص طور پر پوری اور کھردا ضلع میں جہاں ہمیں نئے سرے سے منظم کرنا ہوگا۔






